برطانوی
اور جاپانی ریسرچرز نے جدید ترین ریسرچ میں کہا ہے کہ روزانہ گلِ بابونہ کی چائے پینے سے خون میں شکر کی سطح کم ہو سکتی
ہے۔ ریسرچرز نے کہا ہے کہ گل بابونہ کی چائے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں
مزید طبی پیچیدگیوں پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس خوشبودار جڑی بوٹی والی
چائے کے استعمال سے بصارت سے محرومی ، اعصاب اور گردے کے نقصان سے بچاؤ ممکن ہے۔
جاپان کی ٹویاما یونیورسٹی کےریسرچرز نے گل بابونہ سے حاصل ہونے والا عرق ذیابیطس
میں مبتلا چوہوں کو 21 دن تک پلایا تھا۔ تحقیق کے بعد یہ دیکھا گیا کہ جن جانوروں کو گل بابونہ کا عرق پلایا گیا
تھا ان کے خون میں شکر کی سطح بہت نمایاں حد تک کم ہو گئی تھی۔ گل بابونہ کے پودے
سے سیب جیسی خوشبو آتی ہے اور اس کا تعلق سورج مکھی کے خاندان سے ہے اوردنیا کے
بیشتر ملکوں میں اس کے پھول سے تیار شدہ چائے استعمال کی جاتی ہے۔ اس چائے کی دیگر
خصوصیات جو بیان کی جاتی ہیں ان میں غذا ہضم کرنے، پیٹ میں مروڑ کم کرنے اور ایام
کی تکالیف دور کرنے کی خوبیاں شامل ہیں۔ گل بابونہ کی چائے سکون بخش بھی سمجھی
جاتی ہے جو بے خوابی یا پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