شبیر احمد
جو ان کا کام ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
صاحبو! وطن عزیز میں الیکشن اور اس کے ساتھ ہی سیاسی جوڑتوڑ کے ہنگامے زوروں پر ہیں۔ میڈیا اور صحافت چناجور گرم کی طرح مقبول ہیں۔ شبیر احمد کو اجازت دیجئے کہ وہ سیاسی معرکہ آرائیاں انہی پر چھوڑ دے جن کا یہ کام ہے۔ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔ آپ سب کیلئے اور وطن عزیز کیلئے بہت سی نیک تمنائیں پیش کرتے ہوئے ہم کچھ سوالات کے جواب کی جانب مہاریں موڑتے ہیں ڈاچی والے کی طرح۔ مہاریں موڑنے کیلئے ہم نے جگر مراد آبادی کے خوبصورت شعر کا سہارا لیا ہے۔ بلاشبہ وہ بہت بڑے شاعر تھے اور وہ اس بات سے آگاہ بھی خوب تھے۔
.... محترمہ ممتاز صدیقی نے نیویارک سے پوچھا ہے کہ جگر مراد آبادی نے اپنا تخلص جگر کیوں رکھا؟ وہ جگر جو مے نوشی کے سبب بالآخر ان کی جان لے بیٹھا۔
٭ محترمہ بہن! انہوں نے اپنا تخلص تو نوجوانی میں ہی رکھ لیا تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ وہ بلانوش تھے اور یہ بھی درست کہ انہوں نے آخری عمر میں اس ام الخبائث سے توبہ کرلی تھی البتہ اس وقت تک اتنی دیر ہوگئی تھی کہ انہیں خود کہنا پڑا
سب کو مارا جگر کے شعروں نے
اور جگر کو شراب نے مارا
.... جناب اختر حسین صدیقی کا سوال ہے کہ پاکستان ناواپسی کے نقطے Point of no return سے گزر چکا ہے؟
٭ محترم صدیقی صاحب! بفضل خدا ہمارے بزرگوں کے خون سے سینچی ہوئی یہ سرزمین بڑھے گی، پھولے پھلے گی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، وطن عزیز کے بارے میں منفی باتیں ہی سنتے چلے آرہے ہیں
ناسزا کہئے ناروا کہئے
کہئے کہئے مجھے برا کہئے
اور اس کے بعد محبت کے، امیدوں کے، خوشیوں کے جام شیریں ذرا چکھ کر تو دیکھئے۔
-1 ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ ریاست مدینہ منورہ کے بعد خدائے واحد کے نام پر قائم ہونیوالی ریاست پاکستان کے سوا کوئی نہیں۔
-2 اسے محض اتفاق نہ سمجھئے یہ خداوند کریم کا خاص احسان تھا کہ پاکستان 27 رمضان المبارک 1366ھ کو شب قدر اپنی جلو میں لئے ہوئے وجود میں آیا۔
-3 آپ وطن عزیز کے عوام و خواص میں ہزار خامیاں ڈھونڈ لیجئے لیکن یہ نہ بھولئے کہ ہم وطنوں کے دل وطن عزیز کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہم سب ملک کے ساتھ ناقابل بیان جذباتی رشتہ رکھتے ہیں۔
-4 بدعنوانی، لوٹ مار، دھاندلی، قانون کی عدم بالادستی، سیاسی اور سماجی کرپشن اور کتنے ہی چھینٹے پاکستان کے حسین چہرے پر چھڑک لیجئے لیکن دل کی آنکھیں کھول کر یہ بھی مشاہدہ کرلیجئے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں اللہ نے ہمیں بے کراں نوازشوں، کامیابیوں اور ترقیوں سے نوازا ہے۔ اگر آپ کو اس گزارش میں کچھ شک ہے تو زیادہ نہیں صرف چند حقائق پر غور کرلیجئے۔
-5 1947-48ءمیں ہمارے بزرگ پیپر پنوں کی جگہ کاغذوں کو کانٹوں سے جوڑا کرتے تھے۔ بے شمار دفتر برگد اور پیپل کے سائے میں قائم تھے۔ قلم دوات میسر نہ تھی تو پنسلوں سے لکھا کرتے تھے۔ بڑے شہروں میں بھی نکاسی آب کا نظام خال خال کہیں ملتا تھا۔
-6 صاحبو! اسی ملک میں آج ہم اپنی آنکھوں سے ابوالاثر حفیظ جالندھری کی دعائیں پوری ہوتے دیکھ رہے ہیں
پاک سرزمین شاد باد!
کشورِ حسین شاد باد!
