|
(ملک سلیم اکبر) ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پاکستانی عوام میں یہ شک یقین میں بدلتا جا رہا ہے کہ الیکشن میں پاکستانی عوام نے تو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کیا لیکن جن سیاسی جماعتوں پر عوام نے ذمہ داری اٹھانے کا فرض سونپا وہ سیاسی جماعتیں عوام کی توقعات کے مطابق Deliever کرنے کی کسوٹی پر پورا نہیں اتر رہی ہیں۔ انتقال اقتدار اور حکومت سازی جیسے نازک معاملے میں ہمارے سیاستدان وہ سیاسی پختگی نہیں دکھا رہے جس کی عوام نے ان سے توقعات اٹھا رکھی تھیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عوام نے تو الیکشن میں ذہنی پختگی کا ثبوت دیا لیکن ہمارے سیاسی قائدین قومی مفاہمت کے بلند و بانگ دعوﺅں کے باوجود عوام کو محض عمومی مفاہمت بلکہ زبانی مفاہمت ہی پر ٹرخا رہے ہیں۔ ٭.... مشرف کی باعزت یا بے عزت کرکے رخصتی ٭.... ججوں کی بحالی ٭.... پی سی او اور 3 نومبر کے غیرآئینی اقدامات ٭.... پارلیمنٹ کی خودمختاری ٭.... عدلیہ کی بحالی یہ تمام معاملات الیکشن سے پہلے جس قدر سیدھے اور آسان دکھائی دیتے تھے، وہ اب ایک خطرناک سیاسی کھیل بن کر سیاستدانوں کی عقل کا امتحان بن چکے ہیں بلکہ مجھے تو اب Million Dollar Question ہی یہ نظر آتا ہے کہ اسمبلیوں کے اراکین، وزرائے اعلیٰ اور نیا وزیراعظم پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں گے یا 1973ءکے آئین کے مطابق حلف اٹھائیں گے؟ نوازشریف نے زرداری کو کھلے میدان میں گھوڑے دوڑانے کی مکمل حمایت ہی محض اس لئے دی ہے کیونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے کسی بھی قسم کا مزید ”پنگا“ نہیں لینا چاہتے۔ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ زرداری اینڈ پارٹی مشرف سے حلف اٹھوالیں گے جس کا وہ کوئی حصہ نہیں بننا چاہتے لہٰذا مرکزی حکومت میں نوازشریف نے زرداری کو حکومت سازی میں عددی حمایت کا تو مکمل یقین دلایا ہے لیکن انتہائی صفائی کے ساتھ پی پی پی کی حکومت میں وزارتیں نہ لینے اور کابینہ کا رکن نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف اگلے الیکشن کیلئے وارم اپ ایکسرسائز کررہے ہیں۔ اندر خانے کی خبر تو یہ ہے کہ نوازشریف نے پی پی پی کی حکومت کو اگلے چھ ماہ سے آٹھ ماہ تک کیلئے مکمل حمایت کا فیصلہ کیا ہے اور یہ مدت گزرنے کے بعد وہ عوام میں دست سوال پھیلائیں گے کہ میں نے تو ججوں کی بحالی، عدلیہ کی خودمختاری، پارلیمنٹ کی بالادستی اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے پی پی پی کی حکومت کی مکمل حمایت کی، اب پی پی پی کی حکومت کچھ نہیں کرسکی تو بتلائیے میں کیا کروں؟ نوازشریف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ پی پی پی کی آئندہ حکومت مہنگائی ختم نہیں کرپائے گی۔ غریب عوام کے مسائل حل نہیں ہوپائیں گے۔ پی پی پی عوام سے کئے گئے وعدوں کو بھی پورا نہیں کرپائے گی اس لئے نوازشریف حکومت سے باہر رہ کر نئی حکومت کی زبانی کلامی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اگلے الیکشن کیلئے ہوم ورک بھی کرتے رہیں گے۔ مشرف کے معاملے میں بھی زرداری دوتہائی اکثریت حاصل نہ کرنے کا عذر تراش رہے ہیں لیکن عوام اس کے فریب میں نہیں آئے اور پی پی پی کی اس ”لچک“ کو امریکی دباﺅ کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اے این پی کے اسفند یار ول یخان بھی مشرف کے مواخذے کے حق میں نہیں ہیں۔ ادھر مشرف کا کیمپ زرداری کو مسلسل یقین دہانی کروا رہا ہے کہ چودھری برادران کے علاوہ تمام کی تمام (ق) لیگ زرداری کی بی ٹیم بننے کو تیار ہے لیکن زرداری حکومت سازی میں (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کی کڑوی گولی نہیں نگلنا چاہ رہے کیونکہ پی پی پی سمجھتی ہے کہ 2002ءکے الیکشن میں سندھ میں حکومت سازی کا پی پی پی کا حق تھا جسے ایم کیو ایم نے چرالیا تھا۔ اب جب سندھ میں پی پی پی کو اکثریت حاصل ہے تو ایم کیو ایم کو کیوں ساتھ ملایا جائے؟ ادھر ایم کیو ایم کی لیڈرشپ امریکی سفیر کے علاوہ مغربی سفیروں سے بھی ملاقاتیں کرکے کراچی کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کا دباﺅ ڈال رہی ہیں۔ زرداری اور نوازشریف بھی حکومت سازی سے پہلے امریکی اور یورپی سفیروں سے کھلے عام ملاقاتیں کررہے ہیں بلکہ دن میں دو، دو بار بھی مل رہے ہیں۔ سیاست اور صحافت کے ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے سفیر کو سیاسی جماعتوں سے میل جول چھپ چھپا ہی کر رکھنا پڑتا ہے لیکن پاکستان میں یہ کام کھلے عام ہورہا ہے جسے عوام حکومت سازی میں بیرونی مداخلت سمجھ رہی ہے۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے ہماری رہبری کریں۔ پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ پی پی پی اور نوازشریف لوٹوں کے بارے میں نفرت انگیز بیانات دیتے رہے ہیں، اب وہ کس منہ سے لوٹوں کی خریدوفروخت میں مصروف ہیں۔ جمہوری الیکشن کے بعد اب غیرجمہوری اور غیرپارلیمانی ہتھکنڈوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ شہبازشریف اور نوازشریف پارلیمنٹ کا رکن نہ ہونے کے باوجود صوبے اور مرکز میں پارلیمانی لیڈران چن لئے گئے ہیں۔ موروثی سیاست کا کب خاتمہ ہوگا۔ اسمبلیوں کے اراکین کو لوٹا بنانے کا عمل کب رکے گا؟ لین دین، جوڑ توڑ، ہارس ٹریڈنگ سے کب ہمارے سیاستدان آزاد ہوں گے۔ عوام نے آپ کا احترام کیا ہے، آپ بھی عوامی خواہشات کا احترام کریں۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد ٭٭٭
|
|