|
عطاءالحق قاسمی بچپن میں ایک آواز جو کان میں گونجا کرتی تھی وہ آواز آج بھی مسجد میں اسی طرح سنائی دیتی ہے۔ جمعہ کی نماز سے پہلے مسجد کمیٹی کے دو ارکان ایک صاف ستھرے کپڑے کے دو سرے تھامے نمازیوں کی قطار کے سامنے گزرتے ہیں اور جزاک اللہ‘ جزاک اللہ کی صدا بلند کرتے چلے جاتے ہیں! لوگ حسب استطاعت اس کپڑے میں دس‘ بیس روپے ڈال دیتے ہیں۔ جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کے لاﺅڈسپیکر سے اعلانات شروع ہو جاتے ہیں! حاجی شریف صاحب نے دس روپے بھیجے ہیں۔ جزاک اللہ! جزاک اللہ ایک ننھی منی پیاری سی بچی عائشہ پانچ کا سکہ لے کر آئی ہے۔ عائشہ ملک ارشد صاحب کی بیٹی ہے۔ ملک ارشد صاحب علاقے کی بہت مخیر شخصیت ہیں۔ ماشاءاللہ ان کا سارا خاندان دینی کاموں میں آگے آگے ہے۔ جزاک اللہ عائشہ بیٹی‘ اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے شیدے پہلوان کی پیٹھ نہیں لگی۔ مسجد کی خدمت میں بھی یہ سب سے آگے ہیں۔ جزاک اللہ جزاک اللہ شیدے پہلوان جی جزاک اللہ! حافظ عباس صاحب کی طرف سے ابھی دو سو روپے وصول ہوئے ہیں۔ حافظ صاحب دوحہ‘ قطر کے عبدالحمید صاحب کے سمدھی ہیں۔ یہ سارا خاندان دینی کاموں میں پیش پیش ہے۔ جزاک اللہ حافظ عباس صاحب۔ ”یہ کمرشل سروس“ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہتی ہے مگر ”جزاک اللہ“ کی آوازیں اس کے علاوہ بھی ہرقدم پر سنائی دیتی ہیں۔ میڈیکل سٹور میں دوا لینے جاتے تو وہاں لکڑی کا ایک کاﺅنٹر پڑا نظر آتا ہے۔ جس پر ”جزاک اللہ“ لکھا ہوتا ہے۔ بس میں سفر کے دوران کوئی صاحب بس میں داخل ہوتے ہیں اور سکوں سے بھرا ہوا ڈبہ چھنکاتے ہوئے ”جزاک اللہ“ کی صدا لگاتے ہیں۔ آپ دوپہر کو گھر میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ دروازے کی گھنٹی بجتی ہے، آپ باہر نکلتے ہیں تو کوئی صاحب ہاتھوں میں رسید بک تھامے مجسم جزاک اللہ بنے دکھائی دیتے ہیں! بقر عید پر تو نہایت قابل قدر کام کرنے والی تنظیموں کے علاوہ کاغذی تنظیمیں بھی میدان میں، ایک صاحب بیٹھے جزاک اللہ کی صدا لگاتے اور رسیدیں کاٹتے نظر آتے ہیں۔ بعض دفعہ تو کھالوں کے حصول کے مسئلہ پر گردنیں کاٹنے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں چاروں طرف سے جہاں درودوسلام کی مبارک آوازیں سنائی دیتی ہیں وہاں ”جزاک اللہ“ کا ورد بھی پورے زوروں پر ہوتا ہے۔ صدقہ‘ خیرات اور زکوٰة کے ہزاروں امیدوار اس مقدس مہینے میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی آپ کو جنت میں کارنر پلاٹ دلوا رہا ہوتا ہے اور کوئی حوروں کی نوید سناتا ہے۔ ان میں سے کچھ اصلی اور کچھ نقلی تنظیموں کے نمائندے ہوتے ہیں اور جس طرح ان دنوں جھوٹ اور سچ میں تمیز مشکل ہو گئی ہے اسی طرح ان میں سے ایک نمبر اور دو نمبر کو پہچاننا بھی مشکل ہوگیا ہے! چند روز پہلے ایک صاحب گلے میں ہار ڈالے اور بھنگڑا ڈالتے ہوئے وارد ہوئے، ان سے پوچھا کیا مسئلہ ہے، بولے آپ کو مبارک ہو میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ میں نے کہا خیرمبارک مگر میری طرف کیسے آنا ہوا۔ فرمایا ”میں مسلمان ہوگیا ہوں‘ اب میری مدد کرو“ میں نے پوچھا ”مسلمان ہونے سے پہلے آپ کیا کرتے تھے“ بولے ”کام کرتا تھا“ پوچھا ”اب کیوں نہیں کرتے“ کہنے لگے ”اب الحمدللہ مسلمان ہوگیا ہوں جزاک اللہ‘ جزاک اللہ“۔ صرف افراد ہی نہیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی لاکھوں ایکڑ انتہائی قیمتی زمینوں پر سرکاری خرچ سے عشرت کدوں کی تعمیر کرنے والی حکومتیں بھی اس طرح کی مزید عیاشیوں کیلئے اب نمائندے ”مخیر“ حکومتوں کی طرف بھیجتی ہیں اور پھر قوم کو خوشخبری سناتی ہیں ”امریکہ کے چودھری بش صاحب نے دس ملین ڈالر بھیجے ہیں۔ جزاک اللہ‘ جزاک اللہ‘ سعودی عرب کے حاجی عبداللہ صاحب نے مفت تیل دینے کا علان کیا ہے۔ جزاک اللہ‘ اللہ انہیں ایک اور حج کرائے۔ برطانیہ کے گورڈن براﺅن صاحب کی طرف سے بھی عطیہ موصول ہوا ہے۔ جزاک اللہ‘ اس کے علاوہ ہم لوگ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بھاری قرضے بھی لیتے ہیں اور ہر قرضے کو اپنی عظیم کامیابی قرار دیتے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی طرف سے لاﺅڈ سپیکر پر اعلان ہوتا ہے پاکستان کو مزید قرضہ دےدیا گیا، اسے مزید غلام بنا لیا گیا ہے۔ الحمدللہ‘ الحمدللہ!
|
|