اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 10 Apr 2008 15:10:00

پاکستان ناپسندیدہ ملک ہے

پاکستان ناپسندیدہ ملک ہے

اور پھر بیاں اپنا ۔۔ قمر علی عباسی
ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی وہ سب جو ہمیں معلوم ہے اس کیلئے ادارے، ملک خوامخواہ تحقیق اور سروے کرتے ہیں۔ اس میں وقت، سرمایہ اور خدمات ضائع ہوتی ہیں۔
امریکہ کی ”گیلپ“ کی جانب سے ورلڈ افیئر سروے ہوا جس کے مطابق امریکہ کی نصف آبادی پاکستان کو ناپسند کرتی ہے۔ سروے میں دنیا کے بائیس ممالک کے متعلق رائے معلوم کی گئی تھی جس میں کینیڈا‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ جاپان کو اسی فیصد لوگ پسند کرتے ہیں۔ عراق‘ فلسطین‘ شمالی کوریا‘ ایران کو 20 فیصد پسند کرتے ہیں جبکہ کینیڈا اور برطانیہ پسندیدہ ترین ہیں۔
اسرائیل‘ سعودی عرب‘ افغانستان‘ پاکستان‘ عراق‘ کو ری پبلکن جبکہ فرانس، وینزویلا، میکسیکو اور کیوبا کو ڈیموکریٹس پسند کرتے ہیں۔
کسی سروے کے بغیر ہم بتا سکتے ہیں کہ امریکی پاکستان کو ناپسند کرتے ہیں یہ تکلف سے کہا گیا ہے کہ آدھے امریکی ناپسند کرتے ہیں ممکن ہے آدھے لوگوں سے پوچھا گیا ہو حقیقت یہ ہے کہ جس امریکن کو پاکستان کے بارے میں علم ہے وہ ناپسند کرتا ہے ان کے خیال میں عراق افغانستان اور پاکستان ایک ہیں۔
پاکستان سے نفرت کا ثبوت امریکہ کے صدارتی امیدواروں کے بیانات ہیں۔ اتنے سخت الفاظ تو ہندوستان کے بال ٹھاکرے بھی استعمال نہیں کرتے۔ اوبامہ اور ہیلری دونوں حسب مقدور پاکستان کو برا کہتے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کے مکین کے ارادے بھی کچھ اچھے نہیں ہیں۔ اس سے پاکستان کی پسندیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
دنیا میں جو دوسرے ملک پسند نہیں کئے جاتے اس کی جو بھی وجہ ہو پاکستان کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ وہاں امریکہ کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ کسی رہنما کا اس وقت کھانا ہضم نہیں ہوتا جب تک وہ امریکہ کو دوچار بری باتیں نہ کہہ دے۔
پاکستان کے اکثر رہنما امریکی حکام کو مدد کیلئے خط بھیجتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ سابق چیف جسٹس نے بھی اپنی فریاد لکھ کر امریکہ کو بھجوائی۔ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ملک کے لوگ اپنی فریادیں امریکہ کو لکھ کر بھیجیں۔ اس موقع پر امریکہ نے سمجھداری اور مصالحت سے کام لیا۔ اندر کچھ بھی کیا ہو باہر ایک ہی آواز آتی تھی۔ ”پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔“
امریکہ کے سفارتکار پاکستان میں مختلف رہنماﺅں سے رابطہ رکھتے ہیں۔ ملاقات کرتے ہیں اس سے ظاہر ہے وہ ملک کی سیاسی آب و ہوا پر گفتگو کرتے ہوں گے۔
امریکہ میں یہ تاثر ہے پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے جہاں ان کی تربیت ہوتی ہے پھر وہ تباہی مچانے نکل جاتے ہیں۔ لیکن حیرت ہے وہ اپنے ہی شہروں میں اپنے ہی لوگوں کو مارتے ہیں۔ امریکہ اور دوسرے ممالک محفوظ رہتے ہیں۔
امریکہ میں جو آبادی شہروں میں ہے وہ پاکستانیوں سے میل جول کے بعد اپنا تاثر قائم کرتی ہے۔ جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں وہ ریڈیو، ٹیلی ویژن کے ذریعے پاکستان سے نفرت اپنے اندر منتقل کرتے ہیں۔ عام خیال ہے ہر پاکستانی دہشت گرد ہے۔
امریکہ کی پاکستان سے ناپسندیدگی نئی بات نہیں وہ ہر اس ملک کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں جہاں امریکہ کیلئے ”توڑ دو جلا دو گرا دو“ کے نعرے لگتے ہیں۔
عراق افغانستان کو پسند نہ کرنے کی وجہ امریکی فوجیوں کی لاشیں ہیں جو ان کے عزیز حاصل کرتے ہیں۔ عراق میں بیس لاکھ آدمی مر جائیں تو بڑی بات نہیں لیکن ایک امریکی کا مارا جانا تکلیف دہ ہوتا ہے۔
امریکہ میں جن ملکوں کو پسند کیا جا رہا ہے وہاں امریکی مخالفت کم سے کم ہے۔ یوں بھی بہت کم امریکی ایسے ہیں جو ملک سے باہر جاتے ہیں اور ذاتی تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ امریکی کانگریس کے پچاس فیصدی سے زائد ممبران کے پاس پاسپورٹ نہیں۔ وہ کبھی باہر نہیں گئے کسی بھی ملک کے بارے میں اخبارات ٹیلی ویژن اور خفیہ رپورٹس سے تاثر قائم کرتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ ان میں کوئی بھی غلط ہو سکتا ہے لیکن عام رجحان یہ ہے کہ اسلامی ملکوں کو ناپسند کیا جائے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ فعال ہے۔ امریکہ یہ بات تسلیم تو کرتا ہے لیکن ”کچھ اور کچھ اور“ کی بنیاد پر زیادہ توقعات رکھتا ہے۔ پاکستان کے صدر پرویزمشرف امریکہ کو خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے جو وہ چاہتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان میں ان کی مخالفت زیادہ ہے۔
کسی ملک کے عوام کا اپنا برتاﺅ بھی تاثر اچھا رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کے بارے میں امریکہ کے بڑے شہروں میں تاثر کچھ اچھا نہیں جب کوئی امریکن ان سے رابطے میں آتا ہے وہ تاثر حاصل کرتا ہے جو عام آدمی کو یہ کہنے پر مجبور کردیتا ہے کہ پاکستان ان کا ناپسندیدہ ملک ہے اور پسندیدہ بنانے کیلئے پاکستان کے صدر پروپز مشرف کوشش کریں۔

 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications