پابندیاں نرم کی جائیں ، گوانتانا موبے کےقیدی کا مطالبہ
آسڑیلیا میں گوانتاناموبے کے ایک سابق قیدی نے اپنی خود ساختہ زبان بندی ختم کردی ہے اور حکام سے کہا ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد اس کی آزادی پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں۔
سڈنی (این این آئی)آسڑیلیا میں گوانتاناموبے کے ایک
سابق قیدی نے اپنی خود ساختہ زبان بندی ختم کردی ہے اور حکام سے کہا ہے کہ جیل سے
رہائی کے بعد اس کی آزادی پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں۔آسٹریلیا کی پولیس نے کہا
ہے کہ ان کا اگلے چند ہفتوں میں پابندیوں کے اختتام پر ان میں اضافے کے لیے کوشش
کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ڈیوڈ ہکس اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے حامیوں سے اپنی
آزادیاں کے دوبارہ حصول میں مدد کے لیے درخواست کی ہے۔ ویڈیو میں وہ زیادہ تر
جذبات سے عاری دکھائی دیے۔کنگرو کے سابقہ شکاری کو گوانتاناموبے کے امریکی حراستی
مرکز سے مئی 2008ء میں دہشت گردی کے الزامات کے اعتراف کے بعد وطن واپس بھیجا گیا
تھا۔اپیل کے معاہدے کے تحت انہیں اپنے آبائی قصبے کی جیل میں منتقل کیا گیا جہاں
انہیں اپنی قید کے باقی مدت گذارنی تھی۔ انہیں پچھلے سال دسمبر میں رہا کردیا گیا
تھا اور آسڑیلیا کی فیڈرل پولیس کے خیال میں انہیں احکامات کی پابندی کرنی ہے۔اس
حکم میں کہا گیا ہے کہ انہیں ہفتے میں کئی بار پولیس کو رپورٹ کرنا ہوگی اور نصف
شب سے طلوع آفتاب تک گھر رہنے کی پابندی پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔پولیس نے کہا کہ
وہ اگلے سال کے شروع میں جب یہ حکم ختم ہوجائے گا، اس میں مزید توسیع کی درخواست
نہیں کریں گے۔جاری ہونے والے اپنے ویڈیو پیغام میں ہکس نے اس حکم کے بارے میں اپنے
تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ مستقبل میں ان کے
ساتھ کیا ہوگا۔ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ جب تک یہ حکم ختم نہیں ہوجاتا میں اپنی
زندگی کے معمولات میں واپس نہیں آسکتا۔ہکس نے گوانتانا موبے میں پانچ سال گذارے ہیں
اور وہ پہلے قیدی ہیں جن پر ایک خصوصی امریکی ملٹری کمیشن میں مقدمہ چلا کر سزا
سنائی گئی۔انہیں2001ءکے آخر میں افغانستان سے گرفتار کیا گیاتھا۔ اپنے مقدمے کی
سماعت کے دوران اس نے القاعدہ سے تربیت لینے اور اسامہ بن لادن سے ملنے کا اعتراف
کیا تھا۔ہکس کے ویڈیو پیغام کا انتظام اس کے حامیوں کے ایک گروہ نے کیا تھا جن کا
دعویٰ ہے کہ اسے بڑے پیمانے پر لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور اس ملازمت کی پیش کشیں
موصول ہورہی ہیں باوجویکہ کہ گوانتاناموبے کی قید کے بعد اس کی دماغی حالت ابھی تک
کمزور ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہکس کے مقدمہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ
انسداد دہشت گردی کے آسٹریلیا کے قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے