اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 06 Mar 2008 09:13:00

آصف زرداری کی سوجھ بوجھ

آصف زرداری کی سوجھ بوجھ
(قمر علی عباسی)
ہم کب سے کہہ رہے تھے کشمیر کے مسئلے کو اطمینان، سکون اور تسلی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے، جب کوئی دھاگہ الجھ جائے تو فوراً نہیں سلجھتا۔ ہم آج اس بات پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ہمارے خیال سے متفق ہیں۔ سنا ہے دو بڑے آدمی ایک طرح سوچتے ہیں۔ آصف علی زرداری بڑے آدمی ہیں، ہم لاکھ کہیں کہ بڑے ہم بھی ہیں لیکن کوئی نہیں مانے گا، خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، معاملہ کشمیر کا ہو تو لوگ چھوٹا بھی کہیں تو چلے گا۔
جناب آصف علی زرداری نے فرمایا ہے کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر تجارت اور اقتصادی تعاون کے ذریعے تعلقات بہتر کریں۔ اس سے خوف کا عنصر ختم ہوگا اور آنے والی نسلیں مسئلہ کشمیر حل کرسکیں گی۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ اگر ہندوستان سے دعوت ملی تو وہ سیاسی قیادت کے ہمراہ دورہ فرمائیں گے۔
پیپلز پارٹی جب وزیراعظم کے معاملے میں سر جوڑے ہوئے تھی اس وقت خیال تھا کہ جناب آصف علی زرداری سے بہتر اس عہدے کیئے کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ایک بیان آیا کہ زرداری سونیا گاندھی کی طرح بادشاہ گر بنیں گے۔ اس کی تردید فوراً آگئی جس میں زرداری نے سونیا گاندھی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اظہار کیا کہ وہ سونیا گاندھی جیسے نہیں بن سکتے۔
جب تک محترمہ بے نظیر حیات تھیں، آصف علی زرداری کی صلاحیتیں سامنے نہیں آئی تھیں۔ پاکستانی عوام کا خیال تھا وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ اسکے علاوہ بھی کئی بیماریاں انہیں نڈھال کئے ہوئے ہیں۔ محترمہ نیویارک میں ان کے گھر قیام نہیں کرتی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں زرداری صاحب پرسکون اور پریشانی سے دور رہیں لیکن ان دنوں وہ سب سے زیادہ فعال نظر آتے ہیں۔ نہ چہرے سے بیماری کے آثار نظر آتے ہیں نہ انتھک کام کے باوجود کوئی بیماری دبوچ رہی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آصف زرداری کو یہ سب کچھ عوام سے دور رہنے کی وجہ سے تھا۔ جب مچھلی پانی سے باہر ہوگی تو تڑپے گی، جس دن سے زرداری وطن واپس آئے ہیں اور عوام نے انہیں اپنا رہنماءبنایا ہے، وہ مکمل صحتمند ہوگئے ہیں۔ عوام کی محبت، حمایت ان کیلئے صحت کا ٹانک ہے۔ وہ جس قابلیت، صلاحیت، بردباری کے ساتھ پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اسے سن کر دیکھ کر اپنی قسم پر رشک آتا ہے۔ ممنونیت کے آنسو آنکھوں میں چھلکنے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ گوہرِ آبدار نہ جانے کیوں ہم سے دور تھا، ہم تو آٹھ سالوں کو یاد کرتے ہیں جب اس ہیرے کو جیل کی کال کوٹھری میں رکھا گیا لیکن انسان کٹھن وقت گزار کے ہی کچھ بنتا ہے۔ جب تک ہیرے کے ہر پہلو کو گِھسا نہ جائے وہ قیمتی نہیں ہوتا۔
آصف علی زرداری صاحب کے بیانات ان کی عوام سے پاکستان سے محبت کا کھلا ثبوت ہیں۔ وہ سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔ ہم ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ان کے پاس اس قسم کے سنہرے خیالات کس طرح آتے ہیں، کون انہیں اتنی اچھی اچھی باتیں سکھاتا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ ہر شخص نے حل کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ اس معاملے میں یو این او بھی ناکام ہوگیا۔ صدر پرویز مشرف نے ہندوستان کو اتنی تجاویز دیں لیکن بے سود، آصف زرداری نے کیا اچھا حل نکالا ہے، دنیا میں ہر قوم اپنا اثاثہ نئی نسل کو منتقل کرتی ہے۔ آصف زرداری کا یہ بیان کہ کشمیر کا مسئلہ اگلی نسل کو حل کرنا چاہئے۔ بے حد مناسب اور اچھا فیصلہ ہے، جو کام خود نہ کرسکیں وہ کسی نہ کسی کو تو کرنا ہوگا۔ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے میں بہت وقت توانائی اور سرمایہ لگایا ہے اور اس کا کوئی حل نہیں نکلا، فوجی کارروائی بھی ہوئی پھر بھی ہندوستان کا کہنا ہے کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ آصف زرداری کا یہ بیان کشمیر کی ذمہ داری اگلی نسل پر ڈالتا ہے۔ ہمارے پسندیدہ شاعر نے پہلے ہی کہا تھا
جس افسانے کو انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا
آصف زرداری نے کشمیر کے مسئلے کو ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑ دیا تاکہ جب پرانی نسلیں ختم ہوجائیں اور نئی نسل آئے تو معاملات طے کرے، اس میں سو سال لگ جاتے ہیں، یہ زیادہ وقت نہیں ہے۔ سپین کے شہر قرطبہ کے مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلنے کے بعد غرناطہ بھی دو سو پچاس سال بعد مسلمانوں کے اقتدار سے محروم ہوگیا۔ تاریخ سو دو سو سال چند لفظوں میں بیان کردیتی ہے۔
کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہوجائیگا، اس وقت آصف علی زرداری کے سامنے بڑے مسائل ہیں۔ محترمہ کی موت کی یو این او سے تفتیش، صدر پرویز مشرف سے استعفیٰ، ججوں کی بحالی اور میاں نوازشریف سے دوستی، اس کے بعد دوسرے معاملات، کشمیر ایسا مسئلہ نہیں جو فوراً حل کرلیا جائے۔ اس کیلئے وقت درکار ہے۔ پہلے ہندوستان سے تجارت ہو، پھر ایک دوسرے سے دوستی ہو۔ آصف علی زرداری ہندوستان جائیں وہاں ان کی آﺅ بھگت ہو جس میں وہ یقین دلائیں کشمیر کا مسئلہ ہم نے اگلی نسل کو منتقل کردیا ہے۔
ہمارے خیال میں آصف علی زرداری کا کشمیر پر بیان سچائی پر مبنی ہے۔ وہ اپنی صلاحیت، تجربے اور ملکی و غیرملکی حالات کے جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اگلی نسل کو منتقل کردیا جائے، کشمیر کی جدوجہد کرنیوالے اور آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو مبارک ہو، مسئلہ حل ہونے میں اب دیر نہیں۔
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier