|
(ملک سلیم اکبر) ارادہ تو ہمارا تھا آصف زرداری کی قبروں اور مزاروں کی سیاست اور اس سیاست کے ذریعے ضعیف العتقادی اور شعبدے بازی کی سیاست کے فروغ کے بارے میں لکھنے کا لیکن آج لاہور میں مشرف میاں کے سابق وزیر اور مسخ شدہ آئین کو زبانی رٹا لگا کر الفاظوں کے ہیر پھیر کے ساتھ من پسند تشریح کرنے والے شیر افگن نیازی کی قابل مذمت پٹائی اور اس سے پہلے مشرف میاں کے سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کی عبرتناک پٹائی نے ہمارے قبروں اور مزاروں کی سیاست پر لکھنے کو ملتوی کرنے پر مجبور کردیا۔ ہم ذاتی طور پر جمہوریت اور جمہوری روایات کی سربلندی کے حامی ہیں اور ذاتی یا سیاسی اختلافات کی وجہ سے کسی رکن اسمبلی تو کیا بلکہ ایک عام شہری کے ساتھ بھی تشدد اور مار کٹائی کے سخت مخالف ہیں۔ سندھ اسمبلی میں ارباب غلام رحیم کی پٹائی کے موقع پر سندھ پولیس اور اسمبلی کے سیکورٹی اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے اور لاہور میں شیر افگن نیازی کی لاتوں اور جوتوں کے ساتھ پٹائی کے موقع پر بھی لاہور پولیس کی بدترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت کیمروں کی آنکھوں نے محفوظ کرکے ساری قوم کو بارہا دکھایا، خاص طور پر جبکہ پولیس کے اعلیٰ افسران یعنی تین چار ڈی ایس پی حضرات بھی موقع پر موجود تھے۔ اس افسوسناک پٹائی کے بعد انتہائی دکھی، افسردہ اور شرمسار شرمسار سے اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ بار کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ آخری وقت تک اعتزاز احسن مشتعل عوام کو روکنے کی کوششیں کرتے رہے اور شیرافگن نیازی کو بچانے کی کوشش میں اعتزاز احسن کی بھی ٹھکائی ہوئی اور لاہور کی پولیس تین چار ڈی ایس پیز کی موجودگی میں خاموش تماشائی بنی رہی۔ قابل توجہ بات تو یہ ہے کہ شیرافگن نیازی کی بھرپور ٹھکائی کے بعد گورنر پنجاب شیرافگن نیازی کو گورنر ہاﺅس لے گئے جہاں صدر مشرف نے اپنے زخمی ساتھی سے فون پر بات چیت کی اور بعد میں سکیورٹی اور حفاظتی تحویل میں شیرافگن نیازی کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔ نیازی صاحب کے بیٹے نے والد کو کچھ ہونے کی صورت میں نوازشریف اور شہبازشریف کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شہبازشریف نے ارباب غلام رحیم اور شیرافگن نیازی کی پٹائی کو ایوان صدر سے ہونیوالی سازش قرار دیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے مطابق وکلاءکے گروہ میں بے شمار غیروکلاءافراد ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شامل ہوگئے تھے جو وکلاءکی تحریک کو نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے میں کامیاب رہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے۔ پی پی پی کے بابر اعوان نے اعتزاز احسن کی موجودگی میں ہونیوالے اس واقعہ کو بہت معنی خیز قرار دیتے ہوئے اعتزاز احسن پر تمام کا تمام غصہ نکالا ہے البتہ وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ اعتزاز احسن کی غیرموجودگی میں سندھ اسمبلی میں ارباب غلام رحیم کو گالیاں، تھپڑ اور جوتے کس نے کس کے اشارے پر لگائے۔ علی احمد کرد نے آئندہ لاہور بار اور لاہور ہائیکورٹ میں کبھی قدم نہ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے سلیم شہزاد نے وکلاءکو لچے لفنگے قرار دیتے ہوئے نوازشریف اور شہبازشریف کے کارکنوں کو شیرافگن نیازی کی پٹائی کا ذمہ دار قرار دیا۔ ہماری ذاتی رائے میں سوچنے کا مقام اور سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں میں جوتا ازم کی سیاست اور تشدد کی سیاست کا فروغ ایک دم اچانک اس بھرپور انداز سے سامنے آیا ہے کہ سیاست میں نفرت کے رجحان کا عنصر بدنما ہو کر نمایاں ہوا ہے جسے ہر سیاسی رہنماءاپنی سیاست چمکانے کیلئے اپنے اپنے انداز سے کیش کروانے کے چکر میں ہے جو قابل افسوس بھی ہے اور قابل مذمت بھی۔ اعتزاز احسن نے اپنے استعفیٰ کے بعد لاہور بار کے صدر اور دوسرے صوبوں کے باروں کے عہدیداروں اور سپریم کورٹ بار کے باقیماندہ عہدیداروں اور ایگزیکٹو کیمٹی کے اراکین کی جانب سے استعفیٰ واپس نہ لینے کی صورت میں اپنے بھی استعفے دینے کے دباﺅ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام وکلاءرہنماﺅں کے استعفوں کے بعد ایک ایسا خلاءپیدا ہوجائےگا جو وکلاءکی تحریک کو ناقابل برداشت نقصان پہنچانے کی مشرف سازش کامیاب ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے میرے استعفیٰ کا فیصلہ کل باہمی مشاورت کے بعد کیا جائیگا۔ 718-692-0707 پر ہمیں فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ ایک دم اچانک ہی پاکستان کی سیاست میں عدم برداشت، جوتم ٹھکائی اور مارپیٹ، جوتوں اور تشدد کی سیاست کے پیچھے کیسی سازش اور کون سا خفیہ ہاتھ ہے؟ اعتزاز احسن، شہبازشریف اور اپوزیشن اسے ایوان صدر سے ہونیوالی صدر مشرف کی سازش قرار دے رہے ہیں جبکہ یہ سوال اپنی جگہ اہم اور قابل غور ہے کہ اس واقعہ میں غیرمتعلق لوگ اور غیر وکلاءافراد کثرت کے ساتھ شامل تھے۔ پولیس نے اعتزاز احسن کو شیرافگن نیازی کو ایک ایسی ایدھی ایمبولینس میں پہنچانے کیلئے کہا کہ جس کا ڈرائیور ہی غائب تھا تاکہ ہلڑبازی، افراتفری اور مارکٹائی جاری رہے۔ تمام ٹیلیویژن چینلز پر دیکھا گیا کہ ہجوم میں کالے کوٹ والے وکیل بہت کم تھے جبکہ ٹی شرٹ، شلوار قمیض، بوشرٹ پہنے نوعمر لڑکوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اعتزاز احسن کا یہ الزام بھی قابل غور ہے کہ پولیس کے ساتھ بے شمار سادہ کپڑوں والے بھی تھے جن کا انہیں یقین دلایا گیا کہ یہ سادہ کپڑوں میں پولیس والے ہیں جبکہ بقول اعتزاز احسن یہی سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والے شیرافگن نیازی کو مارتے رہے۔ ان سوالات کا جواب ہی ہمیں بتائیگا کہ اس سازش میں کس کا ہاتھ تھا؟ فی الحال تو ہمیں نئے مارشل لاءکی راہ ہموار ہوتی اور مشرف کی جانب سے 58(2)B استعمال کرکے اسمبلیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ برقرار ہے، جو کسی بھی صورت میں نہیں ہونا چاہئے۔ ٭٭٭
|
|