امریکہ
(اردو ٹائمز) الباما مین آؤبرن یونیورسٹی کے ریسرچرز نے دو پنوں والی چپل جسکے درمیان انگوٹھا اور بیچ کی انگلی کو
پھنسایا جاتا ہے کا چپل کو پہن کر چلنے کے دوران جسم کے مختلف اعضا پر پڑنے والے
اثرات کا جائزہ لیا تھا جس میں دیکھاگیا کہ زیادہ دیر تک ایسی ہوائی چپلیں جن لوگوں
نے پہنی تھیں ان کے پاؤں ، ٹخنوں اور ٹانگوں میں شیدید درد کی شکایت پیدا ہو گئی
ہے۔ انڈیا ناپولس میں امریکن کالج آف اسپورٹس میڈیسن کے سالانہ اجلاس میں جسٹن
شرویر نے بتایا کہ ہم نے اس تحقیق میں یہ دیکھا کہ جو لوگ (Flip Flop) چپل پہن کر
چلتے ہیں وہ اپنے چلنے کا انداز تبدیل کرنے پر مجبور ہو اجتے ہین جس کے نتیجے میں
نہ صرف پاؤں میں بلکہ کولہے اور کمر میں درد کی شکایتیں سامنے آتی ہیں۔ اس جائزے
کیلئے ریسرچز نے کالج جانے والے 39 مرد اور خواتین کی خدمات حاصل کی تھیں او ان سے
ہوائی چپلیں یا کھلاڑیوں والے جوتے پہننے کےلیے کہا گیا تھا۔ تحقیق کے بعد دیکھا
گیا کہ چپل پہننے والے افراد چھوٹے چھوٹے قدم آتھا رہے تھے اور چپل کے تلوے زمین
سے کم عمودی قوت کے ساتھ ٹکرا رہے تھے۔ تاہم جب یہ لوگ ایتھلینک شوز میں اس چلے تو
ان کے قدموں کے درمیان فاصلہ بھی زیادہ تھا اور وہ زیادہ قوت کے ساتھ زمین پر جوتے
رکھ رہے تھے۔