اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

کنکریاں۔ عباس اطہر
سندھ اسمبلی میں سابق وزیراعلٰی ارباب رحیم کی دوسری مرتبہ پٹائی اور لاہور میں سابق وفاقی وزیر شیر افگن کا محاصرہ، یہ دو ایسی خبریں ہیں جو ”اکیڈیمک“ زبان میں قابل مذمت ہیں لیکن ان کا پیغام بہت واضح ہے۔ پچھلے آٹھ سالہ انداز حکمرانی نے عوام کے اندر اتنی تلخی بھر دی ہے کہ اب سابق دور حکومت سے تعلق رکھنے والا کوئی آدمی بھی کھلے عام عوام میں نہیں آ سکتا۔ بلاشبہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ کسی بھی شخصیت کے ساتھ اس کا کوئی دشمن، عوامی ردعمل کی آڑ میں کوئی بدترین واردات بھی کر سکتا ہے۔اس واقعے میں بھی یہ بات نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ وکلا اور مشتعل عوام کی موجودگی اپنی جگہ حقیقت ہے لیکن شیر افگن کی چھترول ”سادہ پوشوں“ نے کی جو ظاہر ہے کسی ”سازش“ کا کھلا اشتہار ہے۔ اس سازش کی تفصیل کافی حد تک سامنے آ چکی ہے لیکن میں فی الحال صرف عوامی جذبات کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔
ارباب رحیم کی جوتیوں سے پٹائی ہو یا ڈاکٹر شیر افگن کو کئی گھنٹے خوف و ہراس کی کیفیت میں قید رکھنے کا معاملہ، کوئی شخص اسکی حمایت نہیں کر سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ عوام میں اس قسم کے جذبات پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ جواب ظاہر ہے کہ سابق حکمرانوں کا انداز حکمرانی ہی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے اپنے پورے دور اقتدار میں کسی مخالف کو برداشت نہیں کیا اور عوام کیلئے مسائل اور مشکلات اتنی زیادہ بڑھا دیں کہ ان کے دل حکمرانوں کیلئے نفرت سے بھر گئے۔ ٹی وی پر ڈاکٹر شیر افگن اپنے موبائل سے ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ کسی آدمی کو اس طرح قید کر دیا جائے۔ عوام کا اس پر فوری ردعمل یہ سوال تھا کہ شیر افگن کی حکومت نے ججوں کو اتنے مہینے قید رکھا، وہ اچھی بات تھی؟ ججوں کو نہ صرف قید میں رکھا گیا بلکہ ان کے اہل خانہ اور معصوم بچوں کو بھی غیر انسانی ذہنی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ شیر افگن جب وزیر تھے تو ججوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کیلئے وکلا کے سر جس بیدردی سے پھوڑے گئے۔ ڈاکٹر شیر افگن کو اچھی یاد ہو گا۔ وکلاءپر اتنا بدترین تشدد کیا گیا جس کی کسی اور ملک میں مثال نہیں ملتی۔ ڈاکٹر شیر افگن نے اس تشدد کی مذمت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا اور ان میں شکر گزاری کی کوئی رمق موجود ہو تو وہ اس بات کا اعتراف کریں گے کہ جس اعتزاز احسن کو ان کی حکومت نے پتھروں اور لاٹھیوں سے مارا تھا، انہی نے مشتعل ہجوم کے نرغے سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔
سابق حکمرانوں کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ عوام میں کس قدر نامقبول ہیں۔ اپنے دور میں انہوں نے عوام کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ ان کی کھال اتارنے اور زندہ درگور کرنے کے مترادف تھا۔ مہنگائی اور بدامنی نے ان کی زندگی حرام کر دی تھی، اوپر سے پولیس کے ذریعے ان کی عزت نفس کچل کر رکھ دی گئی۔ یہ وہ حکمران تھے جو اپنی قوم کو مکے دکھاتے تھے اور دشمن کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے تھے۔ عوام کی فریادوں کے جواب میں یہ قہقہے برساتے تھے۔ انہیں بتایا جاتا تھا کہ عوام دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں تو یہ لوگ کامیاب تفریحی دوروں پر نکل جاتے تھے۔ حقیقت کو اچھی طرح جاننے کے باوجود، صرف اور صرف عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے یہ اعلانات کرتے تھے کہ ہم نے عوام کی غربت دور کرکے انہیں خوشحال کر دیا ہے۔ یہ حکمران جب اندرون ملک دوروں پر نکلتے تھے تو عوام کا جو حال ہونا تھا، وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ سارا لاوا عوام کے دلوں میں اندر ہی اندر پکتا رہا۔ چیف جسٹس کی پہلی برطرفی اور قید نے اس لاوے کو باہر نکلنے کا موقع دیا اور عوام لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل آئے۔ اصولاً تو حکمرانوں کو اسی وقت عوام کا موڈ سمجھ لینا چاہئے تھا لیکن وہ نہ صرف اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے بلکہ اس عزم کو بھی ”پختہ“ کر لیا کہ عوام جائیں بھاڑ میں، ہم دوتہائی اکثریت سے الیکشن جیتیں گے اور دوبارہ اسی طرح حکومت کریں گے، وکلاءکی تحریک میں حکمرانوں کے روئیے، بالخصوص 12 مئی کے المناک قتل عام، اور اسی شام لیاقت باغ کے ”میلہ چراغاں“ اور ”سرکاری بھنگڑے“ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پھر شاہراہ دستور پر جس طرح وکلاءکو لاٹھیوں اور پتھروں کے ساتھ تاریخی بے رحمی سے مارا گیا، اس نے عوام کو مزید مشتعل کیا۔ لیکن اس کے ساتھ حکومت کا ”عزم“ بھی مزید پختہ ہو گیا کہ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر دیوار توڑ دے گی چنانچہ آخری وار ایمرجنسی لگا کر کر دیا گیا، عدلیہ کی دیوار توڑ دی گئی۔
اس سارے ڈرامے میں بدترین اور بے سرے مسخروں کا کردار کچھ وفاقی وزیروں نے ادا کیا۔ وہ ٹی وی چینلز پر ایک طرف تو بھونڈے طریقے سے مشرف کی خوشامد اور چاپلوسی کرتے رہے تو دوسری طرف نہایت بدتہذیبی سے آئین کا مذاق اڑاتے رہے اور ججوں اور وکلا کی توہین کرتے رہے۔ ان بے سرے مسخروں میں ڈاکٹر شیر افگن کا نام بہت نمایاں ہے۔
اب آئیے ارباب رحیم کی طرف۔ ان کا حلقہ ان کا جو امیج بتاتا ہے وہ ایک دیندار اور تبلیغی آدمی کا ہے لیکن عوام کے سامنے ان کا جو امیج آیا وہ ایک بدزبان اور مغرور شخص کا تھا۔ ان کا طرز حکمرانی جام صادق سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا لیکن ان کے بارے میں رہی سہی خوش فہمی اس وقت ختم ہوئی جب ان کے دور میں چیف جسٹس کو کراچی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ ریاستی قوم کا بدترین استعمال کرتے ہوئے ائرپورٹ کو ”علاقہ غیر“ قرار دے دیا گیا۔ وکلاءکو عدالتوں میں محصور کر دیا گیا اور کراچی کی سڑکوں پر انسانوں کا شکار جنگلی جانوروں کی طرح کیا گیا۔ ارباب رحیم نے اس بدترین قتل عام کی مذمت تک نہیں کی اس کے برعکس نجی محفلوں میں یہ کہتے رہے کہ یہ قتل عام ان کی اجازت کے بغیر ہوا۔ لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ بطور وزیراعلٰی انہوں نے اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی۔ ذمہ داری ادا کرنا تو ایک طرف، وہ تو کسی جھجک کے بغیر یہ بھی کہہ گئے کہ اس بدترین قتل عام کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ انہوں نے عدلیہ کا مذاق اڑایا اور ان کے دور میں دو مرتبہ عمران خاں کو کراچی داخلے سے روکا گیا۔ بینظیر کی آمد پر کراچی میں بدترین دہشت گردی ہوئی، سینکڑوں افراد مارے گئے اور انہوں نے مذمت کا ایک لفظ تک نہیں کہا، الٹا یہ کہہ کر بینظیر کا مذاق اڑایا کہ ان کی منزل قبر ہے۔
ان لوگوں کو یہ یقین تھا کہ ان کے انتظامات پکے ہیں، وہ مزید پانچ سال حکومت میں رہیں گے، امریکہ ان کی پشت پر ہے، کوئی ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ان کی گردنیں غرور سے اکڑی رہیں اور زبانیں زہر اگلتی رہیں۔ پھر اچانک بینظیر کی شہادت کا سانحہ پیش آ گیا جس نے سارے منصوبے بدل کر رکھ دئیے اور عوام نے 18 فروری کو تخت الٹا دئیے۔
یہ واقعات نئے حکمرانوں کیلئے بھی پیغام ہیں۔ جہاں انہیں اس بات کی کوشش کرنی چاہئے بلکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ کوئی ہجوم قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے تاکہ ارباب اور افگن جیسے واقعات کا اعادہ نہ ہو سکے وہاں اس بات کا خیال رکھیں کہ ایک دن انہیں بھی اقتدار سے محروم ہو کر عوام کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ ان کے ساتھ ایسا نہ ہو جیسا آٹھ سالہ فرعونی دور کی باقیات کے ساتھ ہو رہا ہے۔

 

 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications