پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑستر لاکھ
خدشہ ہے کہ آئندہ پندرہ سالوں میں مریضوں کی تعداد دگنی ہو جائے گی
ٹورانٹو( خبر نگار )پاکستان میں ڈاکٹروں کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کی
تعداد ایک کروڑ ستر لاکھ ہے اور ملک میں مرض کے بارے میں موثر آگاہی نہ ہونے کے
باعث خدشہ ہے کہ آئندہ پندرہ سالوں میں مریضوں کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔جمعہکو
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے مرض کے حوالے سے عالمی دن منایا گیا ہے۔ اس
دن کے حوالے سے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پیمز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وسیم
خواجہ نے بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد
ایک کروڑ ستر لاکھ ہے جب کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ستر لاکھ ہے۔ مریضوں میں دس
فیصد بچے بھی شامل ہیں۔ واضع رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے دو ہزار پانچ کے اعداو
شمار کے مطابق دنیا بھر ہر سال گیارہ لاکھ افراد ذیابیطس کے مرض کی وجہ ہلاک ہوتے
ہیں۔ ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بتایا کہ ذیابیطس کے مرض کے بارے میں اب تک حکومت اور نجی
سطح پر کوئی موثر آگاہی مہم شروع نہیں کی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کو
مرض میں مبتلا ہونے کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بتایا
کہ ملک میں آگاہی نہ ہونے کے سبب ذیابیطس کے مرض میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے
اور صورتحال اسی طرح رہی تو زیادہ سے زیادہ آئندہ پندرہ سالوں میں مریضوں کی تعداد
دگنی ہو جائے گی۔ جب کہ اس وقت پاکستان ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا
میں چھٹے نمبر پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت کم لوگ ذیابیطس کے مرض کی علامات کے
بارے میں جانتے ہیں جن میں تھکاوٹ، اچانک وزن کا کم ہو جانا وغیرہ شامل ہیں اور
آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ عطائیوں کے پاس چلے جاتے ہیں جس سے مرض زیادہ پیچیدہ
ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری
تنظمیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ذیابیطس کے مرض کے حوالے سے لوگوں کو آگاہ کرنے
کے لیے ایک ایک موثر مہم شروع کریں۔ ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق ذیابیطس کی بیماری
سر سے لے کر پاو¿ں تک اثر انداز ہوتی ہے اور اس میں
گردوں کا ناکارہ ہو جانا، آنکھوں کی بینائی کا ختم ہونا، دل کی بیماری اور فالج جیسی
خطرناک بیماری لاحق ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف جسمانی ورزش ، ادویات
اور انسولین کی مدد سے ذیابیطس کے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جبکہ ہر شخص کو کم
از کم سال میں مرتبہ ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