اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 05 Mar 2008 06:34:00

ایک حصہ قرآن کے نام

ایک حصہ قرآن کے نام

شبیر احمد
اتنے حصوں میں بٹ چکا ہوں میں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
.... واہ!
صاحبو! ایک محترمہ بہن نے کچھ ذاتی مسائل بیان کرتے ہوئی یہ شعر پڑھا۔ شاعر کا نام نہ وہ جانتی تھیں نہ ہم جانتے ہیں۔ شعر بھلا تو لگا لیکن گویا خود اعلان کر رہا ہو کہ میں کسی استاد کا شعر نہیں ہوں۔ یہ شعر معنی کے اعتبار سے ایک خاصے مشہور شعر سے ملتا ہے جسے بہت سے لوگ غلطی سے علامہ اقبال کا سمجھتے ہیں۔
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
سرراہے دو اور اشعار سنتے چلئے جنہیں ایک ہجوم خلقت ہے جو علامہ اقبال سے بلاتکلف منسوب کر دیتی ہے۔ پہلا تو وہ جس کے بارے میں بے چارے شبیر کو تلاش بسیار کے باوجود معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کس نے کہا؟ اتنا یقین فرما لیجئے کہ علامہ نے نہیں فرمایا۔
تندی¿ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
صاحبو! آپ خوب سمجھتے ہیں کہ ہر بڑے شاعر کا ایک خاص اسلوب، طرز، انداز، طریقہ سلیقہ اسٹائل، لب و لہجہ ہوتا ہے۔ ”دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے“۔ بات تو اصولاً ٹھیک ہے، درست ہے لیکن وہ نکھرے ہوئے الفاظ، گندھی ہوئی ترکیبیں، من موہ لینے والا انداز، ذہن پر چھا جانے والا دبدبہ، یہ سب اس شعر میں کہاں؟
تندی¿ بادِ مخالف والا شعر علامہؒ کے اسلوب کے تھوڑا سا قریب تو پہنچتا ہے مگر کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے۔ عقاب، شکرا، شاہین، باز وہ بھی علامہ کا اونچا سمبل شاہین مخالف ہواﺅں سے کیونکر گھبرانے لگا؟ عقاب یا شاہین کو کسی نصیحت کی ضرورت بھلا کیا پڑی؟ اب اس بات پر غور فرمائیے۔ ”یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے“۔ پرندوں کا بادشاہ شاہین ہواﺅں کا غلام نہیں ہو سکتا۔ ہوا ہلکی ہو تیز ہو، ساتھی ہو یا مخالف ہو شہباز تو اسی بلندی اور اسی رفتار سے پرواز کرے گا جسے وہ مناسب سمجھتا ہے۔
اس طرح کے اشعار بے شمار ہیں جنہیں لوگ کسی کا سمجھتے ہیں لیکن ہوتا وہ کسی اور کا ہے۔ اردو شاعری کا ایک مشہور ترین شعر ایک ایسے بزرگ نے کہا جن کا صنف شعر میں کوئی مقام نہیں۔
قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اکثر لوگ اسے بھی علامہ اقبالؒ کا سمجھتے ہیں جبکہ یہ محمد علی جوہر نے کہا تھا۔
گزشتہ دنوں مرحوم احمد دیدات کے لائق جانشین انڈیا کے ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک نے اپنے ایک لیکچر میں کچھ ایسی بات کہی جسے دہرانا بھی شاید مناسب نہیں۔ صاحبو! سچ ہے کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک ابھی عالم شباب سے گزر رہے ہیں خداوند کریم نے انہیں وہ یادداشت عطا کی ہے جسے فوٹوگرافک میمری کہا جاتا ہے۔ ہندوﺅں، کرسچنوں اور دہریوں کے ساتھ مباحثے کا انہیں بہت ہی زیادہ شوق ہے۔ قرآن کریم اور بائیبل کے علاوہ وید اور گرنتھ صاحب بھی انہیں اس طرح ازبر ہیں کہ محاورةً آپ فرما سکتے ہیں کہ ان کی انگلیوں کی نوک پر رکھے رہتے ہیں۔ آیتوں، اشلوکوں اور گوروبانیوں کے ارشادات ان کی نوک زبان پر گویا بہتے چلے جاتے ہیں۔ یقیناً وہ آج کی دنیا میں اسلام کے مشہور ترین سکالر اور ڈیبیٹر سمجھے جاتے ہیں۔ جذبات کی روانی میں وہ کچھ ایسی بات کہہ گئے کہ دنیا بھر میں ہمارے اہل تشیع بھائیوں اور بہنوں کو چند لمحوں میں انہوں نے اپنا دشمن بنا لیا۔ ہم نے ابھی ابھی اپنے پندرہ صاحب فکر اہلسنت اور اہل تشیع بہن بھائیوں سے پوچھا کیا ڈاکٹر نائیک کا مکالمہ اس کالم میں درج کیا جا سکتا ہے؟ سب نے فرمایا، یہ کوئی راز نہیں، ”ضرور لکھئے“۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یزید بن معاویہ کو رضی اللہ عنہ کہا اور یہ بھی فرما گئے کہ سانحہ¿ کربلا حق و باطل کا معرکہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی محاذ آرائی تھی۔ تمام تر احترام کے باوجود ہمیں بھی ڈاکٹر صاحب کے اس بیان سے تشویش ہوئی اور دکھ پہنچا۔
