اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 06 Mar 2008 09:06:00

خوشخبری یا گرداب

خوشخبری یا گرداب

عباس اطہر

عدلیہ کی بحالی کا ایشو پھر ملکی منظر پر چھاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
ان خبروں کے بعد اس ایشو کی “مقناطیسیت“ اور بھی بڑھ گئی ہے کہ قاف لیگ کو دوبارہ برسر اقتدار لانے کیلئے ایوان صدر کی حکمت عملی ناکامی سے دوچا ر ہے اور آصف زرداری نے حکومت کی یہ پیشکش مسترد کر دی ہے کہ وہ نواز لیگ کے بجائے قاف لیگ کو اپنے ساتھ ملائیں اور پنجاب میں بھی اپنا وزیراعلٰی لائیں۔ اطلاعات کے مطابق جنرل کیانی نے بھی صدر کو ملاقات میں کچھ اس قسم کا مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت سازی کا معاملہ سیاستدانوں پر چھوڑ دیں کیونکہ یہ طے کرنا سیاستدانوں کا کام ہے کہ وہ کس کے ساتھ ملتے ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ صدر اس مشورے پر کان دھرنا پسند کریں۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق انہوں نے اسمبلیوں کا اجلاس بلانے کی تاریخ نہیں دی ہے جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ دال میں اب بھی کچھ کالا ہے۔
عدلیہ کی بحالی کی تحریک وکلا چلا رہے ہیں اور نواز شریف کی فعال حمایت بھی انہیں حاصل ہے۔ وکلا کے مظاہروں میں مسلم لیگ ن کے کارکن بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے ہیں اور تحریک کا انداز یہ ہے کہ سیاستدانوں پر دباﺅ نہ صرف قائم رہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو۔ اعتزاز کا یہ اعلان حکومت کیلئے کافی پریشانی کا باعث ہے کہ جج بحال نہ ہوئے تو پورے ملک سے، ہر طرف سے وکلا اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ دوسری طرف آصف زرداری ہیں جو عدلیہ کی بحالی کے ایشو کو اولیت دے کر اس سیاسی نظام کو خطرات سے دوچار کرنا نہیں چاہتے جو ابھی قائم ہی نہیں ہوا ہے۔ اسمبلیوں نے ابھی حلف نہیں اٹھایا اور سرکاری کیمپ کی یہ دھمکیاں اخبارات میں چھپنا شروع ہو گئی ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے تصادم کا راستہ اختیار کیا تو صدر دفعہ 58ٹو۔بی کا استعمال کر سکتے ہیں یعنی اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں اور عدلیہ کی بحالی ایسا ایشو ہے جسے آصف زرداری نے نواز شریف کے مطالبے کے مطابق فوری طور پر اٹھایا تو تصادم کا خطرہ یقینی ہے۔
صدر صاحب، جو کچھ عرصہ پہلے یہ ”حلف“ دے چکے ہیں کہ انتخابات میں فیصلہ ان کے خلاف آیا تو وہ استعفٰی دے دیں گے، اب اس وعدے سے منحرف ہو چکے ہیں اور ہر حال میں مزید 5 سال مکمل کرنے پر تل گئے ہیں اور انہوں نے اپنے پیغام رسانوں اور ذرائع کے حوالے سے یہ بات سیاسی حلقوں کو پہنچا دی ہے کہ انہیں چھیڑا گیا تو وہ مزاحمت کریں گے۔ برطانوی اخبار گارڈین نے اسی حوالے سے لکھا ہے کہ صدر کی ذہنی کیفیت کچھ ایسی خطرناک ہو چکی ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اس کچھ بھی کرنے کا مثالی نمونہ اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ ادھر اسمبلیاں حلف اٹھائیں اور ادھر توڑ دی جائیں۔ اس صورتحال میں زیادہ سے زیادہ یہ سفارش کی جا سکتی ہے کہ حلف اٹھانے اور توڑے جانے کے درمیان کم از کم ایک گھنٹے کا وقفہ ضرور ہونا چاہئے تاکہ تمام ارکان ایک دوسرے سے ابتدائی تعارف تو حاصل کر لیں۔
