اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 06 Mar 2008 09:10:00

آنے والے حالات کیا بتاتے ہیں؟

آنے والے حالات کیا بتاتے ہیں؟
گریبان/منو بھائی
پاکستان کے حالیہ عام انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ پاکستان سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سے اب تک کے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے وزیراعظم شوکت عزیز کی نام نہاد حکومت تک کے ایک سو 37 وفاقی اور صوبائی وزیروں نے عام انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے 76 مرکزی اور صوبائی وزیروں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اور 51 سابق وفاقی اور صوبائی وزیروں کو کامیابی نصیب ہوئی اور وہ ایک بار اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھ کر حکومتی فیصلے کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔
پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے 20سابق وزیروں اور مسلم لیگ قائداعظم کے 23 سابق وزیروں اور مسلم لیگ (ن) کے 8سابق وزیروں کو کامیابی نصیب ہوئی۔ سابق وزرائے اعلیٰ میں سے چودھری پرویزالٰہی‘ ارباب غلام رحیم‘ جام یوسف اور اکرم درانی کو کامیابی نصیب ہوئی۔ ہارنے والوں میں مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین شامل ہیں جو قومی اسمبلی کے دو حلقوں گجرات اور سیالکوٹ سے سابق مرکزی وزیر احمد مختار اور سابق ایم پی اے رانا عبدالستار کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوئے‘ تاہم سابق صدر مملکت سردار فاروق لغاری ڈیرہ غازی خان کی آبائی نشست سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بیس سابق وزیروں کو عام انتخابات میں فتح نصیب ہوئی اور 10ہار گئے۔ سابق سرکاری مسلم لیگ ق کے 23 سابق وزیروں کی جیت ہوئی تو 64 ہار گئے۔ انتخابات ہارنے والوں میں نمایاں لوگوں میں چودھری شجاعت حسین کے علاوہ سابق گورنر پنجاب میاں اظہر‘ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری‘ سابق سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین‘ سابق وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نیازی‘ سابق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد‘ حامد ناصر چٹھہ‘ عابدہ حسین‘ فخرامام‘ وصی ظفر اور جہانگیر بدر شامل ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے عام انتخابات میں مسلسل آٹھویں مرتبہ شکست سے شاید قومی سیاست میں ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کردیا ہوگا جو ”ڈبل ٹیٹرا شکست“ کا ریکارڈ ہوگا۔
بتایا گیا ہے کہ حالیہ عام انتخابات (2008ئ) میں حکومت اور الیکشن کمیشن کے سرکاری اخراجات کے علاوہ انتخابات میں حصہ لینے والوں اور ان کی سیاسی جماعتوں کے اخراجات دو سو ارب روپے کی مالیت سے بھی تجاوز کر گئے تھے اور یہ پاکستان کی قومی تاریخ کے سب سے زیادہ مہنگے عام انتخابات ہو جاتے ہیں۔ حساب لگایا گیا ہے کہ اگر ان انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں پر ان اخراجات کو تقسیم کیا جائے تو ہر ووٹر پر پانچ ہزار دو سو روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ عام انتخابات (2002ئ) میں 41فیصد بالغ ووٹروں نے حصہ لیا تھا اور پاکستان کے سب سے مہنگے انتخابات میں 45 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے ہیں گویا صرف چار فیصد زیادہ ووٹ پڑنے سے یہ انقلاب برپا ہوا ہے کہ اقتدار کے مزے لوٹنے والے حزب اختلاف کی دھوپ میں آگئے ہیں اور اپوزیشن کی اذیت برداشت کرنے والے اور جلاوطنی کاٹنے والے اقتدار میں آنے کی راہیں ہموار دیکھتے ہیں۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان کے پچاس فیصد سے زیادہ بالغ رائے دہندگان اپنے حق رائے دہندگی کو استعمال کریں تو کیسا انقلاب آ سکتا ہے اور اگر سو فیصد خاموش اکثریت اپنی رائے کا اظہار کرے تو بلاشبہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی مرضی‘ خواہش اور ضرورت کی جنت تعمیر کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
آنے والے حالات بتاتے ہیں کہ مرکز میں پاکستان پیپلزپارٹی/ مسلم لیگ نواز گروپ‘ عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ مجلس عمل سے مل کر مخلوط حکومت قائم کرے گی جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ نوازگروپ کو پاکستان پیپلزپارٹی کے تعاون سے حکومت بنانے کا موقع ملے گا۔ سرحد میں اے این پی کی حکومت اور بلوچستان میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ق کی حکومت ہوگی مگر مسلم لیگ قائداعظم کی زبردست کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت میں پنجاب کی حکومت میں شامل ہو کر اپنے بچاﺅ کی کوئی صورت نکال سکے لیکن سابق حکمران جماعت کے اندر توڑپھوڑ کا عمل بہت تیزی سے جاری ہے اور اقتدار میں رہنے والی سیاسی مچھلیاں اپوزیشن کی خشکی میں زندہ نہیں رہ سکیں گی جبکہ ان کی مخالف سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ والے ان کی حکومت کیخلاف دھاندلی اور کرپشن کے بہت سارے مقدمات قائم کرنے کے ارادے ظاہر کر رہے ہیں۔
ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کے دور حکومت میں سرکاری قواعد و ضوابط کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے محض سیاسی مفادات اور عام انتخابات میں دھاندلی اور کرپشن کروانے کے لیے کم از کم پانچ سو سرکاری ملازمین کو ناجائز مراعات کے ذریعے ملازمت کی مقررہ میعاد سے تجاوز کرنے کی اجازت دی گئی۔ پولیس اور محکمہ مال کی ملازمتوں میں غیرقانونی طور پر مداخلت کی گئی تاکہ ان سروسز کو انتخابی نتائج تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔ اخبارات میں ایسے پانچ سو سرکاری ملازمین کی فہرست بھی شائع کی گئی ہے جو ناجائز طور پر اپنی مدت ملازمت میں اضافہ کیے ہوئے ہیں اور سرکاری قواعد و ضوابط کی ایسی ایسی خلاف ورزیاں بیان کی گئی ہیں کہ جو قانونی جرائم میں شمار ہوتی ہیں اور ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے جا سکتے ہیں اور ان کے ارتکاب میں ملوث حکمران جیل یاترا پر مجبور کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مثال چودھری شفقات احمد کی پیش کی گئی ہے جو 68 سال کی عمر میں سرکاری ملازمت پر لائے گئے اور ڈائریکٹر جنرل کمیونٹی اپ لفٹ مقرر کیے گئے جبکہ 65 سال سے زیادہ عمر کے کسی شخص کو سرکاری ملازمت کے لیے بھرتی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک صاحب شوکت نواز گورایہ سیشن جج کے طور پر ملازمت سے چار سال پہلے ریٹائر کر دیئے گئے تھے ان کو چودھری پرویزالٰہی کے احکامات سے دوبارہ بھرتی کرکے چیف منسٹر کی معائنہ ٹیم میں شامل کیا گیا اور تاحکم ثانی ملازمت پر رہنے کے احکام جاری کیے گئے۔ ایسی درجنوں مثالیں پیش کی گئی ہیں اور ان پر قانونی کارروائی کا فیصلہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications