لاہور(این این آئی ) عوام کو مضر صحت گھی اور تیل کے استعمال سے محفوظ رکھنے کے لئے پنجاب حکومت نے مرکزی حکومت سے پام اولین کی درآمدی ڈیوٹی میں 2 ہزار روپے کمی کی سفارش کی ہے۔چیئر مین ٹاسک فورس برائے اشیائے ضروریہ پنجاب ایس اے حمید نے اس حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گھی اور خوردنی تیل کی تیاری کےلئے اس وقت ملک میں 80 فیصد پام آئل(سٹیرین) جبکہ 20 فیصد پام اولین درآمد کیا جا رہا ہے ۔ پام آئل کو پگھلنے کےلئے 50 درجہ سینٹی گریڈ حرارت درکار ہے جبکہ انسانی جسم کا درجہ حرارت 37 درجہ سینٹی گریڈ ہوتا ہے اس طرح پام آئل او راس سے بنی مصنوعات انسانی صحت کےلئے نقصان دہ ہیں ۔ ایس اے حمید نے کہاکہ چونکہ پام آئل پر عائد امپورٹ ڈیوٹی صحت کےلئے مفید پام اولین کے مقابلے میں 30 ڈالر فی ٹن کم ہے اس لئے ملک میں پام آئل کی درآمد زیادہ ہے جس سے غیر معیاری اور مضر صحت گھی اور آئل تیار ہو رہا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر پام اولین پر عائد ڈیوٹی کم کر دی جائے تو پھر اس کی درآمد زیادہ ہونے سے عوام کو معیاری گھی اور تیل میسر ہو سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال قبل بھی پنجاب حکومت کی طرف سے مرکزی حکومت کو یہ تجویز پیش کی گئی تھی جس پر پام اولین کی درآمدی ڈیوٹی کم کر دی گئی تھی ۔ ایس اے حمید نے کہا کہ بعض گھی مل مالکان پام آئل کی پروسسیسنگ اور صفائی کے بغیر اس سے گھی اور خوردنی تیل تیار کر لیتے ہیں جو انسانی صحت کےلئے انتہائی مضر ہے ۔