پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد جناب آصف زرداری نے قاف لیگ کو ”قاتل لیگ“ قرار دیا ہے حالانکہ اب اسے ”مقتول لیگ“ قرار دینا زیادہ مناسب ہے کیونکہ محترمہ کی شہادت کا سارا ملبہ اس جماعت پر آن گرا ہے جس کے نیچے اس کے ”لواحقین“ دب کر رہ گئے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ محترمہ کی شہادت نے خود پیپلزپارٹی کو بھی ایک بڑے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے یہ چیلنج اس خلاء کو پر کرنا ہے جو محترمہ کے انتقال کی صورت میں پیدا ہوا ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ محترمہ ایک نہایت ذہین و فطین رہنما تھیں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد حالات کی بھٹی سے گزری تھیں، سیاست کے ایچ پیچ جانتی تھیں، مغرب کو رام کرنے کا ہنر بھی انہوں نے سیکھ لیا تھا، اس مغرب کو جو ان کے والد کے قتل میں شریک تھا اور یوں یہ ہنر ان کے لئے مسائل بھی پیدا کر رہا تھا تاہم وہ ہر طرح کے موقف کو دلائل کی قوت سے صحیح ثابت کرنے کی اہلیت رکھتی تھیں یہ اہلیت ان کے پیروکاروں کو ان کے گرد جمع رکھنے میں بہت مدد دیتی تھی جبکہ ان کے انتقال کے بعد اگرچہ پارٹی میں مخدوم امین فہیم ، اعتزاز احسن، رضا ربانی اور دوسرے عالی دماغ موجود ہیں مگر پی پی پی کے پیروکار بھٹو خاندان کے علاوہ کسی اور کی قیادت میں چلنے کو تیار نہیں اور یوں اس خاندان کی یہ طاقت اس کی کمزوری کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ آصف علی زرداری اس صورتحال سے واقف ہیں چنانچہ محترمہ کی وصیت میں حالانکہ انہیں جانشین نامزد کیا گیا تھا مگر انہوں نے یہ میراث ”بلاول بھٹو زرداری“ کے نام منتقل کر دی۔ آصف زرداری خود بھی ماضی کی شہرت والے آصف زرداری نہیں ہیں بلکہ پوری استقامت کے ساتھ آٹھ سال جیل میں گزارنے کے نتیجے میں ان کی بدنامی کافی حد تک نیک نامی میں ڈھل چکی ہے، جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے جو مختصر سا وقت پاکستان میں گزارا، اس دوران ان کے بیانات نے بھی عوام کے دلوں پر مثبت نقوش ثبت کئے اور اب نوڈیرو میں بیٹھ کر نہایت اشتعال انگیز ماحول میں فیڈریشن کے استحکام کی بات کرکے بھی انہوں نے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت کی خواہشات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا اور یوں پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر ”چاروں صوبوں کی زنجیر“ ثابت کرنے کی کوشش کی مگر ان تمام باتوں کے باوجود بے نظیر بھٹو کا خلاء پرنہیں کیا جا سکتا، اس کے لئے آصف زرداری کو پارٹی کی سنیئر اور مخلص قیادت کو برابری کی سطح پر ساتھ لے کر چلنا ہوگا اگر ایسا نہیں ہوتا تو کچھ عرصے تک تو پارٹی اپنے سابقہ زور پر چلتی رہے گی مگر تھوڑا سا سفر طے کرنے کے بعد ہانپنے لگ جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہوگی کہ اس پارٹی کی کمزوری سے سندھ میں صرف ان جماعتوں کو تقویت حاصل ہوگی جو فیڈریشن کے حوالے سے بہت سے تحفظات رکھتی ہیں۔ پاکستان کی ایک اور بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے جس کے قائد میاں محمد نواز شریف 12اکتوبر99ءکے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ استقامت کے کڑے امتحانوں سے گزرے ہیں اور سرخرو ہوئے ہیں، میاں نواز شریف کی شہرت ایک سچے اور کھرے پاکستانی سیاستدان کی ہے، انہوں نے چودہ ماہ جیل کی تاریک کوٹھڑی میں قید تنہائی میں گزارے لیکن انہوں نے جمہوری اصولوں پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کر دیا، انہوں نے سات سال کی جلاوطنی بھی برداشت کی مگر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پر بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہ 12اکتوبر کے دن جرنیلوں کی بات مان کر اس کاغذ پر دستخط کردیتے جس میں اسمبلی کی تحلیل کی ہدایت تھی اور جنرل پرویز مشرف کی برطرفی کا حکم واپس لینے کے لئے کہا گیا تھا تو انہیں اور ان کے خاندان کو آٹھ سال تک اذیت برداشت نہ کرنا پڑتی مگر اس تمام عرصے میں ان کا رویہ بے لچک رہا چنانچہ نواز شریف کی مقبولیت کا گراف بلندیوں کو چھونے لگا۔ محترمہ کی شہادت کے موقع پر انہوں نے تمام اختلافات فراموش کرتے ہوئے جس انسان دوستی کا مظاہرہ کیا، اس کے نتیجے میں خود پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے دلوں میں بھی ان کے لئے محبت واحترام کے جذبات پیدا ہوئے۔ اگر ظاہری عوامل ہی کوسب کچھ سمجھ لیا جائے تو میاں صاحب کو اس مشتعل مجمع کے درمیان نہیں جانا چاہئے تھا جو محترمہ کے انتقال کی خبر سن کر ہسپتال میں جمع تھا مگر یہ بہادر آدمی وہاں گیا اور پھر اس سانحہ پر وہاں دھاڑیں مار مار کر روتا رہا۔ یہ ایک نیک دل انسان کے حقیقی جذبات کا اظہار تھا۔ محترمہ کی وفات سے پہلے پاکستانی عوام کی قیادت دو بڑے مقبول قومی رہنما کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو اور دوسرے مسلم لیگ (ن) کے میاں نواز شریف تھے۔ اب ہمارے درمیان قومی سطح کی صرف ایک مقبول شخصیت میاں نواز شریف کی صورت میں موجود ہے اور اس قومی اثاثے کی حفاظت اب پوری قوم کو کرنی ہے بلکہ یہ ذمہ داری خود میاں صاحب پر بھی عائد ہوتی ہے امید ہے وہ اس حوالے سے کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ محترمہ کی شہادت کے بعد میاں نواز شریف نے ہسپتال جاکر، نوڈیرو پہنچ کر اور مختلف بیانات میں پی پی پی کی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے وسیع القلبی سے خالی ہماری قومی سیاست کی یہ ایک دیرینہ ضرورت تھی جو میاں نواز شریف نے پوری کی ہے تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں جماعتوں کے اختلافات ختم ہوگئے ہیں چنانچہ پیپلز پارٹی کے کارکن اب مسلم لیگ کی قیادت کو ہضم کر لیں گے تو یہ ایک ایسی خوش فہمی ہوگی جس میں سے جتنی جلدی نکل جائے اتنا ہی اچھا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کا قومی اور بین الاقوامی مسائل میں اسٹینڈ ایک دوسرے سے کافی حد تک مختلف ہے اور دونوں جماعتوں کے کلچر میں بھی فرق ہے۔ ان دونوں جماعتوں میں قدر مشترک جمہوریت کی منزل تک پہنچنا ہے اور یا ایک قدر مشترک یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں پاکستانی عوام کی پسندیدہ اور مقبول جماعتیں ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کی طرح ان جماعتوں کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے دائرہ اثر کو وسیع سے وسیع تر کریں چنانچہ یہ حق مسلم لیگ (ن) کا بھی ہے، اس کے لئے اسے سندھ میں مقامی قیادت اور کارکنوں کو مضبوط بنیادوں پر منظم کرنا ہوگا، مسلم لیگ (ن) کو یہ برتری حاصل ہے کہ اس کے پاس پورے قد کاٹھ والا ایک لیڈر موجود ہے جبکہ محترمہ کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی فی الحال قیادت کے بحران سے دوچار ہے، تاہم اب وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کی یہ دونوں مقبول جماعتیں ایک دوسرے سے اختلاف کا حق برقراررکھتے ہوئے اور ایک دوسرے پر سیاسی سبقت کے حصول کے لئے مثبت رویئے اپناتے ہوئے بھی ماضی کی باہمی چپقلش اور کھینچا تانی سے باز رہیں۔ اب پاکستان کی بقاء سلامتی اور استحکام کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر ہے اوراس کام میں بڑا حصہ ان دو بڑی جماعتوں ہی نے ڈالنا ہے۔