|
قمر علی عباسی بزرگ کہتے ہیں کسی چیز کی عادت پڑ جائے تو مشکل سے جاتی ہے جو لوگ برصغیر سے امریکہ آتے ہیں وہ ذرا دیر میں یہاں کے عادی ہو پاتے ہیں۔ ہمیں اس کا ذاتی تجربہ ہے۔ پاکستان میں رہتے اس کا پانی پیتے‘ کھانا کھاتے ان سب چیزوں کے عادی ہو گئے تھے۔ ایک بار برطانیہ میں طویل قیام کا موقع ملا وہاں کی اشیاءاور ماحول نے خاصہ پریشان کیا۔ دو سال پہلے ایک ٹیلی ویژن چینل پر پاکستان کے رہنما الٰہی بخش سومرو کی بات چیت نشر ہو رہی تھی۔ وہ کہنے لگے پاکستان میں 1971ءمیں آزادانہ‘ منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوئے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہوگیا۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہوا پاکستان کے لوگ منصفانہ انتخاب کے عادی نہیں۔ یہ حقیقت بھی ہے لوگ دھاندلی بے ایمانی کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ انتخاب سے پہلے ہی شورمچانے لگتے ہیں‘ دھاندلی ہوگی دھاندلی ہوگی۔ ایک دیہات میں کوئی عورت پگ ڈنڈی پر چلی جاتی تھی۔ ایک آدمی سر پر گھڑا اور ہاتھ میں کبوتر لیے پاس سے گزرا عورت بولی تم مجھے چھیڑو گے آدمی نے کہا بی بی میں اپنے راستے پر جا رہا ہوں کیوں چھیڑوں گا‘ عورت نے کہا نہیں تم مجھے ضرور چھیڑو گے۔ آدمی نے جواب دیا میرے ہاتھ میں کبوتر ہے بھلا کیسے چھیڑوں گا۔ یہ اڑ جائے گا۔ عورت نے کہا تم خالی گھڑا لے کر جا رہے ہو۔ اس میں کبوتر کو بند کرکے چھیڑو گے‘ پاکستان میں صدر پرویزمشرف کے ساتھ یہی ہو رہا ہے لیکن وہ گھڑے میں کبوتر بند کرکے چھیڑ بھی نہیں سکتے۔ پاکستان کے ایک بے حد مقبول وزیراعظم سے کسی نے پوچھا جناب اس بار آپ منصفانہ اور شفاف الیکشن کرا دیں گے۔ وزیراعظم صاحب نے فوراً کہا آپ نے مجھے پاگل سمجھا ہے جس شاخ پر بیٹھا ہوں اس پر آری چلا دوں۔ برصغیر میں لوگ برسوں سے ملاوٹ کی اشیاءکھاتے ہیں اور وہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ خالص مل جائے تو ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ ہم نے تو بچوں کو ایسا دودھ پیتے دیکھا ہے جس میں ماں خود پانی ملاتی ہے کہ بچہ صحت مند رہے۔ پاکستان میں اس بات آزادانہ‘ منصفانہ الیکشن ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو جماعتیں جیتیں ان میں سے بیشتر صدر مشرف کے پیچھے پڑ گئیں صدارت سے استعفیٰ دو۔ پہلے صدر مشرف سے یہ مطالبہ تھا کہ وردی اتارو انہوں نے مجبور ہو کر وردی اتار دی اور شیروانی زیب تن کرلی اور عوام کے مطالبے پر منصفانہ انتخابات کرا دیئے۔ اس میں وہ لوگ ہار گئے جو تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی انہیں شکست دے گا اور وہ جیت گئے جو خواب میں بھی اپنے آپ کو ہارتا دیکھتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ جو انتخاب نہیں لڑے وہ بھی جیت گئے۔ بقول سینیٹر طارق عزیز کے آصف زرداری‘ اعتزاز احسن‘ شہبازشریف‘ نوازشریف بغیر الیکشن لڑے جیت گئے کیونکہ یہ صاحبان وہ کچھ کر رہے ہیں جو لوگ جیت کر بھی نہیں کرتے۔ ہماری سمجھ میں ایک بات نہیں آئی کہ صدر پرویزمشرف کو یہ مشورہ کس نے دیا تھا کہ انتخابات منصفانہ اور غیر جانبدار ہوں۔ اس کی وجہ سے ان کی حمایتی ٹیم بری طرح ہار گئی۔ ان کے کئی ڈھول بجانے والے رہ گئے۔ شیخ رشید جو پرویزمشرف کے لاﺅڈ سپیکر تھے اس کی بجلی حنیف عباسی نے اڑا دی اب جو آواز اس لاﺅڈ سپیکر سے آ رہی ہے وہ کوئی سننا پسند نہیں کرتا۔ خاص طور سے صاحبان اقتدار دوسری طرف چودھری برادران بھی اپنی سائیکلیں پنکچر ہونے کے بعد خونخوار نظروں سے صدارتی محل کی طرف دیکھ رہے ہیں جو مستقبل میں کسی بھی طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ دکاندار لاکھ قسمیں کھائے چیز خالص ہے لیکن خریدار اس کی بات نہیں مانتا کیونکہ وہ یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ بازار میں خالص چیز مل جائے اور یہ حقیقت ہے بازار میں اگر ملاوٹی اشیاءنہ آئیں تو رسد کم ہو جاتی ہے اور طلب کیونکہ اسی مقدار میں رہتی ہے اس لیے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ 18 فروری کے انتخاب میں کچھ ایسا ہی ہوا چھوٹی چھوٹی جماعتیں اہم بن گئی ہیں‘ جوڑتوڑ میں انہیں شامل کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ جو آنے والے زمانے میں ایک کمزور حکومت کی تشکیل کا سبب بن سکتی ہے۔ ہمارا یقین ہے برصغیر میں کوئی ڈاکٹر حکیم مریض کو خالص اشیاءنسخے میں لکھ دے تب بھی اسے ایسی اشیاءسے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ معدہ عمر بھر ملاوٹی اشیاءکھانے کی وجہ سے اب خالص اشیاءکا عادی نہیں رہا‘ پاکستان میں منصفانہ انتخابات ہوئے تو بعض رہنماﺅں سے یہ ہضم نہیں ہو رہے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا وہ روز بیان دیتے ہیں صبح کچھ دوپہر کوئی اور شام کو بالکل مختلف۔ ہمیں صدر پرویزمشرف سے ہمدردی ہے اور اس بات کا افسوس بھی ہے کہ وہ آٹھ سال تک حکومت کرنے کے بعد بھی سیاسی لوگوں کے مزاج کو سمجھ نہ سکے۔ خالص انتخاب دیکر ہر رہنما کو بیمار کردیا وہ چھینکتا کھانستا کھنکھارتا پھر رہا ہے اور اس حالت میں ایک ہی نعرہ لگاتا ہے ”صدر پرویزمشرف صدارت سے استعفیٰ دیں“ ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے ہور چپو۔
|
|