محققین کا اولین خلیوں کی شناخت کر کے خون بنانے کی کوشش کرنا
جان ہاپکنز کے محققین نے انسانی
خون کے اولین خلیوں کو دریافت کیا ہے اور اس نظام کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے جس کی
مدد سے یہ خلیے ایک دوسرے سے ملتے اور نشو و نما پاتے ہیں۔ انہیں اس تحقیق کے
دوران ایک ایسا حیران کن حیاتیاتی مارکر ملا ہے جو ان خلیوں کی نشاندہی کرتا ہے جو
خون کے سرخ خلیوں اور لمفوساءٹس کے لءے پروجینیٹر کا کام دیتا ہے۔ یہ بایو کیمیکل
مارکر جس کا نام اینجیوتینسن کنورٹنگ اینزاءم ہے ، جلن ، خون کی نالیوں کو باقاعدہ
بنانے اور بلند فشار خون کو صحیح کرنے میں اپنے کردار کی وجہ سے پہلے ہی ایک جانا
پہچانا نام ہے۔ یہ اے سی ای انہیبیٹر ہاءپرٹینشن اور کنجیسٹو ہارٹ فیلیر جیسی
بیماریوں میں تو پہلے ہی استعمال ہو رہے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ نءی تحقیق کی
مدد سے انیمیا اورلوکیمیاجیسی دل کی بیماریوں کی نءی ادویات بنانے میں
خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے پی ایچ ڈی ،
ایم ڈی اور جان ہاپکنز پر ہی واقع سڈنی کمل کمپری ہینسو سینٹر کے ڈویژن آف
پیڈیاٹرک آنکالوجی ایلیاس زیمبی ڈیس کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش خون کے تمام خلیوں
کی اصل تک پہنچنا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہم ایسے خلیے بنانے میں
کامیاب ہو جاءیں گے جو خون سے متعلق تمام بے قاعدگیوں کو درست کرنے میں ممد و
معاون ثابت ہوں گے۔