سی پی جے ایک تنظیم ہے جو دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے کا کہناہے کہ عراق میں اب تک 135 صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
بغداد (این این آئی)سی پی جے ایک تنظیم ہے جو دنیا
بھر میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے کا کہناہے کہ عراق میں اب تک 135 صحافی
اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سے 113 عراقی اور مزید تین کا تعلق خطے
کے دوسرے عرب ممالک سے تھا۔ سی بی ایس کی مشہور نامہ نگار کمبرلی ڈوزیئر 19 مئی
2006 میں عراق میں ایک دھماکے کے دوران زخمی ہوگئیں تھیں۔ حملے کے بعد انہیں فوری
طور پر اسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں ان کے 24 سے زیادہ آپریشن ہوئے۔ کمبرلی اب پوری
طرح صحت یاب ہوچکی ہیں اور اس سال کی میراتھن میں وہ دس کلومیٹر دوڑ بھی چکی ہیں۔
اپنی زندگی کے اس خوف ناک واقعہ کا ذکرکرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ میں فوج کے اس یونٹ
کے ساتھ تھی جو بموں کو ناکارہ بنانے کے مشن پر تھا۔ ہم ایک چھوٹی سی آبادی میں
تھے جہاں بہت گرمی تھی۔ وہاں تین گھنٹےتک شدید لڑائی ہوتی رہی اور بھاری ہتھیاروں
کا استعمال کیا گیا۔ ہماری فوج کا بہت سا جانی نقصان ہوا۔ لڑائی ختم ہونے کے بعد ہم
اپنی بکتربند گاڑی کو پارک کرنے بعد باہر نکلے تو بارہ افراد پر مشتمل ہماری پوری
ٹیم ایک ایسی کار سے محض بیس فٹ کے فاصلے پر تھی جس پر دھماکے کی غرض سے تین سوسے
پانچ سو پونڈ تک بارود ذخیرہ کیا گیاتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند ہمیں ایک
اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے دیکھ رہے تھے اور انہوں نے ہمارا بارو سے لدی ہوئی گاڑی کے
قریب جانے کا انتظار کیا۔ اور جب ہم مزید قریب پہنچے تو ا نہوں نے ایک موبائل فون
کے ذریعے دھماکہ کردیا۔ اس حملے میں کپٹن اور اس کا مترجم موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
ایک اور عراقی بھی مارا گیا جس کا ہمیں نام بھی معلوم نہیں ہے۔ کئی اور فوجی بھی
ہلاک اور زخمی ہوئے اور مجھے دونوں ٹانگوں میں شدید زخم آئے۔ سٹیسی ایک فوٹو گرافر
ہیں جنہیں ایک فوجی یونٹ کےساتھ تصاویر اتارنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہ بھی ایک
لڑائی میں زخمی ہوئیں تھیں۔ ان کا کہناہے کہ اس کے باوجود کہ عسکریت پسندوں نے ان
پر گولیاں چلائیں تھیں وہ انہیں غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھنا چاہتی ہیں۔