-7 کیا آپ کی آنکھوں کے سامنے دیہاتوں میں بجلی نہیں پہنچی؟ آج لوڈشیڈنگ ہے تو اسی لئے کہ توانائی کا استعمال حدوں کو پار کرچکا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھئے۔
-8 وطن عزیز کے انفراسٹرکچر پر غور کیجئے۔ یہ سڑکیں، یہ گاڑیاں، فلائی اوورز، مواصلات، صنعت و حرفت اور زراعت، کونسا شعبہ ہے جس میں ہم آگے نہیں بڑھے؟
-9 حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ہم اللہ کی رحمت سے یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ نئی حکومت کے دور میں دہشت گردی کا بھی خاتمہ ہوجائیگا۔
-10 کیا آپ جانتے ہیں کہ کھیلوں کا سامان دنیا میں بہترین کہاں بنتا ہے؟ پاکستان میں۔
-11 سرجری کے آلات اور کٹلری بہترین کہاں بنتی ہے؟ پاکستان میں۔
-12 مہنگائی کے شور کے باوجود دنیا میں کون سے ملک میں عوام کا معیار زندگی اس تیزی سے بہتر ہوا ہے جتنا وطن عزیز میں؟ آج آپ کو خاکروب کے پاس بھی موبائل فون ملتا ہے یا نہیں؟
-13 عالمی معیار کی ایٹمی ٹیکنالوجی کیا ہمارے پاس موجود نہیں؟
-14 دنیا کا بہترین پائلٹ ٹریننگ ہوائی جہاز کون بنا رہا ہے؟ پاکستان۔
-15 دنیا کا بہترین ہلکا ٹینک کون بنا رہا ہے؟ پاکستان، اور اعلیٰ ترین توپخانہ؟ پاکستان۔
-16 دنیا بھر میں بہترین گندم، کپاس، باسمتی چاول، ہر طرح کے فروٹ، سبحان اللہ! ایسی چیزوں کے علاوہ صاحبو! ہمیں تو آج تک مرغی کے انڈے میں وہ لطف نہیں آسکا جو وطن عزیز میں ہے۔
-17 کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹر ی میں ہم دنیا کے کس ملک سے پیچھے ہیں؟
-18 ہم خداوند کریم کے شکرگزار ہیں کہ اس نے ہمیں معدنی ذخائر سے مالامال کیا ہے۔ قدرتی گیس اور کوئلے کی مثال لیجئے۔ انشاءاللہ عنقریب تیل کی دولت سے بھی مالامال ہوجائیں گے۔ اگر کمی ہے تو معدنی وسائل کی کھوج کی۔
-19 صاحبو! ہمارے یہاں تعلیم کا تناسب بلاشبہ بہتر ہونا چاہئے لیکن آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ ہمارے یہاں کا اَن پڑھ ٹیکنیشن ہر قسم کی مشینری کی مرمت اتنی مہارت سے کرتا ہے کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔ یہ ناخواندہ ٹیکنیشن، کاریگر ایسی چیزوں کو ٹھیک کردیتے ہیں جنہیں مغربی ملکوں میں گندے انڈوں کی طرح اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔ جملے کی روانی میں یونہی شعر یاد آگیا
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
-20 صاحبو! اس ستم کے باوجود کہ ہم نے اپنی آدھی آبادی یعنی خواتین کی حوصلہ شکنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی پھر بھی دستکاری کے اعلیٰ ترین نمونے آپ کو اپنے ہی وطن عزیز میں ملیں گے۔ سجاوٹ کا سامان، کڑھائی، بنائی، چمڑے کی مصنوعات، ماربل اور پیتل کی مصنوعات، ظروف سازی، بناﺅ سنگھار، سونے چاندی یا جواہرات کی کوالٹی دیکھئے اور عش عش کر اٹھئے۔
-21 اوپر درج کردہ نکات پر ایک بار پھر غور فرمائیے۔ آپ شاید متفق ہوں گے کہ خالق کائنات نے ہمیں بہترین انسانی صلاحیتوں سے مالامال کیا ہے جسے ہیومن ریسورسز کہتے ہیں۔
-22 ہماری بندرگاہوں، شپ یارڈ، سٹیل ملز اور ٹول فیکٹریز کو بھی یاد رکھئے، الحمد للہ!
ناقدین فرما سکتے ہیں اگر یہ ہے تو وہ کیوں نہیں ہے؟ جناب ناقد! آپ کو گلاس آدھا خالی نظر آتا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہمیں تو وہ آدھا فل دکھائی دیتا ہے۔ انشاءاللہ ملک میں کرپشن اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوتے ہی ہمارا ترقیاتی پیمانہ چھلکنے لگے گا۔ محترم ناقدین! کبھی کسی انسان سے، کسی قوم سے اس کی امیدیں نہ چھینئے۔ آپ نے بار بار سنا ہوگا، امید پر دنیا قائم ہے۔ علامہ اقبال نے نہایت خوبصورتی سے امید کو ایسی قوت قرار دیا جو نہ سپاہی ہوتی ہے نہ کمانڈر لیکن نامساعد حالات کا مقابلہ خوب جم کر کرتی ہے۔
صاحبو! آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ ڈاکٹر شبیر احمد کے مرتبہ ترجمہ قرآن کو 24 سی ڈیز پر ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔ یہ سی ڈیز ملک ملک، شہر شہر پہنچ گئے ہیں۔ یہ آڈیو سی ڈیز ہیں جن میں روانی کی خاطر مجتہد ایران نے اپنی خداداد آواز میں صرف انگریزی ترجمہ پڑھا ہے۔ بے شمار افراد کہہ رہے ہیں کہ ٹریفک جام اور دفتر آنا جانا اب انہیں بوجھ محسوس نہیں ہوتا اور نہایت آسانی سے قرآن کی تعلیم دلوں میں اترتی چلی جاتی ہے۔ صدق اللہ العظیم!
٭٭٭