اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Mon, 07 Jan 2008 15:26:00

بے نظیر بھٹو بھارت کی ڈارلنگ

بے نظیر بھٹو بھارت کی ڈارلنگ
(سید زین العابدین۔ شکاگو)
سابق وزیراعظم و چیئرپرسن پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کے راولپنڈی میں گزشتہ ہفتہ قتل کی اطلاع نے ساری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا کی فضا کو مغموم بنا دیا، وہیں یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ بے نظیر بھٹو بین الاقوامی سطح پر مقبولیت میں بھی بلاشبہ بے نظیر تھیں۔ 80ءکی دہائی میں کسی مسلم مملکت کی وزیراعظم بن کر بے نظیر بھٹو نے دنیا میں اپنی شہرت کا ڈنکا بجایا تھا۔ آکسفورڈ اور ہاورڈ کی فارغ التحصیل بے نظیر بھٹو جہاں مغربی دنیا خاص کر امریکہ کی نور چشمی تھیں، وہیں بھارت کی بھی ڈارلنگ تھیں۔
آکسفورڈ کے ان کے ایک ساتھی راجیو گاندھی جس وقت بھارت کے وزیراعظم تھے، مسز بے نظیر بھٹو بھی پاکستان میں پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے پر ملک کی وزیراعظم بنی تھیں۔ چنانچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ تعلقات کی بحالی کا عمل ان کے دور میں ہی شروع ہوا تھا جو کہ نوازشریف، واجپائی کے زمانے میں اہم مرحلے میں داخل ہوگیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف اور منموہن سنگھ نے اس ضمن میں مثبت اقدامات اٹھائے ہیں۔ بھارتی ریاست پنجاب کی شورش پسندی کے خاتمہ میں بے نظیر بھٹو کے کردار کو بھارتی حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ سکھ دہشت گردوں کی مکمل فہرست اور مطلوب معلومات اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کو فراہم کرتے ہوئے انہوں نے بھارت کے ہاتھ مضبوط کئے تھے۔ بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی میں آکسفورڈ کی تعلیم کے علاوہ اور بہت سی باتیں مشترک تھیں، ان میں خصوصی اہمیت ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی میں شملہ معاہدہ کے سبب دوستانہ تعلقات قائم ہونا اور دوسری نسل تک برقرار رکھنے کو حاصل تھا۔
1977ءمیں برصغیر کے تین ممالک بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں ایک جیسے حالات پیدا ہوگئے تھے۔ اندرا گاندھی اور ان کی کانگریس پارٹی جہاں اقتدار سے محروم ہوئی، وہیں ذوالفقار علی بھٹو کو اپوزیشن جماعتوں کے دباﺅ تحت اقتدار جنرل ضیاءالحق کے حوالے کرنا پڑا جنہوں نے ملک میں مارشل لاءنافذ کرکے 11 برس حکومت کی۔ دوسری طرف سری لنکا کی وزیراعظم بندرانائیکے پارلیمنٹ کا چناﺅ ہار گئیں۔ کچھ عرصہ بعد روسی افواج نے افغانستان پر قبضہ کرلیا۔ اسی دوران ایران میں آیت اللہ خمینی کا انقلاب آگیا اور رضا شاہ پہلوی کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ یہ وہ حالات تھے جس سے جنوبی ایشیا میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی تھی۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ملک میں ہوئے عام چناﺅ میں راجیو گاندھی نے اندرا گاندھی سے ہمدردی کے ووٹ حاصل کئے اور کانگریس (آئی) کو اکثریت دلانے میں اپنے نانا پنڈت جواہر لال نہرو کا ریکارڈ بھی توڑ دیا تھا۔ اسی طرح پاکستان میں مارشل لاءکی برخاستگی کے بعد ہوئے چناﺅ میں بے نظیر بھٹو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی ہمدردی کے ووٹ لیکر پاکستان کے سنگھاسن پر اپنا راج شروع کردیا۔
راجیو گاندھی کی ہلاکت کے بعد اب جبکہ سونیا گاندھی نے کانگریس آئی کی عنان قیادت سنبھال لی، اب اسی طرح بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے پارٹی کی قیادت عارضی طور پر سنبھال لی ہے۔ آنیوالے برسوں میں جب راجیو گاندھی کے فرزند راہول گاندھی بھارت کے وزیراعظم ہوں گے، قریباً اسی دور میں بے نظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے وزیراعظم ہوں گے تو کسی کو تعجب نہیں ہوگا۔ نہرو کے بعد اندرا گاندھی ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو روایت کا انحراف ہوچکا ہے۔ راجیو گاندھی کی جگہ ان کی بیٹی پریانیکا گاندھی کی بجائے راہول گاندھی سیاست میں داخل ہوئے۔ بالکل اسی طرح بے نظیر بھٹو کے بعد ان کی دختر کی بجائے ان کے بیٹے بلاول سیاست میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ تو آنیوالا وقت بتائیگا کہ راہول گاندھی اور بلاول بھٹو میں کتنی قدریں مشترک ہیں۔
٭٭٭







(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں



  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications