ریڈی ایشن ایکسریز ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جاتا ہے، کامیابی میں 3 سال لگے
ٹورنٹو (اردو ٹائمز رپورٹ) طب کی دنیا میں پہلی
مرتبہ سرطان کی تشخیص کیلئے ریڈار ٹیکنالوجی کو کامیابی سے استعمال کیا۔ اس سے قبل
کینسر کی تشخیص کیلئے ”ریڈی ایشن ایکسریز“ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جاتا تھا۔
ریڈار ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ فرنچی ہسپتال برسٹل میں کیا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کے
ذریعے تشخیصی آلات کو تین سال کی محنت سے تیار کیا گیا تھا۔ صرف چھ منٹ میں کینسر
کی تشخیص کرنے والے اس آلے کا سائز موبائل فون کے برابر ہے اور اس سے حاصل ہونے
والا تھیوری رزلٹ نہایت شفاف ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس آلے سے خارج ہونیوالی ریڈی ایشن،
موبائل فون سے خارج ہونے والی شعاعوں کے برابر ہے۔ پروفیسر ایلن پریسی اور ڈاکٹر
آن کریڈوک کی تیار کردہ اس مشین میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص کیلئے ریڈیو کی لہروں
کو استعمال کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کریڈوک یونیورسٹی میں الیکٹریکل اور الیکٹرونکس انجینئرنگ
کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق اس مشین کے ذریعے ریڈیو لہروں کو بہت کم
توانائی پر استعمال میں لاکر واپس آنے والے سگنلز سے تھری ڈی امیج“ تیار کیا جاتا
ہے۔ یہ آلہ بالکل ریڈار کی طرح کام کرتا ہے اور ریڈار ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھ کر ہی
اس کو تیار کیا گیا ہے۔ چھاتی کے سرطان میں آج کل تین طرح کے میڈیکل ٹیسٹ کے بعد
تشخیص کی جاتی ہے۔ کلینیکل طریقہ، ایکسرے اور الٹرا ساﺅنڈ کا طریقہ اور نیڈل کے ذریعے
مواد لیکر ٹیسٹ کرنے کا طریقہ، مگر اب چوتھا طریقہ بھی سامنے آگیا ہے۔ اس طرح سے
اب تک 60 سے زائد خواتین کی کامیاب کینسر تشخیص ہوچکی ہے۔