|
وکیل انصاری یہ خبر یقینی طور پر خوش کن ہونا چاہئے کہ یورپ میں ایک مسلم افراد کی اکثریت کی ریاست نے سربیا سے الگ ہو کر آزادی کا اعلان کیا ہے۔ یعنی ایک خودمختار ریاست ہونے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ 8 یا 10 سال پہلے آپ کو معلوم ہو گا کہ کوسوو آگ اور خون کے سمندر میں موجزن تھا۔ یوگوسلاویہ کی یہ سابقہ ریاست سرب افراد اور حکومت کے عتاب میں تھی۔ اس وقت یعنی 1999ءمیں اقوام متحدہ نے NATO اور یورپین یونین کی مدد سے اس کا انتظام سنبھالا اور جنگ بند کرنے میں مدد کی اور آج تقریباً 9 سال بعد انہی طاقتوں نے خودمختار ریاست کی طرح آزاد ہونے میں مدد کی۔ اگر مندرجہ بالا حقائق یہی ہوتے جوکہ میں نے اوپر بیان کئے تو واقعی یہ خوشخبری ہوتی مگر اس آزادی میں مختلف اقوام اور اداروں کے مفادات نے کوسوو کی آزادی کا اہتمام کچھ اس طرح کیا ہے کہ نوآبادی نظام کی روح خوش ہو رہی ہے۔ کوسوو جو آزاد ہوا ہے اسکی مثال کچھ اسی طرح ہے کہ جس طرح صدام حسین کے زوال کے بعد عراق آزاد ہوا تھا۔ بظاہر کوسوو کی آزادی کا تذکرہ ہو رہا ہے مگر اسکی اصل قیادت امریکہ، برطانیہ، یورپیئن یونین اور NATO کے پاس ہے اور سارے دفاعی اور اقتصادی فیصلے یہی طاقتیں کرینگی۔ کوسوو کی آزادی U.N.O کے منشور کی مکمل نفی ہے کیونکہ U.N.O نے ایک پینل نامزد کیا تھا جسکی صدارت فن لینڈ کے سابق صدر مارٹی ایتھساری کر رہے تھے مگر ایتھساری صاحب دراصل امریکہ، یورپین یونین اور NATO کے مفادات کی رکھوالی کر رہے تھے جبکہ ان کو U.N.O کی قراردادوں کی پاسداری کرنا تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کوسوو کی آزادی کے اعلان کے فوراً بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اسکو تسلیم کر لیا ہے جبکہ چین، روس اور سپین نے اس پر شدید اعتراض کیا ہے۔ کیا آپ کو ایک طرف امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ناموں کے فوراً بعد روس، چین کے ناموں کے ذکر کے بعد سرد جنگ کے حریف یاد آتے ہیں یقیناً یہی عوامل سرد جنگ کے ضامن تھے اور اگر یہ زیادتیاں برقرار رہی تو یورپ میں سرد جنگ کے شعلے پھر نمودار ہو سکتے ہیں۔ اب رہی کوسوو کی آزادی کی خوشخبری تو یہ اسوقت مسرور کن ہوتی جب واقعی کوسوو کو مکمل آزادی ملتی یہ آزادی تو بالکل برٹش ایمپائر طرز کی حکومت ہے کہ وائسرائے امریکن ہو گا۔ یعنی اس وائسرائے کا نام I.C.R ہو گا۔ INTERNATIONAL CIVILIAN REPRESENTATIVE وہ کسٹم، ٹیکس، بینک ڈیپارٹمنٹ اور خزانے کا انچارج ہو گا۔ E/UNION سکیورٹی اور ڈیفنس کی انچارج ہو گی جبکہ NATO کے ذمہ ملٹری، پولیس، جیل، عدالتیں اور عدلیہ کی نگرانی ہو گی۔ عراق کی طرح کوسوو کی REBUILDING بھی امریکی کمپنیوں کے ذمہ ہو گی یعنی عراقی شہروں کے نظام کے ٹھیک کرنے والی مشہور زمانہ امریکی کمپنی HALLIBURTON کو امریکی اڈہ بنانے کے علاوہ کوسوو آئل اور ٹرانسپورٹیشن کا ٹھیکہ مل چکا ہے۔ کوسوو کے اس بندر بانٹ کو کوسوو کی آزادی کہا جا رہا ہے شاید یہ آزادی کچھ عرصہ بعد حقیقی آزادی میں تبدیل ہو جائے مگر کوسوو کی مسلمان آبادی کو بہرحال سربوں کے ظلم و ستم سے محفوظ ہو گی۔ سیاسی سکون ہو گا اور اگر REBUILDING جاری رہی تو عوام الناس کو فائدہ ہو گا بیروزگاری کم ہو گی سب کچھ اس طرح ہو گا کہ جس طرح نو آبادی نظام میں کالونیز میں حکومت بھی ہوتی ہے روزمرہ کے کام بھی چلتے ہیں مگر آپ دوسرے نمبر کے شہری کا درجہ رکھتے ہیں! اگر مستقبل قریب میں یورپ میں کوئی مسلمان آبادی کو آزادی ملتی ہے تو سلطنت عثمانیہ کے بعد (کوسوو جوکہ اسکا حصہ تھا) کوسوو ایک آزاد مسلم آبادی کا خطہ ہو گا۔ لیکن خدشہ یہی ہے کہ آسمان سے گرا اور کھجور میں لٹکا یعنی سربوں سے جنگ کے بعد جس آزادی یا مکمل آزادی کی توقع کوسوو کے افراد یا عوام کر رہے تھے وہ ہنوز ابھی دور ہے اور شاید اب انکو مکمل آزادی کے لئے ان قیادتوں سے جنگ نہ کرنا پڑے۔ آمین
|
|