خیر، یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ سنجیدہ معاملہ یہ ہے کہ نواز شریف کی حکمت عملی یہ ہے کہ اسمبلیاں حلف اٹھاتے ہی عدلیہ کی بحالی کے مسئلے کو سب سے پہلے حل کریں اور اس کے ساتھ ہی صدر کے مواخذے کی تیاری کریں۔ مواخذے والی بات تو فنی طور پر ہی فوراً آگے نہیں بڑھ سکتی کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ جو بھی مخلوط حکومت بنے گی، اسے دوتہائی اکثریت ملتی ہے یا نہیں لیکن عدلیہ کی بحالی کا معاملہ حل کرنا فنی طور پر ممکن ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فنی طور پر آسان قدم عملی طور پر بھی آسان ہے؟
عدلیہ کی بحالی کا مطلب اخلاقی طور پر صدر مشرف کی شکست فاش ہی لیا جائے گا اور بات صرف اخلاقی شکست تک ہی محدود ہوتی تو بھی شاید زیادہ خطرناک نہ ہوتی کیونکہ اخلاق یا اخلاقی شکست نام کا موجودہ دور حکومت کی ڈکشنری میں کوئی لفظ ہی نہیں ہے لیکن اس کا عملی نتیجہ یہ ہو گا کہ 3 نومبر کے اقدامات بھی کالعدم قرار پائیں گے اور سپریم اور ہائی کورٹس میں بیٹھے وہ جج بھی فارغ ہو جائیں گے جن کو اپوزیشن اور عالمی میڈیا کٹھ پتلی کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اس سے بھی آگے جا کر، بحال ہونے والی عدلیہ صدارتی انتخاب کو کالعدم قرار دے سکتی ہے کیونکہ صدارتی انتخاب پر مقدمے کی سماعت ابھی جاری تھی کہ ایمرجنسی لگا کر عدلیہ توڑ دی گئی۔ ایمرجنسی کا اعلان آتے ہی سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے اس اعلان کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ چنانچہ عدلیہ بحال ہوئی تو ایمرجنسی بھی ازخود ختم ہو جائے گی کیونکہ عدلیہ کی بحالی کے ساتھ ہی اسکے سات رکنی بنچ کا یہ فیصلہ بھی لاگو ہو جائے گا۔
چنانچہ اس بات کا زبردست امکان موجود ہے کہ جونہی اسمبلیوں نے عدلیہ کو بحال کیا، صدر جوابی وار کریں گے۔ یہ جوابی وار ایمرجنسی نافذ کرنے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ خطرناک اقدام بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد بحران جو شکل اختیار کرے گا وہ یقینی تباہی کی طرف لے جائے گا۔ مشرف یہ سوچ کر کہ اب ان کے بچنے کا کوئی موقع نہیں رہا، یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ میں نہیں بچوں گا تو پھر کوئی اور بھی کیوں بچے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں انہوں نے جو بھی فیصلے کئے ہیں ان کی تہہ میں ان کی یہی سوچ کارفرما نظر آتی ہے کہ سب سے پہلے میں اور اس کا آسان ترجمہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ میں نہیں ہوں تو پھر کوئی بھی نہیں ہے۔
آصف زرداری شاید اسی انجام کو سامنے رکھ کر اور دوسری پیچیدگیوں کا لحاظ کرتے ہوئے عدلیہ کے مسئلے کو مناسب وقت پر اور محفوظ حکمت عملی کے تحت حل کرنا چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف صورت یہ ہے کہ نواز شریف اور اعتزاز احسن اگر جلد بازی پر مصر ہیں تو کچھ باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن کا علم انہیں ہی ہو گا۔ بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ انہیں آنے والے حالات کے بارے میں کچھ ایسی اطلاعات حاصل ہیں جو بڑی حساس نوعیت کی ہیں (کچھ ”استعفے“ وغیرہ سے بھی متعلق ہیں) اور انہیں یقین ہے کہ وہ جس حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں وہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس کے مثبت نتائج بھی یقینی ہیں۔ معزول چیف جسٹس کی ایک پولیس افسر سے یہ گفتگو اخبارات میں چھپ چکی ہے کہ وہ آنے والے کچھ دنوں میں اپنا منصب سنبھال رہے ہیں۔ اتنا بڑا دعویٰ ہوا میں نہیں کیا جاتا۔ ان کے اس یقین کے پیچھے صرف وکلاءکی تحریک ہی نہیں ہو گی، کوئی اطلاع، کوئی تجزیہ کوئی حساب کتاب ضرور ہو گا۔
خدا جانتا ہے، آنے والے دن خوشخبریاں لے کر آ رہے ہیں یا نئے بحرانوں کے گرداب۔


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier