وجاہت علی عباسی
کوئی پندرہ بیس سال پہلے جب پاکستان سے کوئی جدہ نوکری کرنے جا رہا ہوتا تو اس کے سب ملنے والے اس غمزدہ انداز سے الوداع کہتے کہ اگر وہ کوئی فلم کا سین ہوتا اور ہم فلم دیکھنے والے تو ہمیں یقین ہوجاتا کہ سین میں نظر آنے والے لوگ جدہ والی پارٹی سے پھر نہیں ملیں گے۔ وداعی پر ایسے دکھ بھرے چہرے کہ جیسے ان کی لڑکی کہیں ظالم سسرال میں شادی کرکے جا رہی ہے مگر یہاں تو لڑکے کی نوکری جدہ میں لگی ہے، پھر اتنا غم کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اس زمانے میں خط و کتابت اور فون کے ذرائع بہت ہی محدود اور مہنگے ہوا کرتے تھے۔ فون کبھی کبھی اور خط کبھی نہیں ملنا ایک عام سی بات تھی۔ روز تو دور کی بات، مہینوں سالوں گزر جاتے اپنے عزیزوں سے بات ہوئے۔
چلئے فلیش بیک سے واپس آتے ہیں اور آج کی بات کرتے ہیں۔ آج انپوں سے تو چھوڑیں پرایوں سے بات کرنا اتنا آسان ہوچکا ہے جس کی حد نہیں۔ بچپن میں ماں باپ بہت سی ایسی باتیں بچوں کو سکھاتے ہیں جو بڑے ہونے پر بچے یا تو بھول جاتے ہیں یا پھر ان باتوں کو یاد ہی نہیں رکھنا چاہتے ہیں جیسے ماں باپ بچوں سے کہتے ہیں کہ انجان لوگوں سے بات نہیں کرنی چاہئے مگر ہوا کچھ الٹ یعنی آج کل کے نوجوان جاننے والوں سے کم انجان لوگوں سے زیادہ باتیں کررہے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں انٹرنیٹ کی، ان ویب سائٹس کی جہاں لوگ جاکر اپنے اپنے پروفائل بناتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو زبردستی دوستی کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یعنی مان نہ مان میں تیرا مہمان۔
face book، my space، orkut اور نجانے کیا کیا یہ ہیں ان ویب سائٹس کے نام جہاں آج کل ہر کوئی بلا کسی ڈر کے اپنا پورا پورا شجرہ لکھ دیتا ہے۔ نہیں نہیں صرف شجرے سے ہی دل نہیں بھرتا، لوگ اپنی کئی کئی تصویریں ڈالتے ہیں، کیا، کیوں اور کس لئے کس کے بارے میں سوچتے ہیں، سب لکھتے ہیں۔ گھر میں کون کون ہے اور کون نہیں ہے اور کون ہے جو نہیں ہونا چاہئے، سبھی کچھ دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ یعنی ایک انجان شخص کو یہ سب جاننے کیلئے کیا چاہئے؟ تو اس کا جواب ہے 10 ڈالر مہینے کا انٹرنیٹ اور بہت سا فضول وقت، بس اگر آپ کے پاس یہ دونوں چیزیں ہیں تو پھر آپ کو کسی بھی انجان نوجوان کے بارے میں وہ کچھ پتہ چل سکتا ہے جو شاید جان پہچان ہونے پر بھی آپ کبھی نہیں جان پاتے۔
چلئے شروع سے شروع کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے پہلی سوشل نیٹ ورک کے نام پر 1998ءمیں کھلنے والی ویب سائٹ کا نام تھا myspace.com.... چین میں ایک دفعہ ایک پاگل بھاگتا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک دوسرا شخص بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ پھر تیسرا اور اس طرح کچھ ہی گھنٹوں میں ہزاروں لوگ ساتھ ساتھ بھاگتے نظر آئے۔ اتنے لوگ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی کچلنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اگست 2006ءمیں myspace پر ہالینڈ کے ایک نوجوان نے اپنا پروفائل بناکر myspace کے ممبرز کی گنتی پورے 100 ملین کردی یعنی وہ 300 ملین لوگ جو انٹرنیٹ روز استعمال کرتے ہیں، ان میں سے 100 ملین کو کروڑوں بیلوں سے کوئی ڈر نہیں ہے اسی لئے وہ تلے ہوئے ہیں کہ آبیل مجھے مار۔
اس ویب سائٹ پر جاتے ہی سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس شخص کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں؟ کھویا تو کوئی نہیں تھا لیکن پھر بھی چلئے فرض کرلیں کہ ہم وہاں ”قدوس“ لکھ دیتے ہیں تو دنیا میں جتنے بھی قدوس جنہوں نے اس ویب سائٹ پر اپنا پروفائل بنایا ہے، آکر ہمارے سامنے سکرین پر جمع ہوجائیں گے۔ ہر قدوس کو ہماری انگلی کے ایک اشارے کا انتظار اور وہ اپنی ساری زندگی کھول کر ہمارے سامنے رکھ دے گا۔ ہم اپنی انگلی سے ماﺅس کے بٹن کو ایک پروفائل پر کلک کرتے ہیں تو سب سے پہلے قدوس صاحب کی ان کے حساب سے مسکراتی حسین تصویر آتی ہے، وہاں صرف انکی شکل ہی نہیں بلکہ عقل بھی دیکھی جاسکتی ہے یعنی ان کی کھلی کتاب زندگی ہمیں ایک ہی صفحے پر نظر آرہی ہوتی ہے۔ نام، کام، دام، عمر، کمر کچھ لکھنے سے نہیں چوکتے۔ قدوس صاحب اپنے بارے میں اور کوئی کسر رہ جاتی ہے تو وہ پوری کرتے ہیں، ان کے دوست۔
قدوس صاحب کی فرینڈز لسٹ جی ہاں، وہ لوگ جو قدوس صاحب کو جانتے ہیں، ان کی فہرست سامنے نظر آرہی ہوتی ہے۔ قدوس صاحب کیا کیا کمال دکھا سکتے ہیں، وہ سب ان کے دوستوں نے وہاں پوری دنیا کیلئے چھوڑ رکھا ہوتا ہے۔ وہ کمال کے کرکٹر ہیں، غضب کے ایکٹر ہیں، بہت اچھی باتیں کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ تر لوگوں نے اتنی تعریف لکھی ہوتی ہے کہ لگتا ہے کہ شاید آگے کہیں لکھا ہوگا کہ قدوس صاحب اُڑ بھی سکتے ہیں۔ اب وہ اصل میں اُڑ سکتے ہیں یا نہیں مگر انہوں نے کافی چیزیں لکھ چھوڑی ہوتی ہیں اپنا مذاق اڑوانے کیلئے، مثلاً میں مائیکل جیکسن کی طرح ڈانس کرسکتا ہوں، رفیع کی طرح گا سکتا ہوں، شیخ رشید کی طرح سیاست کرسکتا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے کیسے پوری دنیا کے سامنے اپنی زندگی کھول سکتا ہے، اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو آپ ضرور ان ویب سائٹس پر جائیے گا۔ اگر آپ کو اس طرح کی ویب سائٹس کا کوئی بھی فائدہ سمجھ میں آسکے تو ہم کو ضرور بتائیے گا۔ رابطہ کرنے کیلئے myspace پر وجاہت علی عباسی سرچ کرلیجئے گا۔
٭٭٭