ہیومن پیپلوما وائرس(ایچ پی وی)
امریکہ میں جنسی عمل کے ذریعے پھیلنےوالی سب سےعام بیماری ہے اسے اعضا ئے تولید کے
سرطان کی وجہ قرار دیے تو ایک عرصہ ہوگیا تھا لیکن جدید ریسرچ نے ثابت کیا ہے
کہ ایچ پی وی منہ اور گلے کے سرطان کا باعث بھی بنتا ہے۔ مزید برآں جدید تحقیق سے
یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ایچ پی وی سگریٹ نوشی کرنے والے حضرات میں پھپھڑوں کے سرطان
کی سب سے بڑی معلوم وجہ ہے۔
ڈاکٹر عرش رضا زادے اور ان کے رفقائے کار
نے کینٹکی کی لوئی ول یونیورسٹی میں تحقیق کے دوران ایسے شواہد پائے ہیں جن سے
ثابت ہوتا ہے کہ پھپھڑوں کے سرطان کا شکار مریضوں کے ثشوز میں ایچ پی وائرس موجود
ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر عرش رضا زادے کا کہنا ہے کہ اگرچہ جن حضرات کے ٹشوز لیے گئے تھے وہ
تمام سگریٹ نوش ہیں پھر بھی ان کی تحقیق متنازعہ ہے اور مزید غور وفکر کی متنقاضی ہے۔ 23 نمونوں میں سے 6 نمونوں کے نتائج ایچ پی
وی کے لیے پازٹیو تھے اور ان 6 میں سے بھی 5 نمونوں میں ایچ پی وی 16، ایچ پی وی
11، اور ایچ پی وی 22 کی علامتیں موجود تھیں۔ مؤقد ین کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی
پھپھڑوں کے سرطان کا سب سے بڑا سبب تو ہے ہی لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ 23 نان
سما ل سیل پھپھڑوں کے سرطان سے لیے گئے نمونے ایچ پی وی کا شکار تھے اس سے کم از
کم ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ ایچ پی وی نان سما ل سیل پھپھڑے کے سرطانوں کی وجہ
بنتا ہے۔ ڈاکٹر لارن سٹرائچر جو نارتھ
ویسٹرن میڈیکل سکول میں پروفیسر ہیں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سگریٹ نوشی اور ایچ پی وی
کے پھپھڑوں پر اثرات کا یہ پہلا اکٹھا جائزہ ہے ، وقتی طور پر ڈاکٹروں نے محسوس
کیا ہے کہ جو خواتین سگریٹ نوشی کی عادی ہیں اور ایچ پی وی کا شکاربھی ہو چکی ہیں وہ
سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنے والی خواتین کی نسبت سرویسل کینسر کا شکار ہونے کے زیادہ
قریب ہیں ان کا کہنا ہے کہ سرویسل کینسر کو بُری ترین شکل میں پہنچا نے کے لیے سگریٹ نوشی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔
گارڈاسل ویکسین جو 2006 میں ایجاد ہوئی
اورجسے عورتوں کو سرویسل کینسر سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کوپھپھڑوں کے
سرطان جو ایچ پی وی 16 کی صورت میں موجود ہے، کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے ۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے
مطابق 20 ملین امریکی ایچ پی وی کا شکا ر ہیں اور ہر سال 6٫2 ملین مزید شکار ہو
رہے ہیں۔ امریکن
کینسر سوسائٹی کا اندازہ ہے کہ 2008 میں 1170 خواتین سرویسل
کینسر کا شکار ہو چکی ہوں گی اور یہ کہ اسی دوران 161000 امریکی پھپھڑوں کے سرطان سے مر چکے ہوں گے۔