اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 05 Mar 2008 06:26:00

سول بیوروکریسی کی پہلی ووٹ شماری

سول بیوروکریسی کی پہلی ووٹ شماری
(منو بھائی)
ہمارے ایک جواں سال مگر کہنہ مشق، ادیب مگر بیوروکریٹ دوست حالیہ عام انتخابات کے دوران جماعتوں کی ”پرفارمنس“ ناپنے والے دانشوروں کی خدمت میں نوکرشاہی کے منفی استعمال کے ذریعے انسانی تاریخ کے ایک عظیم انقلاب کو ناکام بنانے کی بنیاد رکھنے والے جوزف سٹالن کا یہ مقولہ پیش کرتے ہیں کہ ”انتخابات کے فیصلے ووٹ دینے والے نہیں ووٹ گننے والے کیا کرتے ہیں“ اور وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ 19 فروری کے طلوع آفتاب سے پہلے جیو ٹی وی کی سکرین پر دکھائی دے گیا تھا کہ ماضی کے تمام عام انتخابات کے برعکس 2008ءکے عام انتخابات فوجی افسرشاہی کی بجائے سول نوکر شاہی نے کروائے ہیں اور ووٹ گننے والوں نے اپنے فرائض پوری بیوروکریٹک فرض شناسی کے ساتھ ادا کرتے ہوئے عام شہریوں کی خواہشات کا احترام بھی کیا ہے اور ریاست یعنی حکمران طبقے کی ضروریات کو بھی پورا کردیا ہے تاکہ....ع
باغباں بھی خوش رہے، راضی رہے صیاد بھی
یعنی رند کے رند رہیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔
ہمارے دوست کا تجزیہ شمال مغربی سرحدی صوبے سے شروع ہوتا ہے جو کہ دہشت گردی کے خلاف ”امریکی جہاد“ کی وجہ سے ”حالاتِ جنگ“ میں سے گزر رہا ہے اور حالات جنگ میں سے گزرنے والے صوبے میں مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے علاوہ اس صوبے سے مذہبی بنیادپرستی کے اثرات کو زائل کرنے کی بھی ضرورت تھی اور پھر اسفند یار ولی خان اور افراسیاب کے دورہ¿ واشنگٹن کے بعد واجب ہوگیا تھا کہ وہاں متحدہ مجلس عمل کی بجائے عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے قیام کی راہیں ہموار کی جائیں چنانچہ یہ ضروریات پوری کردی گئی ہیں اور اے این پی والے کسی مخلوط حکومت کی آزمائش سے گزرنے کی بجائے ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم کرنے کے قابل ہوگئے ہیں اور اگر وہ اندرونی اور بیرونی عناصر کی طرف سے دئیے گئے مینڈیٹ کا خیال رکھیں گے تو اقتدار کا عرصہ بغیر کسی مداخلت کے مکمل کریں گے۔
پنجاب کے بارے میں ہمارے دوست کا تجزیہ ہے کہ 1970ءکے عام انتخابات کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور نے اس صوبے کو ایک سماجی انقلاب کا رخ دکھایا تھا جس سے یہاں کے پڑھے لکھے لوئر مڈل کلاس طبقے نے فائدہ اٹھایا تھا اور متحدہ عرب امارات میں غریب محنت کش طبقے کیلئے روزگار کے نئے مواقع میسر آئے تھے چنانچہ یہاں کے نوجوانوں میں فوج میں بھرتی ہونے کے رجحانات میں نمایاں کمی دکھائی دی تھی۔ زیادہ تر نوجوانوں نے 1970ءسے 1980ءتک کی دہائیوں میں سول سرکاری ملازمتیں اختیار کرنے یا سیاست میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ 2008ءکے عام انتخابات کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب کے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر ایک سماجی انقلاب سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا ہے۔ چنانچہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اپنے صوبے کے انتخابی نتائج کے تمام تقاضے پورے کرنے پڑیں گے بصورت دیگر اس کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ جائیگا۔
تجزئیے میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں اٹک سے خانیوال تک منتخب ہونیوالوں کی اکثریت ”حاجیوں“ پر مشتمل ہے۔ یہ حاجی صاحبان دینی اور دنیاوی تقاضوں کے درمیان معلق ہیں۔ بزرگوں کی عزت کرتے ہیں، عمرے اور حج کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ زندگی کی آسائشات اور کسی حد تک تعیشات میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں چنانچہ ان کے انتخاب سے پنجاب کے مڈل کلاسیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تعلیم، صحت اور روزگار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ خانیوال سے حیدر آباد تک فیوڈل کلاس کا سیاسی غلبہ ہے اور ان کے اس سیاسی غلبے کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا ہے اور مخدوم جاوید ہاشمی سے مخدوم شاہ محمود قریشی تک سب کا یکساں حصہ ڈالا گیا ہے۔
عام انتخابات کے ووٹ گننے والوں کی گنتی (Articulation) کا کمال ہے کہ ملک کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتیں سیاسی کھیل سے ابھی تک باہر ہیں اور غیرسیاسی یا مصنوعی اور بناوٹی سیاسی جماعتوں کی مدد اور تعاون کے بغیر کچھ نہیں کرسکتیں جبکہ غیرسیاسی، نومولود، مصنوعی اور خانہ ساز سیاسی جماعتوں کو پوری طرح متحرک ہونے اور متحرک رہنے کے قابل بنا دیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا کمال کے تحت ہی ایم کیو ایم کی لیڈرشپ پی پی پی کے غیرمشروط تعاون کی شرائط پیش کررہی ہے اور آصف علی زرداری یہ کہتے ہیں کہ وہ حکومت ہی نہیں حاکمیت بھی چاہتے ہیں جبکہ ملک پر صدارتی حاکمیت پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور مستحکم کردی گئی ہے اور پورا پورا انتظام کرلیا گیا کہ پنجاب اور سندھ میں جب بھی ”ضرورت“ پیش آجائے، حالات کو تبدیل کرنے کا آسانی سے انتظام کرلیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو سیاسی حکمرانوں کو دارالحکومتوں تک محدود رکھا جائے جیسے کرزئی صاحب کی افغان حکومت ”کابل پابند“ ہے۔
بلوچستان کے انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ ”مینگل مری بگٹی“ کے عنوان سے قومیتوں کی سیاست کو آپس میں الجھنے میں مصروف رکھا جائیگا اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے ایران کے بارے میں اپنے ارادوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس صوبے میں مسلم لیگ (ق) کا سیاسی غلبہ حیران کن ہونے کے باوجود سمجھ میں آسکتا ہے اور یہ اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ امریکہ ایران پر فضائی حملہ کردیگا۔ امریکی آئین کے مطابق امریکہ حالت جنگ سے گزر رہا ہو تو وہاں کے موجودہ صدر کو آئین سے ماورا اختیارات کے تحت اپنی صدارت جاری رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ بات دور کی کوڑی لانے والی نہیں ہوگی کہ پاکستان کے حالیہ عام انتخابات کا تعلق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے سیاسی مستقبل سے بھی ہوسکتا ہے۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications