اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 06 Mar 2008 09:08:00

رفعت کی یاد میں؟

رفعت کی یاد میں؟
عطاءالحق قاسمی
”یار مجھے یاد پڑتا ہے تم کسی زمانے میں خاصے خوددار شخص ہوا کرتے تھے“
”ہاں تھوڑا تھوڑا مجھے بھی یاد ہے“
”لیکن اب تمہیں کیا ہوگیا ہے“؟
”ہونا کیا ہے؟ عقل آگئی ہے، تم نے محمود سرحدی کا وہ شعر نہیں سنا؟
جھکنے والوں نے رفعتیں پالیں
ہم خودی کو بلند کرتے رہے
”تو گویا تم ان دنوں پھر رفعت کے چکر میں ہو!“
”یہ رفعت وہ نہیں‘ یہ بلندی کے معنوں میں ہے‘ وہ رفعت تو میرے زمانہ جاہلیت کی یادگار ہے جب میں عشق کے چکروں میں پڑا ہوا تھا۔ یار میں بھی کتنا بے وقوف تھا ان کاموں میں وقت ضائع کرتا تھا جن میں دھیلے کا فائدہ نہیں تھا“
”اب اگر کہیں عشق کرو تو ایسی جگہ کرنا جہاں چار پیسے بھی بچ سکتے ہوں“
”یہ تم نے اپنی طرف سے طنز کیا ہوگا؟“
”میری کیا مجال ہے کہ میں تم پر طنز کروں‘ میں نے تمہارے خیالات سے فقط نتیجہ اخذ کیا ہے“
”تم نے صحیح نتیجہ اخذ کیا ہے‘ یہ شاعری‘ یہ ادب‘ یہ مصوری‘ یہ فنون لطیفہ سب واہیات چیزیں ہیں‘ اب تم خود ہی بتاﺅ جن دنوں میں ان لغویات میں الجھا ہوا تھا سوائے دن رات جاگنے کے مجھے ان سے کیا حاصل ہوتا تھا“؟
”لوگ عزت کرتے تھے“
”اب لوگ میری عزت نہیں کرتے تو اس سے مجھے کیا فرق پڑا“؟
”اس کا جواب تو میرے پاس نہیں ہے“!
”تمہارے پاس میری کسی بات کا جواب نہیں ہے‘ اب میں عالی شان کوٹھی میں رہتا ہوں‘ قیمتی کار میرے نیچے ہے‘ بینک بیلنس ہے‘ جدھر سے گزرتا ہوں لوگ سلام کرتے ہیں“
”میں نے عزت کی بات کی تھی“!
”پھر وہی عزت عزت‘ یہ تم جیسے احمقوں کا مسئلہ ہے۔ چلو تم مجھے ایک بات بتاﺅ“
”پوچھو“
”ایک عزت دار شخص جب دفتر جانے کیلئے ویگن میں بکری بن کر سفر کرتا ہے‘ اس کی کیا عزت رہ جاتی ہے؟ جب وہ تھانے جاتا ہے اور اسے کرسی ملنے کے بجائے جھاڑیں پڑتی ہیں تو کیا وہ پھر بھی معزز رہتا ہے؟ جب اس کا بچہ بیمار ہو تو کیا اس عزت سے وہ دوا خرید سکتا ہے؟ کیا دو ہزار روپے ماہوار میں عزت سے گھر کا خرچ چلایا جا سکتا ہے؟ کیا عزت سے....“؟
”بس کرو‘ میں تمہاری بات سمجھ گیا ہوں‘ تمہارا مطلب یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کے حصول کیلئے انسان کو تمام اصول اور اخلاقی قدریں پس پشت ڈال کر وہ کچھ کرنا چاہیے جو اس وقت ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے“؟
”بالکل“!
”کیا اس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ خوش ہے“؟
”یہ خوشی کیا ہوتی ہے“؟
”خوشی اس چیز کو کہتے ہیں جس سے تم محروم ہو چکے ہو“
”یہ سب لفظی ڈھکوسلے ہیں اور غریب غرباءکو بیوقوف بنانے کیلئے یہ فرسودہ اور بے معنی فلسفے بھی میرے جیسے لوگوں نے گھڑے ہیں کہ ایک اصلی خوشی ہوتی ہے ایک نقلی خوشی ہوتی ہے‘ تمہاری اصلی خوشی کے حصول کیلئے میں رفعت کے والدین کی منتیں کرتا رہا کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو مگر ان کا جواب تھا کہ تمہارے پاس تو اپنا گھر تک نہیں ہے۔ اب رفعت میری زندگی میں نہیں ہے لیکن اس سے مجھے کیا فرق پڑا؟ میں بہت خوش ہوں“
”تم خوش نہیں ہو اور نہ وہ طبقہ خوش ہے جس سے تم نے اپنا ناطہ جوڑ لیا ہے اور یہ ثابت کرنے کیلئے کسی لمبے چوڑے فلسفے کی ضرورت نہیں۔ جب پورا معاشرہ مال و دولت اور سہولتوں کے حصول کیلئے مار دھاڑ میں مشغول ہو جاتا ہے‘ اخلاق اور روحانی قدروں کو پامال کرنے لگتا ہے‘ زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کیلئے ایک دوسرے کو پاﺅں تلے کچلنا شروع کر دیتا ہے تو اس کا خمیازہ تو سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک معاشرے کے افراد تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مقابل بھی آ جائیں اور ان کے جسم اور روحیں بھی زخمی نہ ہوں‘ تم نے ظفراقبال کا وہ شعر نہیں سنا۔
یہ شہر وہ ہے جس میں کوئی گھر خوش نہیں
داد ستم نہ دے کہ ستم گر بھی خوش نہیں
”سنا ہوا ہے یہ شعر اور اس شعر پر خود ستم گروں کو داد دیتے بھی دیکھا ہے لیکن تم کہنا کیا چاہتے ہو“؟
”کچھ بھی نہیں‘ سوائے اس کے ایک غیر منصفانہ نظام میں سچی خوشی نہ غریب کو حاصل ہوتی ہے اور نہ امیر کو۔ ایک غریب آدمی ہزار سختیاں سہنے کے باوجود گناہ آلود زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنے ضمیر کا اطمینان اور اس کے حوالے سے سچی خوشی کے چند لمحات پھر بھی حاصل کر سکتا ہے لیکن امیر آدمی کیلئے یہ بھی ممکن نہیں کہ اس امیر آدمی کی دولت پر مختلف محکموں کے ان اہلکاروں کی نظریں ہیں جو اسی کی طرح تمام اخلاقی و روحانی اقداروں کو پامال کرکے خود امیر بننا چاہتے ہیں چنانچہ اسے اپنی دولت کی حفاظت اور اس کی افزائش کیلئے ایک ایسے حمام میں داخل ہونا پڑتا ہے جس میں کپڑے باہر اتارنا پڑتے ہیں۔ دولت کی ہوس انسان کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں پر جھوٹ کو سچ اور ہر سچ کو جھوٹ ماننا پڑتا ہے، جہاں ظالموں کا ساتھ دینا ہوتا ہے اور مظلوموںکو تسلیاں دینا ہوتی ہیں، جہاں وہ سب کچھ کہا جاتا ہے جو غریبوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جو اس طبقے کے محسنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے غیرانسانی ماحول میں کوئی پیشہ ور قاتل ہی خوش رہ سکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم پیشہ ور قاتل نہیں ہو“
”میں قاتل کہاں ہوں‘ میں تو خود مقتول ہوں‘ مجھے رفعت کے والدین نے....“
”تم تو رونے لگ گئے ہو۔ میں نہیں جانتا یہ آنسو اس مشروب کا نتیجہ ہیں جو تم اب دن کو بھی پینے لگے ہو یا تمہیں ان کامیابیوں پر رونا آ رہا ہے جو تم نے لاکھوں زندگیوں کو ناکام بنا کر حاصل کی ہیں“۔
”مجھے رفعت یاد آ رہی ہے“
”رفعت تم سے اور تم رفعت سے بہت دور نکل چکے ہو۔ اس کے باوجود میرے دوست یہ آنسو سنبھال کر رکھنا‘ یہ تمہاری زندگی کی بہترین متاع ہیں جس دن تم ان آنسوﺅں سے بھی محروم ہوگئے، اس دن تم بالکل کنگلے ہو جاﺅ گے....اور ہو سکے تو اپنی زندگی کے اس رخ کو بھی یاد کرو جب تم اپنے اندر کی دنیا کو روشن کرنے کیلئے ایسے کاموں میں دلچسپی لیتے تھے جو دوسروں کی دنیا بھی روشن کر دیتے ہیں، جن چراغوں کو تم حقیر سمجھ کر بجھا چکے ہو تمہاری زندگی میں انہی چراغوں سے روشنی ہوگی“!









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier