پوری دنیا کی طرح چائنا کے عوام بھی یہ دیکھنے کے لیے منتظر ہیں کہ نومنتخب صدر براک اوباما عہدہ سنبھالنے کے بعد کس طرح دنیا کو درپیش مسائل اورموجودہ معاشی بحران کا مقابلہ کریں گے
بیجنگ (این این آئی) پوری دنیا کی طرح چائنا کے
عوام بھی یہ دیکھنے کے لیے منتظر ہیں کہ نومنتخب صدر براک اوباما عہدہ سنبھالنے
کے بعد کس طرح دنیا کو درپیش مسائل اورموجودہ معاشی بحران کا مقابلہ کریں گے۔ بیجنگ
میں بڑے پیمانے پر یہ امید پائی جاتی ہے کہ اوباما کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ
اور چین کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔ بیجنگ میں بہت سے طلبا کے لیے براک اوباما
اپنی محنت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرنے کے باعث ان میں بہت مقبول ہیں۔ چین کے
صدر ہو جن تاؤ نے براک اوباما کو ان کی کامیابی کے کچھ ہی دیر بعد مبارک باد دیتے
ہوئے کہاتھا کہ اس سے دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ چینی سیاسی ماہرین کا
کہنا ہے کہ چین نئے امریکی صدر سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ تائیوان کی خود مختاری،
انسانی حقوق کی صورتِ حال اور تبت جیسے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے عالمی معاشی
بحران کو ختم کرنے کے لیے کام کریں گے اور چین کی گرتی ہوئی معیشت کے لیے امریکی
منڈیاں کھولیں گے۔ رنمِن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر شی ین ہانگ
کہتے ہیں کہ اوباما کے آنے سے تجارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ
اس بات کا امکان ہے کہ صدر اوباما کچھ حفاظتی شرائط رکھیں جو چین قبول نہیں کرے
گا۔ ایسی صورت میں تجارتی مسائل اس حد تک جا سکتے ہیں جوہم نے پہلے نہ دیکھی ہو۔
صدر اوباما کو امریکہ اور چین کے تعلقات میں حائل کشیدگی کا بھی سامنا ہو گا۔ چین
پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط اور مستحکم ملک بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی
بحران کے باعث صدر اوباما کو چین کے ساتھ بہتر تعلقات بنانا ہوں گے۔