امریکی یونیورسٹی کے تحقیق کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ
انسان کی موت کے بعد نہ تو اس کے ناخن اور بال بڑھتے ہیں اور نہ ہی ایک دن میں
آٹھ گلاس پانی پینے سے صحت بہتررہتی ہے۔
امریکی یونیورسٹی انڈیانا میں تحقیق کاروں نے سات مختلف طبعی وہمہ کے بارے میں
ریسرچ کے بعد کہا ہےکہ اس بات کا کوءی میڈیکل ثبوت نہیں ملا کہ دن میں پانی کے آٹھ گلاس پینے سے صحت بہتر
رہتی ہے۔۔تحقیق کاروں نے کہاہے کہ ضرورت سے زیادہ پانی پینا صحت کے لیے ٹھیک نہیں
ہے اور انسانی جسم چاے،کافی اور مشروبات سے پانی کی کمی پوری کر لیتا ہے۔۔ان کا کہنا ہےکہ اس بات کا بھی کوءی ثبوت نہیں ملا ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے ناخن اور بال بڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا
کہ انسان کی موت کے بعد اس کا جسم سکڑنے سے ناخن بڑے لگنے لگتے ہیں جس سے لوگوں نے
یہ اخذ کر لیا کہ موت کے بعد بھی انسان کے ناخن بڑھتے ہیں۔
تحقیق کاروں
کا کہناہے کہ اس بات کا بھی کوءی ثبوت نہیں ملا ہے کہ بالوں کو سرے سے منڈوانےسے
دوبارہ اگنے والے بال زیادہ گھنے اور کھردرے اگتے ہیں۔
تحقیق کاروں کے مطابق اس بات کا بھی کوءی ثبوت نہیں ہے کہ کم روشنی میں پڑھنے سے
انسان کی بیناءی پر فرق پڑتاہے اور نہ ہی ٹرکی کا گوشت کھانے سے انسان پر غنودگی
چھا جاتی ہے۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بالکل غلط خیال ہے کہ کسی بھی کام
کے دوران دماغ کاصرف دس فیصد حصہ کام کرتا ہے تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی بھی کام کے دوران دماغ کے تمام حصے استعمال ہوتے ہیں۔