|
غیرسیاسی باتیں عبدالقادر حسن 18فروری کے انتخابات میں صدر مشرف کے خلاف جن امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ان کا ایک اجتماع اکثریتی پارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری صاحب کی دعوت پر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس میں مسلم لیگ کے لیڈر میاں نوازشریف اور اے این پی کے لیڈر اسفندیارولی کی قیادت میں 171 ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی جس پر کہا گیا کہ ہم نے اکثریت ثابت کردی ہے۔ اب صدر مشرف فوراً اسمبلی کا اجلاس طلب کریں۔ اس اجلاس میں فوج کے سیاسی کردار کے خاتمے پر خصوصی زور دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فوج نے رضاکارانہ طور پر خود ہی سیاسی مداخلت ختم کردی اور عام انتخابات میں نہ صرف یہ کہ فوج نے مداخلت نہیں کی بلکہ اس نے دوسروں کو بھی مداخلت سے کلی طور پر باز رکھا۔ الیکشن سے ایک دن پہلے ضلعی ناظمین اور ڈی سی اوز کو فوج کے مقامی افسروں نے ہدایت کی وہ اپنے آپ کو الیکشن میں مداخلت سے دور رکھیں۔ ظاہر ہے کہ اس پر عمل ہوا اور بلاشبہ منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں جو لوگ منتخب ہوئے وہ اس دن ظہرانے میں اسلام آباد کے فائیوسٹار ہوٹل میں جمع تھے۔ فوج نے یہ تاریخی کردار صدر صاحب کی خواہش کے برعکس ادا کیا جو اپنی پسند کی اسمبلی سے اپنے اقتدار کی نئی زندگی کے طلبگار تھے۔ کل تک وہ فوج کے بھی پاس تھے لیکن ان کے جانشین نے اپنے سابقہ باس کی خواہش کا احترام نہیں کیا۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ عوام میں فوج کی بدنامی تھی جس سے پوری فوج شدید اضطراب میں تھی۔ عوام کی حمایت کے بغیر کوئی فوج اپنا دفاعی کردار ادا نہیں کر سکتی لیکن فوج کے سابقہ سربراہ نے فوج کے بعض بڑوں کو کرپشن میں ملوث کردیا اور انہیں کھلی چھٹی دے دی کہ وہ کمیشن اور پلاٹوں کی صورت میں جو چاہے کرلیں۔ یہ سب کچھ برسرعام کیا گیا چنانچہ فوج جس کے ساتھ قوم عقیدت اور محبت رکھتی تھی اس سے بہت دور ہوگئی۔ اس کا فوری علاج یہی تھا کہ فوج کی سیاست سے عملاً علیحدگی کا برملا اعلان کیا جائے جو الیکشن میں مداخلت سے دور رہ کرکیا گیا۔ نئی حکومت بنانے کے لیے اس وقت سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ یہ دعوت ان سرگرمیوں کا ایک بھرپور اظہار تھا جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ مستقبل کی حکومت میں کون لوگ شامل ہوں گے یعنی وہ لوگ جو صدر مشرف سے مکمل طور پر بیزار ہو چکے ہیں۔ پاکستانی عوام نے اس سیاسی اجتماع کو پرامید نظروں سے دیکھا ان کے لیے یہ مستقبل کی قومی اسمبلی کا ایک غیررسمی اجلاس تھا جس میں قائد ایوان بھی شریک تھا مگر قائد ایوان یعنی وزیراعظم کون ہوگا اس کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ یہ طے ہو چکا ہے کہ وزارت عظمیٰ پیپلزپارٹی کا اولین حق ہے کیونکہ اسمبلی میں وہی سب سے زیادہ واحد اکثریتی پارٹی ہے۔ دوسری بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) وزارت عظمیٰ پر کوئی دعویٰ نہیں رکھتی۔ اب زرداری صاحب کو کسی ایسے ساتھی کو اس منصب پر فائز کرنا ہوگا جو اسمبلی کا رکن ہو کیونکہ وہ خود الیکشن میں شامل نہیں تھے۔ اب وہ بینظیر شہید کی سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ اسی طرح میاں نوازشریف بھی لاہور سے جاوید ہاشمی کی خالی کی جانے والی نشست سے منتخب ہوں گے۔ جاوید ہاشمی تین سیٹوں سے منتخب ہوئے ہیں جس میں سے دو انہیں خالی کرنی ہوں گی۔ نئی وفاقی حکومت کے قیام میں ایک الجھن درپیش ہے۔ پیپلزپارٹی کی خواہش ہے کہ میاں نوازشریف کی پارٹی بھی حکومت میں عملاً شریک اور حصہ دار ہو لیکن میاں صاحب اس وقت تک یہی تاثر دے رہے ہیں کہ حکومت کی کھل کر حمایت کریں گے۔ اسمبلی کے اندر مکمل تعاون کریں گے لیکن وزارتوں میں حصہ دار نہیں بنیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے اور بڑا دلچسپ بھی کہ کسی پارٹی کو وزارتیں مل رہی ہیں، حکومت میں شرکت کا موقع مل رہا ہے لیکن وہ انکار کر رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ گزشتہ حکومت نے ملک کی انتظامیہ کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے اور ملک کو اس قدر زیادہ اور انتہائی مشکل مسائل سے دوچار کردیا ہے کہ ایسے ملک پر حکومت کرنے کیلئے بڑا ہی دل گردہ اور غیرمعمولی ہمت بلکہ جرا¿ت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مسلسل فوجی حکومتوں نے اس قدر بگاڑ پیدا کردیا ہے کہ ان حالات میں سیاستدان ڈر رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے مسائل کو کس طرح حل کر سکیں گے اور عوام کو کیا دے سکیں گے وہ عوام جو مسلسل مہنگائی اور بدامنی میں پھنس چکے ہیں اور نئی حکومت سے امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں۔ عوام کے اختیار میں صرف یہ تھا کہ انہوں نے الیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کردیا اور ثابت کردیا کہ وہ صدر مشرف کی حکومت سے بیزار ہیں۔ عوام نے مسائل کی گیند سیاستدانوں کے میدان میں پھینک دی ہے لیکن اب عوام کے منتخب سیاستدان اس گیند کو ہاتھ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کو تو حکومت بنانی ہی ہوگی لیکن وہ یہ بوجھ اکیلے ہی اٹھانے سے ڈر رہی ہے اور میاں نوازشریف کو اپنے ساتھ شریک کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف میاں صاحب بھی سمجھ رہے ہیں کہ حکومت میں شرکت کے بعد وہ بھی برابر کے ذمہ دار تصور کیے جائیں گے اور عوام کو کیا جواب دیں گے کیونکہ عوام کے مسائل کا اس قدر ہجوم ہے کہ اس میں راستہ نکالنا آسان نہیں ہے۔ جناب آصف زرداری کیلئے معمول کے حالات میں زندگی کی یہ سب سے بڑی خوشخبری تھی کہ ان کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار آ رہا ہے لیکن اب یہ اقتدار کانٹوں کا بستر دکھائی دے رہا ہے جس پر آرام نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف (ق) لیگ اس گئے گزرے زمانے میں بھی بڑی تعداد میں اسمبلیوں کے اندر موجود ہے جو ابھی سے نعرے لگا رہی ہے کہ دیکھیں گے یہ لوگ اپنے وعدے کیسے پورے کریں گے۔ انتخابی تقریروں میں بہت کچھ کہا گیا جس کو اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے پوری عوام نے پڑھا اور دیکھا اب ان وعدوں کو پورا کرنا ہے۔ پریشان حال عوام ان وعدوں کو الیکشنی وعدے نہیں بننے دیں گے جن کا توڑنا کسی کامیاب امیدوار کا حق سمجھا جاتا ہے۔ نئی حکومت کو ان حالات کا سامنا کرنا ہے۔
|
|