(ڈاکٹر ظہور احمد اعوان)
لیجئے صاحب اگر سیاست کھیل تماشہ نہیں ہے تو سنئے اور دیکھئے کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ اس سیاسی و جمہوری کھچڑی میں تھوڑا سا تخیل بھی ڈال لیں تو مزہ دوبالا ہوجائیگا۔ مزے اور مذاق کی انگلیاں چاٹتے نہ رہ جائیں تو میرا نام نہیں۔ نوازشریف نے تجویز پیش کی ہے بلکہ پیشکش کی ہے کہ پرویز مشرف کو ہٹا کر آصف علی زرداری کو صدر پاکستان بنا دیاجائے اور وزیراعظم کی پوسٹ خالی نہ ہو تو اسے خالی کروا کے جواب آں غزل یا من ترا حاجی بگویم و تو مرا حاجی بگو کے مصداق اس پر جناب نوازشریف کو وزیراعظم بنا دیا جائے، اللہ اللہ خیر سلا!
پاکستان کے سارے مسائل چٹکیوں میں حل، جب گوشت چیل کے گھونسلے میں رکھ دیا جائے تو اس سے محفوظ جگہ گوشت کیلئے اور کیا ہوسکتی ہے۔ سنئے اور تصور کا تڑکہ لگائیے جناب قاضی حسین احمد کو نئے صدر پاکستان وزارت مذہبی امور سونپ دیں کہ وہ پورا اسلام نافذ کردیں۔ فٹافٹ، یا اگر یہ کام ان سے فی الفور ممکن ہوتا نظر نہ آئے تو اپنے مولانا فضل الرحمن تو ہیں ہی ہر مرض اور مشکل کی دوا، اور وہ تو منتخب بھی ہوچکے ہیں۔ قاضی صاحب کو کسی ضمنی انتخاب میں سامنے لانے میں ممکن ہے کچھ دشواریاں بھی ہوں۔ اب رہ گئی وزارت خارجہ کی پوسٹ، وہ بھی ان دونوں علماءحضرات میں سے کسی ایک کو دی جاسکتی ہے۔
جہاں تک وزیر دفاع کا تعلق ہے اس کیلئے پاکستان کے پاس بنا بنایا ریڈی میڈ ایک نسیم حجازی نما جرنیل جناب عالی قدر جنرل ریٹائرڈ حمید گل کی صورت میں دستیاب ہے۔ وہ آخری چٹان بن کر تلوار کو ٹوٹنے سے بچالیں گے۔ پہلے انہوں نے روس کو افغانستان میں شکست دیکر امریکہ پر دھاک بٹھا دی تھی، اب وہ اسی افغانستان میں امریکہ کو شکست فاش سے ہمکنار کرکے روس پر دھاک بٹھا سکتے ہیں بلکہ وہ ایک اعلیٰ پائے کے وژنری ہیں۔ دنیا کا ہر کام کرسکتے ہیں، ایسے زبردست مقرر و خطیب و انگریزی دان ہیں کہ امریکیوں اور انگریزوں کے چھکے چھڑا سکتے ہیں۔ اس بے لیڈر Rudderless قوم کو اپنے ایسے سپوتوں کی بلند پایہ خدمات سے استفادہ کرنا چاہئے۔
وزارت خارجہ بڑی پوسٹ ہوتی ہے اس لئے اس قوم کو جناب عمران خان نیازی عرف ہیرو آف پاکستان سے بہتر آدمی کہاں مل سکے گا۔ جہاں تک منتخب ہونے کا تعلق ہے تو پورا پاکستان ان کا حلقہ انتخاب ہے۔ وہ کہیں سے بھی منتخب ہوسکتے ہیں اور کوئی محب وطن پاکستانی ان کیلئے اپنی سیٹ چھوڑنے کو اپنا اعزاز سمجھے گا، سوائے جناب شیرافگن نیازی صاحب کے جن کی اپنی ہی واحد سیٹ ہوا میں تحلیل ہو کر اور اڑ کر کہیں اور چلی گئی۔ چشم تصور سے دیکھیں کہ اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں ہمارا شیر دھاڑتا کیسا اچھا نظر آئیگا، لوگ ذوالفقار علی بھٹو کو بھول جائیں گے۔ جناب عمران خان نیازی جب عالمی دارالحکومتوں میں بڑے بڑے حکمرانوں اور ان کی بیگمات سے بین الاقوامی امور پر مذاکرات کرتے اور فوٹو سیشن میں نمودار ہوتے نظر آئیں گے تو پاکستان کا کیسا حسین امیج دنیا بھر میں نشر ہوگا۔ ان کو وزارت کھیل و ثقافت کا اضافی قلمدان بھی سونپا جاسکتا ہے جو ان پر پوری طرح شوبھا دیگا۔
ڈاکٹر نسیم اشرف کو اب امریکہ جاکر اپنی طبی پریکٹس دوبارہ سے شروع کرنے کیلئے کہا جاسکتا ہے وہ بڑے بی بے آدمی ہیں، چلے جائیں گے، اس طرح کرکٹ کا میدان بھی خان صاحب کیلئے خالی ہوجائیگا۔ جہاں تک وزارت داخلہ کی اہم پوسٹ کا تعلق ہے اس کیلئے بڑے بڑے امیدوار طلب گار وطن عزیز کے چپے چپے پر موجود ہیں۔ جناب آفتاب شیرپاﺅ صاحب یہ کام بڑے احسن طریقے سے سرانجام دے رہے تھے، اس کیلئے میرے ذہن میں دو نام دھڑک رہے ہیں۔
ایک اپنے جی دار بلند آہنگ جناب اسفند یار ولی صاحب کہ جواں بھی ہیں اور بہادر بھی۔ ان کا تعلق بھی اسی صوبے اور چارسدہ ڈسٹرکٹ سے ہے اس لئے بہت اچھے نعم البدل ثابت ہوسکتے ہیں۔ دوسرا نام اس حوالے سے سب سے زیادہ مستند ہے، وہ ہے نصیر اللہ بابر کا۔ وہ اس کام کا بڑا تجربہ رکھتے ہیں اور کراچی میں اپنے کارناموں کی دھاک بٹھا چکے ہیں۔ کراچی کو کنٹرول کرنے کیلئے بابر صاحب سے بہتر آدمی شاید ہی پاکستانی سیاست کو دوسرا دستیاب ہو، مگر ان کی عمر شاید پورے ملک کا داخلی نظم و نسق سنبھالنے پر مائل نہ کرسکے تو ان کیلئے سب سے بہتر پوسٹ سندھ کا گورنر بن جانے کی ہے۔ وہ کراچی میں ہی رہیں گے۔ وفاق اور آصف علی زرداری کے نمائندے بھی ہوں گے اور کراچی کو بھی ایم کیو ایم کی موجودگی، برتری اور جیت کے باوصف اپنے قابو میں رکھ سکیں گے۔
یہ طے ہے کہ کراچی کو یا الطاف حسین کنٹرول کرسکتے ہیں یا نصیر اللہ بابر۔ ان کو صوبہ سرحد کا گورنر بھی بنایا جاسکتا ہے خاص طور پر قبائلستان، وزیرستان اور افغانستان میں جو شورشیں برپا ہیں ان کا سدباب جنرل بابر صاحب جیسے ہی مردان میدان و باصفا و با وفا وفاق پسندوں سے ہی ممکن ہے اسی طرح دوسرے صوبوں میں بھی اعلیٰ پائے کے مدبر اور ہنرمند پائے جاتے ہیں، مثلاً پنجاب میں ایک سچ مچ کا شیر لیڈر بھی پایا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا سابقہ دست راست شیر پنجاب جناب غلام مصطفی کھر صاحب سے بہتر شیر پنجاب دوسرا دستیاب نہیں ہوسکتا مگر یہاں یہ مسئلہ ضرور سامنے آئیگا کہ کھر صاحب کے کچھ عرصے کیلئے شیر پنجاب کے منصب سے الگ ہونے کے بعد جناب شہبازشریف نے شیر پنجاب والی شیروانی پہن لی تھی اور شہبازشریف اس وقت زبردست طریقے سے اِن ہو کر پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے والے ہیں اس لئے دو شیروں کے ایک کچھار یا دو تلواروں کے ایک میان میں سمانے میں زرداری صاحب کو دشواریاں آئیں گی۔
جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے، سب سے بڑا جغرافیائی صوبہ ہے، اس کا دل بھی بڑا ہے۔ اس پر کسی قسم کا گورنر لاگو کردیا جائے، ان کی حب الوطنی قبول کرلیتی ہے۔ اگر ایک بڑے اور سابق شیر پنجاب کو وہاں روانہ کردیا جائے تو ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں گے۔ جہاں تک زرداری صاحب کے صدر پاکستان بننے کی بات ہے، بڑی ہی مزیدار ہے۔ جناب نوازشریف بڑی ذائقے دار باتیں کرنے کے ماہر ہیں۔ جو بات کسی کے ذہن میں نہ آسکی وہ جناب نوازشریف کے ذہن رسا میں کیسی عمدگی سے آگئی۔ زرداری کا کانٹا ان کے پاﺅں سے نکل گیا تو پھر میدان صاف ہے مگر زرداری صاحب شاید پاکستان میں سونیا گاندھی بن کر بادشاہ گری کے فرائض نبھانے کو زیادہ اہمیت دیں۔