اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 05 Mar 2008 06:26:00

اور پاکستان جمہوریہ بن گیا

اور پاکستان جمہوریہ بن گیا
(عبدالقادر حسن)
پاکستانی قوم کی قسمت نے یاوری کی اور وہ دن آ گیا جب فوجی آمریت کی ماری اس قوم کو اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرنے کا موقع مل گیا۔ 18 فروری 2008ءکے یہ الیکشن ایک فوجی حکومت کے خلاف عوام کا فیصلہ تھے جس میں اس آمرانہ حکومت کو مسترد کر دیا گیا اور نہ صرف فوجی آمر بلکہ اس کے سیاسی ساتھیوں کے بارے میں بھی فیصلہ سنا دیا گیا۔ اس حکومت نے عدالتوں کے فیصلے تو مسترد کر دئیے بلکہ عدالتوں کو بھی مسترد کر دیا لیکن قوم کا فیصلہ مسترد نہیں کیا جا سکتا چنانچہ آج صدارتی ایوان میں زلزلہ برپا ہے اور بار بار یہ اعلان سنائی دے رہا ہے کہ صدر ہر منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہیں لیکن ایک منتخب پارٹی کے لیڈر میاں نوازشریف نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر پرویز مستعفی ہو جائیں۔ ایک دوسرے لیڈر نے کہا ہے کہ نئی حکومت ان کا مواخذہ کرے گی اور انہیں صدارت سے نکال دے گی۔ عام انتخابات میں صدر کے خلاف فیصلہ دینے والے عوام منتظر ہیں کہ ان کے نئے منتخب حکمران عوامی فیصلے پر کب عملدرآمد کریں گے۔ عوام آئینی پیچیدگیوں اور سیاسی مصلحتوں کو نہیں جانتے وہ صرف اپنے فیصلے سے آگاہ ہیں اور اس کے نفاذ کے منتظر۔ وہ فیصلہ جسے عوامی ریفرنڈم کہا جا رہا ہے۔
آج پاکستان اپنی پرانی ذلت والی زندگی سے نکل چکا ہے۔ کل تک کہا جاتا تھا کہ دنیا کے صرف دو ملکوں میں ننگی فوجی آمریت قائم ہے ایک برما دوسرا پاکستان۔ لیکن آج کا پاکستان کل والا پاکستان نہیں رہا۔ نئی جمہوری حکومت قائم ہونے میں جتنے دن بھی لگیں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا پاکستان بہرحال آج ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور اس کے الیکشن کے ذریعے ہونے والے فیصلے کو ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی قوم کا اجتماعی فیصلہ برحق ہے اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ جو بھی منتخب سیاسی پارٹی قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر دے گی اسے حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ پیپلز پارٹی بھی ہو سکتی ہے اور مسلم لیگ ن بھی۔ یہ دونوں پارٹیاں اپنی اپنی جگہ بڑی پارٹیاں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی حکومت بنا سکتی ہے اور خیال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور اے این پی مل کر حکومت بنائیں گے۔ اے این پی پہلی بار قومی اسمبلی کی ایک بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ سب سے بڑی بات جو ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ الیکشن بلاشبہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہوئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے نتائج بعض قوتوں کی پسند کے مطابق برآمد نہیں ہوئے اور ان کے منصوبے دھرے رہ گئے لیکن انتخابات کے درست ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ یہاں میں قارئین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں ان قوتوں بلکہ اس قوت کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس کی کوششوں اور واضح ہدایات کی وجہ سے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی اور سب سے بڑی خوش آئند اور فخر کی بات یہ ہے کہ یہ قوت غیر ملکی نہیں تھی پاکستانی تھی خالص پاکستانی ورنہ امریکہ تو کہہ چکا تھا کہ تھوڑی بہت دھاندلی تو ہوا ہی کرتی ہے مگر ہماری اس وقت ویٹو پاور رکھنے والی قوت نے فیصلہ کیا کہ دھاندلی نہیں ہو گی۔ صدر صاحب سمیت ان کی حامی سیاسی پارٹی کے لیڈر یہ احکامات دیکھتے رہ گئے اور الیکشن ان کی توقعات اور خواہشات کے برعکس منصفانہ ہو گئے۔ امید ہی نہیں، یقین ہے کہ آگے چل کر حکومت سازی کا عمل بھی شفاف ہو گا اس میں اوپر سے کوئی مداخلت نہیں ہو گی جس طرح انتخابات کے دوران کچھ لوگ منہ دیکھتے رہ گئے اور ان کی دھاندلی کے منصوبے الٹ گئے اسی طرح حکومت سازی بھی کسی رخنہ اندازی کے بغیر ہو گی اور کسی کو الیکشن کے نتائج کی روح کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔
آج یہاں پاکستان میں آپ باہر بازاروں اور گلی کوچوں میں جائیں تو لوگوں کے چہرے ہی بدلے ہوتے ہیں ان پہ امیدوں کی بہار ہے اور قوم کی آنکھوں میں کسی روشن مستقبل کی چمک ہے، وہ روشن مستقبل جس کے لئے انہوں نے ووٹ دئیے ہیں۔ پاکستانی حیران ہیں کہ 18 فروری کے دن ان کو کیا ہو گیا تھا کہ صبح وہ گھروں میں بیٹھے سوچتے رہے کہ ووٹ دینے کے لئے گھروں سے باہر نکلیں یا نہ نکلیں کیونکہ پاکستان میں ہر جگہ اور ہر وقت کسی دہشت گردی کا خطرہ موجود رہتا ہے خصوصاً ایسی جگہوں پر جہاں ہجوم جمع ہو، اس سے قبل پنجاب حکومت کے سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ بدامنی کی کوئی بڑی واردات ہو سکتی ہے اس افسر کا یہ غیر ضروری اور نامناسب بیان بہرحال حکومت کے متعلقہ افسر کا بیان تھا جس کی معلومات عوام سے زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ باہر نکلے اور رفتہ رفتہ انہوں نے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کیا اور پھر ایسی آندھی چلی کہ قوم نے حکومت کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا، وہ فیصلہ جو دلوں کے اندر موجود تھا ووٹ کی پرچی پر منتقل ہو گیا۔ سابقہ حکومت کے بڑے لیڈر عوام کے غصے کے خصوصی شکار ہوئے اور ق لیگ کی سیاسی قیادت کا صفایا ہو گیا۔ مسلم لیگ ن جو اچھی طرح اپنی انتخابی مہم بھی نہ چلا سکی پنجاب میں سب سے زیادہ کامیاب پارٹی بن کر سامنے آئی اگر اس جماعت کو وقت مل جاتا تو الیکشن کے نتائج زیادہ حیران کن ہوتے بہرکیف اب پنجاب میں (ن) لیگ، سندھ میں پی پی پی، سرحد میں اے این پی اور بلوچستان میں قبائلی سرداروں پر مشتمل حکومت بنے گی۔ وفاق میں اس وقت تک کہا جا رہا ہے کہ اکثریتی پارٹی یعنی پیپلز پارٹی حکومت بنائے گی، خود میاں صاحب نے جو دوسری بڑی پارٹی ہیں کہا ہے کہ حکومت بنانا پی پی پی کا حق ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ ووٹوں والی پارٹی ہے۔ ہو سکتا ہے قومی اسمبلی کی تین بڑی پارٹیاں مل کر حکومت بنائیں، پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور اے این پی لیکن حکومت جس کی بھی بنے پاکستان اب ایک جمہوری ملک ہے۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier