|
(وکیل انصاری) لیجئے صاحب پاکستان میں واقعی جمہوریت آگئی ہے۔ ان گناہ گار آنکھوں نے وزیراعلیٰ سندھ ارباب رحیم کو جوتوں سے پیٹتے ہوئے دیکھا اور پھر یہ بھی سنا کہ جس شخص نے ان کو جوتوں سے مارا وہ انہی کا آدمی تھا۔ پتہ نہیں کیوں مجھ کو ہندوستان کی ایک فلم ”آندھی“یاد آگئی۔ خبروں سے آنے کے لیے یا حزب اختلاف کو شرمندہ کرنے کے لیے جمہوریت کی سوغات میں سے ایک سوغات یہ بھی ہے کہ مظلوم بننا اور خاص طور پر عوام کے سامنے مظلوم بننااور ان کی ہمدردی بٹورنا! پاکستان میں اس قسم کے واقعات ہونا بہت ضروری ہیں۔ وہ ملک جو کہ ابتدائی جمہوری عمل سے دوچار ہوئے ہیں اس قسم کے واقعات ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ کی لڑائیاں ہمارے سامنے ہیں۔ پھر جنوبی کوریا میں ایک دوسرے پر تشدد بھی جمہوری عمل کا نتیجہ ہیں اور یہ سب شدت جارحیت کا اظہار ہوتا ہے! پاکستان میں اس قسم کے مزید واقعات ہوں گے۔ پارلیمنٹ میں کرسیاں چلیں گی پھر یہی لوگ نظم و ضبط کی تلقین کرینگے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں جب جب جمہوریت کا پودا بویا جائیگا اس سے جمہوری اصولوں کے پھل اچانک نمودار نہ ہونگے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس زمین میں کبھی اس سے پہلے بھی جمہوریت کا پودا لگایا گیا ہے۔ اگر نہیں تو پھرزمین کو ہموار کرنے میں یا زرخیز کرنے میں تقریباً نصف صدی تو درکار ہوگی اور ابھی تو بقول شاعر ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا میں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ اس نوزائیدہ جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے لیے نہ صرف وقت درکار ہے بلکہ صبر اور نظم و ضبط اور میانہ روی اس کی ابتدائی شرائط ہیں! یہ بات تو ان لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ جنہوں نے جوتوں کی بارش کی! یہ تو ثابت کرنا بہت مشکل ہے کہ یہ سب ڈرامہ تھا یا خود ساختہ اذیت لیکر ہمدردی حاصل کرنا تھا۔ بہرحال جوکچھ بھی ہو اس قسم کے واقعات کا رونما ہونا عوام میں دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ عوام کی یہ دلچسپی ہی جمہوریت کی کونپلیں ہیں۔ عوام کا ردعمل جمہوریت کے عمل کو تازگی بخشتا ہے۔ ہر حادثہ کے دو پہلو واضع ہوتے ہیں۔ منفی اور مثبت اور اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مثبت پہلو مزید واضح ہوتا جا رہا ہے اور منفی رجحانات دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی طرح ہم پاکستانی امریکن کو پاکستان میں جمہوری ردعمل پر گہری نظر رکھنا ہوگی۔ ان منفی حادثات میں مثبت پہلو نکالنا ہونگے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان واقعات سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کا تجزیہ ہم لوگوں کو امریکی یا برطانوی جمہوریت کا چشمہ لگا کر دیکھنے کی عادت کو ترک کرنا ہوگا اور ان حرکتوں پر ہم کو شرمندہ ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں خدا سے دعا ضرور کرنا چاہیے کہ اس قسم کی نازیبا حرکتیں یا شرارتیں نہ ہوں۔ ہمارا میڈیا بھی ان حرکتوں کو نظرانداز کردے تو پھر یہ حرکت کرنے والے خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ مگر میڈیا تو آج کل خبروں کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوششوں میں سرجان کی بازی لگانے کو تیار ہے۔ میڈیا میں جو تلاطم آیا ہوا ہے اس کا بھی انتظار کرنا ہوگا اور شاید ہمارا MEDIA بھی دوسری اقوام کی طرح بہت جلد MATURE ہونے والا ہے۔
|
|