روزن دیوار سے.... عطاءالحق قاسمی
میرے ایک اذیت پسند دوست ہیں جن کو ہر بری خبر اچھی معلوم ہوتی ہے چنانچہ وہ اسے ”مذہبی فریضہ“ سمجھ کر آگے پھیلاتے ہیں، انہیں میں ہر سال میٹرک کے رزلٹ کے دنوں میں خصوصاً سرگرم عمل دیکھتا ہوں، موصوف کی بورڈ میں متعلقہ کلرک سے واقفیت ہے چنانچہ رزلٹ نکلنے سے چند روز قبل وہ اپنے علاقے کے فیل ہونے والے طلبہ کی لسٹ اس سے حاصل کرتے ہیں اور پھر ان طلبہ کے گھر والوں کو پیشگی اطلاع دینے کیلئے گھر سے نکل کھڑے ہوتے ہیں، وہ اپنی اس اطلاع کے لئے وقت کا تعین بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں، یعنی رات کو تقریباً دو بجے کا وقت انہیں اس اطلاع کے لئے موزوں لگتاہے، کیونکہ اس وقت سب اہلخانہ سوئے ہوئے ہوتے ہیں اور جب آدھی رات کو دروازہ مسلسل پیٹے جانے کے نتیجے میں کوئی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے اور اس کے بیدار ہونے سے پہلے اسے کوئی بری خبر سنائی جائے تو اسے ملنے والی اذیت کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ فیل ہونے والے طالب علم کی گہری نیند کے دوران جب چھترول شروع ہوتی ہے اور اس کی چنگھاڑیں گلی میں کھڑے ہوئے اذیت پسند دوستوں کے کانوں میں پڑتی ہیں ”ملک صاحب! منڈا فیل ہو گیا جے“ اس کے بعد ”منڈے“ کی چنگھاڑیں سنائی دینا شروع ہو جاتی ہیں!
موصوف لوگوں کو اذیت دینے کے لئے صرف یہی حربہ استعمال نہیں کرتے، ان کے پاس لوگوں کے حوصلے پست کرنے کے اور بھی بہت سے نسخے ہیں جو اکثر کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً موصوف صبح گھر سے نکلتے ہیں اور شیخ صاحب کے گھر جا پہنچتے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی اپنے چہرے پر سخت پریشانی کے آثار پیدا کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”شیخ صاحب، خیر تو ہے۔ آپ کا رنگ پیلا پڑا ہوا ہے؟“ شیخ صاحب جو اچھے خاصے خوشگوار موڈ میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ اس وقت تو اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتے اور کہتے ہیں ”نہیں برادر آپ کو وہم ہوا ہے، میں الحمدللہ ٹھیک ٹھاک ہوں“۔ مگر ان کے جاتے ہی وہ آئینے کے سامنے جا کھڑے ہوتے ہیں اور دائیں بائیں سے خود کو غور سے دیکھتے ہیں، بس اسکے بعد شیخ صاحب ہوتے ہیں اور ڈاکٹر صاحبان جو ان کے ڈبل نمونیے سے کینسر تک کے سارے ٹیسٹ اپنی لیبارٹری یا جہاں سے کمیشن طے ہو، اس لیبارٹری سے کرواتے ہیں اور اس کے نتیجے میں شیخ صاحب واقعی بیمار پڑ جاتے ہیں۔
شہر میں کوئی دھماکہ ہو، ٹرین کا حادثہ ہو جائے، کوئی جہاز بحرالکاہل میں جا گرے، کوئی لڑکی اپنے آشنا کے ساتھ گھر سے بھاگ جائے، محلے میں چارپائی پر بیٹھ کر ”منگ پتا“ کھیلنے والے جواری پکڑے جائیں، کوئی لڑکا ہیروئن پینا شروع کر دے یا کسی کو ہیروئن سمجھنا شروع کر دے، کسی گھر میں ڈاکہ پڑ جائے، بس اس روز میرے اس دوست کی عید ہو جاتی ہے، موصوف خوشی سے سارا دن ہوا میں تیرتے پھرتے ہیں اور پھر چشم زدن میں یہ خبر شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیل جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ موصوف خبر کے ساتھ مرچ مصالحہ اس قدر لگا دیتے ہیں کہ خبر کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے اور مرچ مصالحہ باقی رہ جاتا ہے۔ خصوصاً کسی گھر میں ڈاکے کی خبر سنتے ہیں تو پھر اپنی ذاتی خواہشات ملانا شروع کر دیتے ہیں ”اللہ خیر کرے، بہو بیٹیوں والا گھر ہے، دعا کرو جی اللہ سب کی شرماں رکھے“۔
میرے یہ دوست بیکار ہیں، میں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ شام کا اخبار نکالیں مگر انہوں نے میرا مشورہ نہیں مانا، ان کا کہنا ہے کہ ”شام کے اخبارات سے میری اپنی سرکولیشن زیادہ ہے، ان کا کام ایک دو گھنٹے کا ہے جبکہ میں چوبیس گھنٹے اسی ڈیوٹی پر ہوتا ہوں! بہر حال میرے اس دوست کے دم سے محلے کی رونق قائم ہے اور یہ ہمارا ایگزاسٹ فین بھی ہیں ان کی وساطت سے ہم سب کی جبلی اذیت پسندی اور بے شمار کمینگیوں کی تسکین ہوتی رہتی ہے، ہم شریف لوگ ہیں، اپنے منہ سے یا عمل سے ایسی باتیں کریں تو ہماری شرافت اور وضعداری پر حرف آتا ہے۔ ہم تو قتل و غارت گری والی فلمیں بھی اسی لئے دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص کے اندر جو مولا جٹ بیٹھا ہوا ہے، ہم مہذب ہونے کی وجہ سے اسے باہر نہیں آنے دیتے۔ چنانچہ اسے پردہ سکرین پر وہ سب حرکتیں کرتے دیکھ کر اپنے لاشعور کو مطمئن کر دیتے ہیں جو حرکتیں ہم خود شعوری طور پر نہیں کر سکتے.... یہی وجہ ہے کہ ایک فورم میں بڑے بڑے دانشوروں نے فلم ”مولا جٹ“ کا دفاع کیا تھا اور بتایا تھا کہ مولا جٹ آخر مولا جٹ کیوں بنا؟ انہوں نے اس کی ایک وجہ پولیس نیز عدالتی اور ملکی قوانین بھی بتائے، اسکے علاوہ ان دانشوروں نے مولا جٹ کی موجودگی کے اتنے جواز پیش کئے کہ اس دن سے اپنے بھلے مانس ہونے پر بھی دل میں کچھ شرمندگی سی محسوس ہونے لگتی ہے!