کنگسٹن یونیورسٹی (اردو ٹائمز) سائنسدانوں
کے مطابق بے ترتیب اور الٹا پلٹا بستر آپ کو زیادہ صحت مند رکھ سکتا ہے۔ اس سلسلے
مین کی گئی ایک جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اگرچہ بے ترتیبی کے ساتھ پھیلا ہوا بستر
دیکھنے میں اچھا معلوم نہیں ہوتا لیکن یہ حقیقیت ہے کہ اس قسم کے بستر خوردبینی
کیڑوں کو بھی پسند نہیں ہیں جو عموما گرد
و غبار میں چھپے رہتے ہیں اور دمہ کے علاوہ الرجی سے ہونے والی دیگر بیماریوں کا
بھی سبب بنتے ہیں۔ کنگسٹن یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس
قسم کے جوں نما کیٹرے ان بے ترتیب بستروں میں رہ نہیں سکتے جہاں ماحول نسبتا گرم
اور خشک ہو۔ البتہ اگر بستر تہہ کر کے رکھ دیا جائے تو وہاں کا مرطوب ماحول ان کی
افزائش کےلیے عمدہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات
جاننا کسی دلچسپ بات سے کم نہیں ہو گی کہ ایک اوسط سائز کے بستر پر کم و بیش 15
لاکھ خوردبینی کیڑے ہو سکتے ہیں۔ ریسرچ کے قائد ڈاکٹر اسٹیفن پر یتلو کا کہنا ہے
کہ یہ ڈسٹ مائٹس فضا میں موجود نمی کو اپنے اندر جذب کرکے زندہ رہتے ہی اور اس
مقصد کےلیے وہ ا پنے چھوٹے غدود استعمال کرتے ہین جو انکے جسم کے باہر ہوتا ہے۔ ان
کا کہنا ہے کہ اگرہم دن کے وقت اپنے بستر کو یونہی چھوڑ دیں تو بستر پر موجود چادر
اور گدا اس نمی سے خالی ہو جائے گا جس پر ان کی زندگی کا انحصار ہوتا ہےا ور یوں
یہ کیڑے بالآخر ختم ہو جائیں گے۔ اس ریسرچ کے بعد گرد و غبار میں پائے جانے والے
ان کیڑوں سے محفوظ رہنے کےلیے برطانوی گھروں میں تعمیراتی تبدیلیاں کی جارہی ہیں
تا کہ وہان کے سرد مرطوب ماحول مین ان کیڑون کی افزائش کو روکا جا سکے، اس سلسلے
میں رہائش گاہوں کو زیادہ گرم اور ہوادار بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