اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 10 Apr 2008 15:05:00

لندن سے نیویارک۔ جیٹ لیگ

لندن سے نیویارک۔ جیٹ لیگ

(دل پشوری........ڈاکٹر ظہور احمد اعوان)
اصولاً یہاں امریکہ میں میری سفر نویسی کو دم توڑ دینا چاہیے کیونکہ میں نے طے کر رکھا تھا کہ اب امریکی سفر وقیام کے بارے میں مزید کچھ نہیں لکھوں گا‘ ایک ملک کے پانچ چھ سفر نامے کافی ہوتے ہیں، پھر امریکہ کے باب میں میری حیرتیں دم توڑ چکی ہیں‘ جب حیرت مر جائے تو کم از کم سفر نامہ نویسی ختم ہوجاتی ہے یا ہو جانی چاہیے‘ مگر ہر سفر اپنے اندر کچھ ایسی کیفیات لے کر آتا ہے کہ قلم بے اختیار کاغذ کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ میں سفر کے دوران سامان گھسیٹنے کو سب سے بڑا عذاب سمجھتا ہوں اور خاص طور پر موٹر چلانے سے دور رہنے والے میزبانوں کے ہتھے چڑھ کر تو آدمی کا جی مرجانے کو چاہتا ہے۔ میرا برطانوی میزبان ایک ہیرا موتی آدمی ہے‘ دوستوں پر جان لٹانے والا مگر اس کی میزبانی سے موٹر سواری باہر ہے‘ اگر اس میں موٹر گریزی نہ ہوتی تو وہ دنیا کا سب سے بڑا میزبان قرار پاتا۔ خیر آج صبح سویرے ہتھیار ڈال دئیے اور سامان بسوں اور زیر زمین ریلوں میں گھسیٹنے کی بجائے اس نے فون پر ٹیکسی طلب کر کے لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ کو جانا قبول کرکے مجھ پر ایک اور احسان لاد دیا‘ مگر سچ یہ ہے کہ اس کا اندازہ صحیح تھا جو زیر زمین ریل ہمیں بیس منٹ کے اندر ہی اندر ائیر پورٹ پہنچا دیتی وہ فاصلہ برزمین ٹیکسی میں ہم نے ایک گھنٹہ بیس منٹ میں رو رو کر طے کیا۔ لندن ائیر پورٹ سے ہر منٹ کے بعد ایک ہوائی جہاز اڑتا ہے مگر اس کی سب سے بڑی ائیر لائن سرخ ورجن اٹلانٹک VS ہی ہے‘ جہاں امریکہ جانے والوں کا ہجوم سمندر کی طرح بیکراں ہوتا ہے اور ہر گھنٹے بعد ایک پرواز امریکہ طرف جاتی ہے۔ وہاں صرف مسافروں کو کلیئر کرنے کےلئے کوئی سولہ سترہ بوتھ تھے پھر بھی ہمارا نمبر کوئی دو گھنٹے بعد آیا‘ اس نازک نفیس خوش اندام لڑکی نے پوچھا کس طرح کی سیٹ چاہیے‘ میں نے کہا بوڑھا بزرگ ہوں‘ نام نہاد مصنف و مو¿لف بھی‘ اوپر سے پراسٹیٹ کا مریض اس لئے کوئی اچھی سی کھلی سی نشست دےدیں تو آپ کے حسن کی مزید تعریف اپنے کسی کالم میں کروں گا۔ آخری بات میں نے اردو میں کہی اس لئے کوئی اثر نہ دکھاسکی مگر اس ناہنجار برطانوی میم نے مجھے ایسی سیٹ جہاز کے اندر چار مسافروں کے بیچ میں بند پھنسی ہوئی دی کہ میرے چودہ طبق تاریک کردئیے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان چاروں مسافروں میںسے تین حسینائیں تھیں‘ کم لباس مگر خوش اخلاق‘ وہ بھی کس بابے سے پالا بڑگیا‘ ادھر میں سرنہواڑے شرمندہ کہ جاﺅں تو کدھر؟ اب بار بار ان کو اٹھا بٹھا کر پر اسٹیٹ کو راضی رکھنا بھی مشکل تھا‘ پھر وہ خوش خصال لڑکیاں جوانی کے سولہ سنگھار کئے کانوں سے طرح طرح کے میوزک لگائے آنکھیں بند کئے جھوم رہی تھیں‘ یا خدا میں کدھر پھنس گیا‘ جتنی بددعائیں اور گالیاں یاد تھیں وہ اس ورجن اٹلانٹک ائیر لائن کی کاﺅنٹر والی میم کو دیں۔ کم بخت نے گویا مجھے سزا سنادی تھی‘ ویسے آپس کی بات ہے‘ تصویر سفر نامہ میں دو چار رنگ بھرنے کا زبردست سامان موجود تھا‘ زبردست رومانس و افسانے کا میٹریل‘ کبھی اس کا سر اپنی طرف لڑھکتا دیکھتا‘ کبھی اس کے بال اپنے شانوں پر بکھرتے دیکھتا‘ غرض پروفیشنل سفر نامہ نویسوں کے حوالے سے محبت سے عشق بلکہ شادی منگنی تک کی تقاریب جہاز ہی میں منعقد کروا دیتا‘ سامنے نظر پڑی، ایک صوفی صاحب بھی بیٹھے تھے ان سے نکاح بھی پڑھوایا جا سکتا تھا مگر افسوس کی بات ہے کہ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا، نو یورپی امریکی لڑکیاں راہ چلتے خواہ مخواہ بھورے، خاکستری، نیلے، پیلے ایشیائیوں سے پینگیں بڑھانے کو ضروری خیال کرتی ہیں۔ یہاں تو یہ حالت تھی کہ وہ دو چار حسینائیں خود عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگئی تھیں۔ اس سرخ سرخ ایئر لائن کی ہر چیز سرخ ہے۔ جہاز سے رومال اور ایئر ہوسٹسوں کے لباس سے ان کے چہروں کی رنگت تک۔ یہ ہر مسافر کو ایک تحفہ بھی دیتی ہے۔ ایک پیکٹ جس میں سرخ جراب، سرخ بال پوائنٹ، سرخ ٹوتھ برش اور سرخ ہی آنکھوں پر باندھنے والی پٹی، میں نے سوچا کہ ایشیا کے لوگوں کی آنکھوں پر پچاس ساٹھ کی دہائی میں سرخ ایشیا کی پٹی ویسے ہی بندھی تھی میں اب کیوں نہ 2007ءمیں دوبارہ یہ پٹی آنکھوں پر باندھ کر سو جاﺅں۔ میں نے ہر عذاب سے چھٹکارا پانے کیلئے یہی کیا۔ اب نئے جہازوں میں سیٹ کے اوپر کا حصہ اس طرح مڑ جاتا ہے کہ سر اس کے اندر مقید ہو جاتا ہے اور اس سے لڑھک کر کسی حسینہ کے کندھے سے ٹکرانے کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ اس لئے میں سر کو اس کھوکھے میں دے، آنکھوں پر سرخ کھوپے چڑھا، انٹا غفیل سوگیا، گھنٹے دو گھنٹے بعد اٹھا تو ہشاش بشاش مگر جسم و جاں کبیدہ تھی، بڑی معذرت کے ساتھ ان سے راستہ طلب کیا اور واش روم کا چکر لگایا اور دل میں طے کرلیا کہ بقیہ پانچ گھنٹے اگر ہوسکا تو جہاز کے اندر بغیر جوتوں کے چل پھر کر گزار لوں گا مگر ان حسیناﺅں کے جھرمٹ میں دوبارہ جا کر ان کا مزہ کرکرا نہیں کروں گا۔ واقعی میں ٹہلنے لگا، ایک ایئر ہوسٹس نے مسکرا کر گھورا تو میں نے ٹانگیں لنگڑا دیں کہ میسی پاﺅں میں درد ہے، اس نے خوشدلی سے کہا نو پرابلم، جہاز کے اندر ٹہلتے رہو، باہر نہ کودنا، ٹہلتے ٹہلتے ایک شاندار خالی فراخ سی سیٹ پر نگاہ پڑی، دو الگ نشستیں تھیں، کھلی کھلی، ان میں سے ایک پر ایک کورین لڑکی بیٹھی اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر سے کھیل رہی تھی بلکہ تاش کھیل رہی تھی، اس کے اندر، میں نے ڈرتے ڈرتے کہا بیٹی!کیا یہ سیٹ خالی ہے؟اس نے بڑی خوشی سے کہا یس وائی ناٹ، میں نے کہا میں بیٹھ جاﺅں؟اس نے کہا نو پرابلم۔ بس میری تو لاٹری نکل آئی، میں نے ٹانگیں پساریں، سامنے کی سکرین پر فلم لگائی، کورین بچی نے بتایا کہ اس کا نام تانیہ ہے اور وہ نیو یارک میں رہتی اور کام کرتی ہے،وہ یورپ میں سیروسیاحت کیلئے گئی تھی۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو بڑی خوش ہوئی۔ پروفیسر کے نام سے اس کے چہرے کی بقیہ شکنیں بھی کھل گئیں، اب میں نے جہاز کی کھڑکی کھولی، 38ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے تو سوائے بادلوں کے گالوں کے کچھ نظر نہیں آرہا تھا، البتہ سامنے سورج ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ ہم نے سات گھنٹے سورج کی قیادت میں یہ سفر تمام کیا، دن کو ڈھائی بجے لندن سے روانہ ہوئے تو ساتھ گھنٹے بعد نیویارک میں اترے جہاںصرف 4بجے تھے۔ اس سفر کے دوران کھانے پینے کے لحاظ سے ہماری خوب ٹہل سیوا ہوئی، شراب کو تو ہم نے غیرطہور سمجھ کر منہ نہ لگایا، باقی مسافر قدحوں پر قدحے چڑھا رہے تھے کیونکہ مفت کی شراب قاضی بھی نہیں چھوڑتا۔ ہم اورنج جوس پر ہی گزارہ کرتے رہے۔ ایئر ہوسٹس بھی ہماری اوقات پہچان چکی تھی، اس لئے شراب کی ٹرالی سے جوس نکال آئی نو آئی نو کہہ کر ہمارے آگے بڑھا دیتی۔ ہم نے کھانے میں مچھلی مانگی، مچھلی نہ ملی تو ہم نے گوشت خور ہونے کے باوجود سبزی پر گزارہ کرنا شروع کردیا۔ دم بہ دم چائے، کافی، بسکٹ، مونگ پھلی کے دانوں کے دور چلتے رہے۔ جہاز بے جھٹکا چل رہا تھا، رف پیچ کہیں نہ آیا۔چڑھتے وقت کلمہ پڑھ لیا تھا کہ واپسی نہ ہوتو مسلمان حالت میں اللہ کے حضور پیش ہوں۔امریکن، یورپی ایئر لائنوں کے سفر کا جواب نہیں، سامنے سکرین پر طرح طرح کی فلمیں چل رہی تھیں، اس کا ریموٹ ہاتھ میں تھا مگر سمجھ نہیں آتی تھی کہ چالو کیسے کریں؟ پہلی حالت میں امریکی لڑکیوں نے مدد کی اور ہماری ان پڑھت پر دل ہی دل میں مسکرائیں، دوسری نشست پر تانیہ ہر مدد کیلئے موجود تھی، مجھے ہیتھرو ایئرپورٹ کی رونق رہ رہ کر یاد آرہی تھی۔ امریکنوں نے نائن الیون کے بعد امریکہ آنے والی ہر فلائٹ کی آخری تلاشی کیلئے اپنے آدمی مقرر کر رکھے ہیں۔ کسی کو معاف نہیں کرتے‘ گو رے‘ کالے‘ بھورے مرد‘ زن‘ بچے سب کی دل کھول کر تلاشی لیتے ہیں حتیٰ کہ عراق سے آنے والے فوجیوں کے بوٹ اور بیلٹیں کھلوا کر ان کی تلاشی لی جا رہی تھی اور فنگر پرنٹ بھی۔ ایک یہودی خاندان پتہ نہیں آسڑیلیا یا نیوزی لینڈ سے آیا تھا، میں سوچ رہا تھا کہ امریکہ یہودیوں کا ملک ہے اور بقول شخصے 9/11کا واقعہ یہودیوں کا ہی برپا کردہ ہے اس لئے امریکی قانون ان پرتو ہاتھ ہولا رکھے گا مگر نو سر، دودھ پیتے یہودی پچوں کے بھی فنگر پرنٹ لے کر میرا دل خوش کر دیا۔ واقعی قانون کی حکمرانی ہو تو ایسی۔ امریکی امیگریشن کے بازاروں میں ہر وقت ہزاروں لوگ قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں کوئی گھنٹہ نہیں گزرتا کہ کسی نہ کسی ملک سے کوئی جہاز امریکہ و نیویارک کے ہوائی اڈے پر نہ اترتا ہواور پھر محمود و ایاز کو قطار میں کھڑا کرنے ہونے کی امریکی و یورپی مساوا ت کے کیا کہنے۔ ایک پاکستانی دوست نے بتایا کہ انہی قطاروں میں اگر اتفاق ہو جائے تو امیتابھ بچن‘ شاہ رخ خان اور ایشوریا رائے تک جوتے اور بکسے گھسیٹتے نظر آتے ہیں‘ نو وی آئی پی کلچرایٹ آل۔ ایک مرتبہ پاکستانی وزیروں کے جوتے اتروائے گئے تو پاکستان میں ایشو بن گیا تھا‘ یہاں آکر شاہ رخ‘ امیتابھ کے جوتے اور ایشوریہ کے سینڈل و جرابیں اترتے دیکھیں اور دل پشوری کریں۔ میں یورپی و امریکی ائیر پورٹوں کی اداﺅں کی دل کھول کر داد دیتا ہوں۔ میری جب باری آئی تو ایک سیاہ فام زنانی نے پوچھا حضرت آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ میں نے اردو میں کہا جھک مارنے‘ انگریزی میں کہا کہ ہر ملک ملک مااست کہ ملک خدائے مااست بس سیاحت میرا شوق و مشغلہ‘ امریکہ کا پڑھا ہوا ہوں اور ہر شہر میں امریکی دوست رکھتا ہوں۔ اس نے کہا بہت خوب پھر ایک سیکورٹی والا آیا اس نے مزید پوچھا آپ کیا کرنے آئے ہیں؟ مجھے بے اختیار ڈاکٹر امجد والی بات یاد آئی جو اس ستم ظریف نے ہمارے شہر کے ایک دل آزار ڈاکٹر سے اس قسم کے سوال کے جواب میں کہی تھی‘ کاش میں وہ الفاظ یا ان کا ترجمہ نشر کرسکتا۔ نشر کر لوں تو میرا حشر ہو جائے‘ باہر نکلا تو بیٹا حاضر تھا۔ خوب چوما چاٹی اور رونے دھونے کا پاکستانی سیشن لگا۔ اس کے ماتھے پر ماتھا رگڑا توتو ساتھ کھڑی امریکی بیبیاں حیرت میں مبتلا ہوگئیں کہ اس دنیا میں ایسا بھی ممکن ہے‘ میں نے ان سے کہا تم کیا پتہ ہم کس مٹی کے بنے لوگ ہیں‘ مادھو ہیں یا جذباتی پرندے خدا جانتا ہے‘ درجہ حرارت یہاں 26سینٹی گریڈ تھا۔ یعنی یورپ کے اٹھارہ بیس کے سرد منطقوں سے ہم نکل آئے تھے۔ اب گرم موسموں سے بھی پالا پڑنے والاتھا کہ امریکہ ہماری طرح فورسیزن سرزمین ہے۔

 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications