|
(عبدالقادر حسن) ہم پاکستانی جو اپنی قومی عمر کا نصف سے زیادہ عرصہ تک اپنی ہی فوج کے محکوم رہے، آج جب آزاد جمہوری فضا میں سانس لے رہے ہیں تو ہمیں یقین نہیں آرہا کہ کیا ہم واقعی اپنے قومی معاملات میں آزاد ہیں اور جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ فوج کی روک ٹوک باقی نہیں رہی اور فوج سچ مچ واپس اپنی بیرکوں میں چلی گئی ہے۔ طویل فوجی حکومتوں نے ہماری نفسیات ہی بدل دی ہیں اور ہم یقین نہیں کر پا رہے کہ کیا 1947ءکی آزادی ہمیں واپس مل گئی ہے۔ گزشتہ دنوں بری فوج کے نئے سربراہ ہماری سیاسی حکومت کے پاس خود آئے اور فوج سے متعلق معاملات میں انہوں نے سیاسی سویلین حکمرانوں کو بریف کیا۔ نہیں معلوم کہ سیاسی حکمرانوں کو اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین آیا ہوگا کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور کیا سن رہے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے سیاستدان فوج کی قید میں تھے یا فوج کے آستانے پر سجدہ ریز تھے۔ اس وقت فوجی سربراہ کے سامنے سویلین وزیراعظم بیٹھا ہوا تھا جو پانچ برس تک فوج کی قید میں رہا۔ اسکے ساتھ اسکی پارٹی کا سربراہ بیٹھا تھا جو کئی برسوں کی قید کے بعد بڑی کوششوں سے ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور سیاستدان بیٹھا تھا جو آٹھ برس تک ملک سے باہر رہا۔ اسے پہلے وزارت عظمیٰ سے برطرف کیا گیا، پھر قید میں ڈال دیا گیا اور اس کے بعد اس کی جان بچانے کیلئے اس کے دوست اسے اپنی ضمانت پر ملک سے باہر لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ آج یہ لوگ میز کی دوسری طرف بیٹھے تھے۔ پاکستان کے عوام نے آزادانہ موقع ملتے ہی انہیں غلامی سے نکال کر آزادی سے ہمکنار کردیا تھا۔ اگر پاکستان کے ٹیلیویژن چینلز اس ملاقات کی تصویریں نہ دکھاتے اور اخباراس کی خبریں نہ چھاپتے تو پاکستانی عوام کو اس واقعہ کا یقین نہ آتا۔ ان کے خیال میں یہ ایک انہونی تھی لیکن ہوگئی۔ اس وقت وفاقی حکومت کے بعد صوبائی حکومتیں بنتی چلی جا رہی ہیں، افسر تبدیل ہورہے ہیں، نئے وزراءکے رویے بڑی حد تک معقولیت کا اظہار کررہے ہیں اور یوں محسوس ہورہا ہے کہ ملک چل نکلا ہے۔ دہشت گردی جو ہمارا سب سے بڑا مسئلہ تھا اور پوری دنیا میں ہم ایک بدامن اور دہشت گرد ملک بن گئے تھے، آج نام نہاد دہشت گردوں کے لیڈر یہ پیشکش کررہے ہیں کہ ہمارے ساتھ گفت و شنید کی جائے، مکالمہ کیا جائے، ہماری سنی جائے اور ہماری شکایات کا ازالہ کیا جائے لیکن اس سے پہلے ہم دہشت گردی کی کارروائیاں بند کررہے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار جو شخص تھا، اب وہ اقتدار کا مالک نہیں رہا اس لئے ہمارا غصہ اب ٹھنڈا پڑ رہا ہے۔ بیرونی ممالک سے بھی آوازیں آرہی ہیں کہ دہشت گرد پاکستان نہیں اس کی حکومت تھی۔ امریکہ کی طرف سے خبریں موصول ہورہی ہیں کہ اس نے پرویز مشرف کے سر سے دست شفقت اٹھالیا ہے اور اب وہ نئی حکومت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے اور نئے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا پہلا دورہ چین کا ہوگا۔ گزشتہ حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات میں خاصی سردمہری دکھائی تھی اور چینیوں نے پاکستانیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا تھا کہ وہ اب پاکستان سے خوش نہیں ہیں۔ سچی بات ہے کہ چین نے پاکستان کیلئے جو کچھ کیا ہے، وہ ذرا سی بے رخی بھی شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔ پاکستان کی دنیا رفتہ رفتہ بدل رہی ہے۔ جمہوریت پر پرزے نکال رہی ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ پرویز مشرف کے نامزد افسر نے ہمارے ایک مایہ ناز کھلاڑی اور دنیا کے تیز ترین باﺅلر کو پانچ برس کیلئے کرکٹ کھیلنے سے محروم کردیا۔ اس پر ملک بھر میں سخت احتجاج ہوا لیکن فوراً ہی وزیراعظم نے حکم دیا کہ اس کرکٹر کی سزا پر نظرثانی کی جائے۔ دوسرے الفاظ میں اسے ختم کیا جائے۔ ایسے فوری قومی فیصلے ایک جمہوری حکومت ہی کرسکتی ہے جسے جمہور کے جذبات کا احساس اور احترام ہو۔ حکمران جماعت کے لیڈر جناب آصف علی زرداری ان دنوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دور شروع کررہے ہیں۔ وہ لاہور آئے اور اپنے حلیف اور حکومت میں ساتھی میاں محمد نوازشریف سے ملاقات میں تعلقات کی تجدید کی اور یہاں تک کہا کہ ان کے تعلقات آنے والی نسلوں تک چلیں گے۔ پھر وہ کراچی گئے اور اپنے حریف سیاستدانوں سے ملے۔ ایم کیو ایم نے ان کا زبردست استقبال کیا اور اس طرح مفاہمت کی ایک فضا پیدا ہونی شروع ہوئی۔ اسی طرح زرداری صاحب سیاسی افراد کے ساتھ بھی مفاہمت کا سلسلہ شروع کرچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو ایک مدت تک ایک متنازعہ پارٹی رہی، اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کررہی ہے اور ایک ایسی سیاسی فضا بنانے کی فکر میں دکھائی دیتی ہے جس میں ماضی کی تلخیاں موجود نہ ہوں اور دوستی کی زندگی شروع ہو۔ پاکستان کے عوام اپنے نئے حکمرانوں کے شکرگزار ہیں کہ وہ ملک کے اندر مفاہمت کا دور لا رہے ہیں۔ عوام سیاسی رقابتوں بلکہ دشمنیوں سے بہت تنگ آچکے تھے۔ اب حکومت کے سامنے وہ مسائل ہیں جن کا حل کرنے کیلئے عوام نے ووٹ دئیے تھے۔ ہر پاکستانی منتظر ہے کہ حکومت اس کی داد رسی کب شروع کریگی اور فی الحال کتنی کرسکے گی۔ اس حکومت کا مستقبل اسی پر منحصر ہے۔ ٭٭٭
|
|