اشاعت کے باوقار 30 سال

آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق ایرانی خاتون وکیل کے حیران کن انکشافات

تہران/ جنیوا: خواتین کی بہبود کے لیے کام کرنے والی ایرانی سماجی کارکن اور وکیل لیلیٰ علی کرامی نے ولایت فقیہ کے نظام اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تضادات کا بھانڈہ بیچ چوراہے کے پھوڑ ڈالا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنیوا میں منعقدہ نوبل انعام یافت گان کے ایک اجلاس کے دوران لیلی نے بتایا کہ ان کے ملک میں خواتین کے ساتھ کس طرح کا غیر مہذبانہ اور ظالمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ 39 سالہ لیلیٰ کرامی نے اپنی تقریر میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ ایران میں خواتین کے حقوق کو کس بے رحمی کے ساتھ پامال کیا جا تا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ا پنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں۔ ان کی عافیت زبانیں بند ر کھنے میں ہے، جس نے ذرا سی بھی اختلاف کی جسارت کر ڈالی تو اس کا انجام موت یا جیلوں کی تاریک کوٹھڑیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ خواتین سے بدسلوکی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے سیاہ باب کا ذکر کرتے ہوئے لیلی کرامی نے کہا کہ ایران میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی آڑ میں صنف نازک سے امتیازی برتاو کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون ذرا سی بھی آواز بلند کر د ے تو اسے جیل بھجوانے میں ذرا تاخیر نہیں کی جاتی۔ حراست میں لیے جانے کے بعد خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تاکہ انہیں ملائیت کیخلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں جان سے مار ڈالا جائے۔ دلائی لاما اور توکل کرمان جیسے سرکردہ شخصیات کی موجودگی میں ایرانی خاتون سماجی رہ نما نے خواتین کے حقوق کا کھل کر مقدمہ لڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں زبان کھولنے کی پاداش میں کئی خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ حال ہی میں زنیب ارجائی نامی ایک سماجی کارکن کو خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں پھانسی دی گئی جب کہ بحاری ھدایت نامی ایک سرکردہ سماجی کارکن گذشتہ9 برس سے تہران کے ایک عقوبت خانے میں پابند سلاسل ہے۔ خیال رہے کہ لیلیٰ علی کرامی بھی ایران کی ایک سرکردہ سماجی رہنما ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے 2003 میں ایرانی خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد شرو ع کی۔ آج وہ نوبل انعام یافتہ ایرانی خاتون رہنما شیریں عبادی کے قائم کردہ انسانی حقوق مرکز کی چیئر پرسن بھی ہیں۔ جنیوا اجلاس میں انہوں نے پوری جرات کے ساتھ ایرانی رجیم اور سپریم لیڈر کے تضادات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومتیں ملک میں بنیادی حقوق کی فراہمی کے جیسے دعوے کرتی ہیں عملا وہ ایسی ہرگز نہیں ہیں۔