اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 06 Mar 2008 09:09:00

گمشدہ جمہوریت کی تلاش

گمشدہ جمہوریت کی تلاش
ڈاکٹرظہوراعوان
جب ہمارے ملک میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے تو اکثر میں بھی اس رو میں بہہ کر قلم فرسائی کرتا ہوں اور جمہوریت کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہوں پھر اچانک کبھی کبھار ہنسی آتی ہے کہ مسلمانوں میں جمہوریت رہی کب ہے آئی کب تھی یا آئے گی؟ علمی اعتبار سے وٹامن چاہئے کے زور پر جمہوریت پر کتابیں نہیں انسائیکلو پیڈیا لکھ دیں مگر سوال یہ ہے کہ 14 صدیاں بیت گئی ہیں ابتدائی تیس برسوں کے علاوہ جنہیں ہمارا ایمان و عقیدہ سب کچھ ماننے پر آمادہ ہے نبی پاک آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدین کا زمانہ سر آنکھوں پر باقی تو کھری شفاف دو ٹوک ملوکیت‘ آمریت اور بادشاہت کا دور دورہ چلتا رہا ہے‘ چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ ہم نے ان چودہ صدیوں میں کہیں خالص جمہوریت قائم کرکے دکھائی ہے؟ اب 56 مسلمان ملکوں میں سے کس ملک میں جمہوریت قائم ہے؟ ہم بڑے فخر سے ملائیشیا کی بات کرتے ہیں مگر محترم ڈاکٹر مہاتیر محمد کے سو مرتبہ احترام ان کے کارناموں کو سر آنکھوں سے لگانے کے باوجود کون کہہ سکتا ہے کہ وہاں جمہوریت قائم تھی یا کسی اور پارٹی و شخصیت کو وہاں پنپنے کی اجازت یا موقع فراہم کیا گیا۔ خود مہاتیر محمد تیس برس تک بلاشرکت غیرے حکمرانی کرتے رہے اور اپنے بنائے ہوئے جانشین محمد انور صاحب کا ذاتی مخالفت کی بنا پر وہ حشر نشر کیا کہ وہ غریب منہ دکھانے کے قابل نہ رہا‘ اس پر اخلاقی گراوٹ‘ امردپرستی Debauchery اور خدا جانے کیسے کیسے الزامات لگا‘ جیلوں میں ڈال‘ ذلیل و خوار کر راندہ عوام و حکومت کیا گیا۔ سو یہ تو ہوگئی دنیائے اسلام کی واحد قابل ستائش نام نہاد ون پارٹی نان پلورل جمہوریت کی‘ وہاٹ ایلس What else باقی تو کچھ دکھانے اور جھوٹ کہنے کے لیے بھی نہیں ہے‘ عرب دنیا میں کیا ہو رہا ہے کس شیخ‘ بادشاہ‘ سلطان نے کبھی جمہوریت کی ”ج“ کو بھی اپنے ملک کے اندر داخل ہونے دیا ہے‘ اپنے منہ میاں مٹھو بننا اور بات ہے‘ سچی و صاف بات یہ ہے کہ جمہوریت کا جیم جوتا ہمارے ہاں کبھی آیا ہی نہیں جو چیز آئی نہیں اس کا ماتم چہ معنی دارد‘ ہاں آنا چاہیے اسی طرح جمہوریت بھی امپورٹ کرنی پڑے گی۔ امریکی یا برطانیہ کی ویسٹ منسٹر ٹائپ کی جمہوریت جس کا واویلا مغربی دنیا صبح و شام کر رہی ہے مگر بھائی صاف صاف بات یہ ہے کہ اس گرم کھاری زمین میں یہ ٹھنڈی مٹی کا ٹھنڈا پودا لگ ہی نہیں سکتا‘ لگنا ہوتا تو لگ چکا ہوتا۔ جمہوریت کے لیے ایک ذہنی اہلیت و کیفیت Mindset کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے ہاں سرے سے ہے ہی نہیں‘ تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں‘ ہر جگہ تلوار اور گھوڑے کے زور پر حکومتیں قائم کیں‘ لاکھوں بے گناہ انسانوں کو مارا پیٹا‘ کون سا ظلم جو روا نہیں رکھا۔ ہم یورپی و برطانوی نوآبادیاتی نظام Colonialism کو تو یاد کرتے ہیں کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم خود دوسرے ممالک اور پورے پورے براعظموں پر بزور شمشیر حملہ کرتے‘ قبضہ جماتے دوسرے ممالک و اقوام کے مذاہب‘ عقائد اور طرز زندگی کو ملیامیٹ کرتے یا صفحہ ہستی سے مٹاتے چلے آئے ہیں‘ ہمارے عقیدے کی بات درست کہ ہم خدا کا نظام خدا کی زمین پر پھیلانے کے لیے توسیع پسندی بذریعہ فتوحات و یلغاروں کے پورا کرتے رہے ہیں۔ یہ سب درست اور برحق اور سبحان اللہ مگر ہم نے کبھی نیوٹرل ہو کر ٹھنڈے دل سے غور کیا ہے کہ جن لوگوں کا قلع قمع ہوا ہے وہ کیا سوچتے ہیں۔ کسی ملک و قوم پر حملہ آور ہو کر ان کو کہنا کہ عقیدہ بدلو‘ ٹیکس ادا کرو یا مرنے کیلئے تیار ہو جاﺅ‘ یہاں تک کہ ہماری تاریخ علاﺅالدین خلجی کے چتوڑ کے قلعے پر ذاتی مقاصد کیلئے حملے جیسی داستانوں سے بھی بھری ہوئی ہے‘ یہی کام جب دوسرے کرتے ہیں تو ہم بلبلا اٹھتے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے رہے یا سمجھتے ہیں کہ ہم خدا کا پیغام بزور شمشیر دوسری اقوام و ممالک تک پہنچا کر ربانی مشن پورا کر رہے ہیں تو مغربی اقوام بھی نوآبادیاتی نظام کے ذریعے یہی کچھ کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہیں‘ وہ کہتے تھے بلکہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی غیرمہذب‘ ناخواندہ‘ غیرترقی یافتہ‘ پسماندہ اقوام کو مہذب‘ تعلیم یافتہ‘ جدید اور متمدن بنانے کے لیے نکلے ہیں جسے انہوں نے سفید فام اقوام کی ذمہ داری یا White man`s burden کا نام دیا۔ میں جمہوریت کی مخالفت میں کوئی کالم نہیں لکھ رہا نہ ہی تقریر کر رہا ہوں‘ تاریخ کے اصل حقائق بیان کر رہا ہوں۔ خدا کرے جس طرح بجلی آئی ہے‘ سائنس و حکمت و جدید تعلیم آئی ہے اسی طرح جمہوریت اور انسانی احترام بھی ہمارے معاشرے میں آ جائے‘ کتابی باتیں سب برحق اور درست مگر سوال یہ ہے کہ سوا ارب مسلمانوں میں جمہوری رویے کس طرح کاشت کیے جائیں گے‘ ڈنڈے کے زور پر صدہا سال سے حکومت کرنے والے حکمرانوں کو کیسے باور کرایا جائے گا کہ جمہوریت کیا چیز ہے؟ اگر دعاﺅں کے ذریعے بجلی یا جمہوریت آ جاتی تو ہم دنیا میں سب سے زیادہ دعائیں کرنے والے لوگ ہیں یہاں ہم خود بجلی بھی ایجاد کر لیتے اور جمہوریت بھی امپورٹ کر لیتے مگر دعا کے ساتھ دوا کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور مسلمانان عالم کے لیے دوا ہے قرآن پاک نسخہ کیمیا‘ جس پر حقیقی عمل نہ کرنے کی ہم نے قسم کھا رکھی ہے نہ اس کو سمجھنا ہے نہ اس کے مطالب پر غور کرنا ہے بس گھوٹے کی ضربوں پر ضربیں لگاتے جانا ہے‘ فریم کروا کر اسے دیواروں پر لگانا یا ٹیپوں و کیسٹوں میں بھر کے سنتے جانا اور سر دھنتے جانا ہے۔ پدرم سلطان بود کا ٹیپ کا مصرعہ ہرلب پر مچل رہا ہے۔ ”کوئی سید ہے‘ کوئی افغان ہے کوئی مرزا ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ وہ مسلمان بھی ہے“ اور مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے‘ کچھ لوگ رونا روتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت زبوں ہے‘ نہیں بھائی مسلمانوں کی حالت زبوں ہو ہی نہیں سکتی بشرطیکہ وہ سچ مچ کے پورے کے پورے مسلمان ہوں اور مسلمان ہونے کا مطلب سمجھتے ہوں۔ علامہ اقبال اس حقیقت تک پہنچ گئے تھے وہ جانتے تھے کہ مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے؟ اس لیے فرمایا۔
اگر گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لا الٰہ
لاالٰہ کہنا تو بہت آسان ہے لاکھوں‘ کروڑوں‘ اربوں لوگ کہہ رہے ہیں مگر کیا وہ مشکلات لاالٰہ سے واقف ہیں‘ یہ کلمہ کہنے یا پڑھنے کے بعد کتنی بھاری ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں‘ محض حادثاتی طور پر مسلمان ہونا کوئی کمال تو نہیں اس میں ہمارا کون سا کارنامہ ہے بس اللہ کے فضل سے مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے‘ مسلمان نام رکھ لیا‘ اللہ اللہ خیر سلا۔ اگر یہی معیار مسلمانی و فضیلت ہے تو دوسرے مذاہب و عقائد کے لوگ اپنے ماں باپ کے گھروں میں حادثاتی طور پر اسی طرح پیدا ہونے کو معیوب یا برا کیوں خیال کریں جو جس کے گھر میں پیدا ہوا وہ وہی کچھ بن گیا‘ کتنے لوگ ہیں جو سوچ سمجھ کر بقائمی ہوش و حواس کسی عقیدے‘ مسلک و مذہب کو اپناتے ہیں یا اپنائے ہوئے ہیں‘ خیر یہ الگ موضوعات ہیں۔ میں آج صبح سوچ رہا تھا کہ یہ جمہوریت جو چودہ سو برسوں سے ہمارے ہاں داخل نہیں تو کیسے داخل ہوگی‘ کیا اس دھرتی کے آمر‘ جابر‘ سرمایہ دار‘ لٹیرے‘ استحصالی طبقے‘ وڈیرے‘ جاگیردار‘ خان‘ نواب‘ سردار‘ چودھری جمہوریت کو کہیں سے پکڑ کر لے آئیں اور ہم پر مسلط کرکے کہیں گے یہ ہے جمہوریت یعنی ہم تمہارے آقا‘ بادشاہ‘ تمہاری تقدیروں کے مالک اور تم ہمارے مزارع‘ ملازم‘ غلام‘ جوتے پالش کرنے اور حقے بھرنے والے کاسہ لیس۔ یہی کچھ تو ہو رہا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا‘ کوشش اچھی چیز ہے اس کے لیے کالم لکھنا‘ مضمون و کتاب لکھنا اس سے بھی اچھی چیز ہے مگر مشکلات لاالٰہ‘ تقاضائے جمہوریت کو کیسے سمجھا جائے گا اور پیدائشی رشتوں کو تبدیل کرکے آقا و غلام کا تصور کیسے تبدیل کیا جائے گا اور کون کرے گا؟ کیا یہ وڈیرے‘ جاگیردار‘ سرمایہ دار‘ خان‘ نواب‘ چودھری کریں گے‘ ہرگز نہیں‘ کبھی نہیں اس کے لیے کوئی اور راستہ دیکھنا پڑے گا۔









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier