|
اردو ٹائمز(نیوز) مشہور اداکارہ ڈیمی مور نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جونکوں کے ذریعے خون چسوانے کا طریقہ کار استعمال کر چکی ہیں۔ 45 سالہ امریکی اداکارہ نے ایک ٹاک شو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا میں خون سے زہریلے مادوں کے اخراج کیلئے جونکوں سے خون چسوایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کا خون چوس رہی ہیں اور پھول رہی ہیں اور جب ان میں مزید خون پینے کی سکت نہیں رہتی تو وہ ایسے نیچے لڑھک جاتی ہیں جیسے کوئی مدہوش شرابی شراب خانے سے باہر نکل رہا ہو۔جونکوں سے علاج کا یہ طریقہ کار صدیوں سے استعمال کیا جاتا ہے اور اب بھی کئی ملکوں میں اس طریقے کا استعمال جاری ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ نسوں میں خون کے لوتھڑوں کو ختم کرنے کیلئے کارآمد ثابت ہوتی ہیں انہیں جہاں جہاں لوتھڑے ہوتے ہیں وہاں وہاں لگا دیا جاتا ہے اور وہ خون چوس کر نسوں میں خون کی روانی کو بحال کر دیتی ہیں لیکن ڈیمی مور کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ علاج خون سے زہر یلے مادوں کے اخراج کیلئے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آپ کے خون میں سے زہریلے پن کو نچوڑ لیتی ہیں، عام طور پر ان کے الگ ہونے کے بعد آپ کا تھوڑا سا خون بہتا ہے لیکن آپ صحت مند ہو جاتے ہیں اور میں خود کو بہت صحت مند محسوس کرتی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ علاج ایک خاتون کے گھر پر اس کے بستر پر لیٹ کر کر ایا۔ پہلے تھوڑا سا عجیب لگا لیکن پھر سکون ہوگیا، انہوں نے مذاق کے طور پر کہا کہ یہ عام جونکیں نہیں ہوتیں یہ طبی طور پر تربیت یافتہ جونکیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اس طریقہ علاج کو مفید سمجھتی ہیں اور مزید اس علاج کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن نائین ویلز میں پلاسٹک سرجری کے مشیر اینڈریو ویلمشرٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اس کا یقین نہیں کہ جونکیں جسم کو زہر یلے مادوں سے پاک کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا برطانیہ میں جونکوں کو پلاسٹک سرجری کے شعبے میں علاج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن انتہائی مخصوص مقاصد کیلئے ۔
|
|