لندن
(اردو ٹائمز) لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ
ٹراپیکل میڈیسن کے ایک طبی ماہر وبائیات مائیکل کول مین کا کہنا ہے کہ ایک نئی
تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کی 5 سالہ شرح بقا میں
تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پانچ سالہ شرح بقا طبی اصطلاح ہے جس کا مطلب مریض کے
کینسر کے تشخیص کے بعد 5 برس تک زندہ رہنے کے کتنے امکانات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ
اس اضافے کی بظاہر وجہ کینسر کے علاج کے طریقوں اور دیکھ بھال کی سہولیات دکھائی
دیتی ہیں۔ لندن کے طبی ماہرین نے کینسر کے علاج میں صحت کی سہولیات کے عمل دخل کا
جائزہ لگانے کےلیے 31 ملکوں کے 20 لاکھ سے زائد مریضوں کے ریکارڈ کا تفصیلی مطالعہ
کیا۔ جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ ، جاپان، اور فرانس میں 5 سال کے دوران
کینسر سے زندہ بچ جانے والے مریضوں کی شرح دوسرے بہت سے ملکوں سے زیادہ ہے۔ لیکن
اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امریکہ میں رہائش پذیر سفید فام باشندوں میں 5
سالہ شرح بقا سیاہ فام باشندوں کی نسبت 6 سے سولہ گنا زیادہ ہے۔ تحقیقی جائزے میں
کینسر کی چار قسموں، بڑی آنت ، مقعد ، چھاتی اور پراسٹیٹ کینسر میں مبتلا مریضوں
کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا تھا۔