صاحبو! بدقسمتی سے امت مسلمہ فرقہ بندی میں اتنی دور پہنچ چکی ہے کہ بہت سے علماءنے ان کے اس بیان کی تائید کر ڈالی۔ جبکہ اہل تشیع نے دنیا بھر میں ڈاکٹر نائیک کے اس بیان کا سخت نوٹس لیا۔ امت کی حالت وہی ہے کہ
اتنے حصوں میں بٹ چکا ہوں میں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
مزید ستم یہ کہ عالم اسلام کے مشہور ترین سکالر نے اپنا بیان واپس لینے سے انکار کر دیا۔ دیکھئے انڈیا ایک لحاظ سے ہم سے بہتر ہے۔ اگر انہوں نے یہی بات پاکستان میں کہی ہوتی تو اب تک دوسرے جہان کو سدھار چکے ہوتے۔ یہ تو تھی ایک بات برسر موضوع لیکن اب اس شعر کی خوبی پر بھی غور فرمائیے۔ ایک اچھے انسان کو دنیا کو کچھ دینے کے لئے بہت سے حصوں میں بٹنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ بسا اوقات اس کے پاس اپنے حصے میں کچھ رہتا ہی نہیں۔ قرآن کریم کی سورة الرعد آیت نمبر 17 پر غور فرمائیے۔ صحیح معنوں میں دنیا میں قیام تو اس شخص کا ہے جس سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچے۔
بات اور آگے چلتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ کے بندے تو وہ ہیں جو لوگوں کی اس وقت بھی مدد کرتے ہیں جب غربت خود ان کا حصہ ہوتی ہے (59/9) تو صاحبو! انسانیت کی معراج یہ ہے کہ صرف اپنی خاطر نہ جیا جائے بلکہ دوسرے کی فلاح میں انسان لگا رہے لیکن صاحبو! یہ تو وہ مقدس سبق ہیں جو ہم صدیوں سے بھلائے بیٹھے ہیں۔ اگر کسی نے یاد رکھے ہیں تو اہلِ مغرب نے یاد رکھے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ سید جمال الدین افغانی کے شاگرد محمد عبدہ جو مصر کے مفتی اعظم تھے اور 1906ءمیں اپنی وفات سے پہلے یورپ کا دورہ کر آئے۔ مصر پہنچتے ہی انہوں نے اپنے ایک بیان سے ایک عالم میں تہلکہ مچا دیا۔ بولے، ”لوگو! میں نے یورپ میں مسلمان نہیں دیکھے، اسلام دیکھا۔ مصر میں مسلمان دیکھتا ہوں اسلام نہیں دیکھتا“۔ غور فرمائیے کیا آج صورتحال ذرا بھی مختلف ہے؟ مفتی مرحوم سے دو صدیاں پہلے میر تقی میر اپنے مخصوص انداز میں کہہ گئے
مکے گیا، مدینے گیا، کربلا گیا
جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا
خان بہادر اکبر حسین الہ آبادی بھی خاموش نہ رہ سکے بولے
سدھاریں شیخ کعبے کو ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا ہم خدا کی شان دیکھیں گے
علامہ اقبال بھلا کیسے پیچھے رہتے۔ کہہ گئے، جی ہاں امت کی حالت زار اور اہل فرنگ کی ترقیوں کو دیکھ کر بول اٹھے
لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
خشت بنیادِ کلیسا بن گئی خاک حجاز
صاحبو! ہم 25 برس سے لکھتے آ رہے ہیں کہ امریکہ کے فاﺅنڈنگ فادرز خصوصاً تھامس جیفرسن، الیگزینڈر ہملٹن، ایرون بر اور جان ایڈمز کے پاس نہ صرف جارج سیل کے انگریزی ترجمے کی کاپیاں موجود تھیں بلکہ وہ اس ترجمے کے ذریعے قرآن کریم کا گہرا مطالعہ بھی کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے اس بات کو طریل عرصے تک راز میں رکھنے کی کوشش کی لیکن حال ہی میں امریکہ کے پہلے مسلم کانگریس مین نے ایک عالم کو حیران کر دیا جب اس نے تھامس جیفرسن کے قرآنی نسخے کو میوزیم سے اٹھوا کر بائیبل کے بجائے قرآن پر حلف لیا۔ امریکی آئین میں جو آپ کو سنہرے ستارے چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ سب کتاب حکیم ہی کا فیض ہیں۔ ازراہ کرم یہ بھی سمجھ لیجئے کہ قرآن صرف مسلمانوں کی میراث نہیں ہے۔ جی نہیں! وہ بار بار فرماتا ہے اللہ کی یہ کتاب تمام بنی نوع انسان کے لئے روشنی کا مینار ہے۔ لہٰذا صاحبو! اپنی زندگی کا تھوڑا ہی سا حصہ کتاب حکیم کو عام کرنے میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیے۔ دیکھئے۔
www.ourbeacon.com اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier