جریکو
(اردو ٹائمز) طبی ماہرین سائنسدانوں نے تب دپ کی بیماری کے آغاز کی نشاندہی کرنے
کےلیے فلسطین کے قدیم ترین شہر "جریکو" سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں پر
تحقیق شروع کر دی ہے جس سے بکٹیریا سے متعلق مختلف بیماریوں کےخلاف تحقیق میں مدد
ملنے کی امید ظاہر کی جاتی ہے۔ خبر رساں ادارے کے
مطابق تب دق کا مرض عہد مسیح سے قبل میں بھی موجود تھا ۔ جریکو تقریبا 9
پزار سال پرانا علاقہ ہے جو فلسطین کے مغربی کنارے پر واقع ہےسائنسدانوں کو جریکو
سے قدیم انسانی ڈھانچے ملےہیں جو سائنسدانون کے مطابق تب دق اور مختلف بکٹیریا سے
متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق تب دق اس
جگہ پر زیادہ پھلتی پھولتی ہے جہاں آبادی زیادہ ہو اس لیے اس تاریخی شہر سے ملنے
والے ہڈیوں سے تپ دق کیے شواہد مل سکتے ہیں۔ ہیرویونیورسٹی آف یروشلیم کے پروفیسر
مارک سپیگی ایمن کی رہنمائی میں کام کرنے والی ٹیم اس وقت 6 ہزار سال پرانے انسانی
ڈھانچوں پر تحقیق کرنے میں مصروف ہے۔ جو انسانی ڈھانچے ملے ہیں ان کی عمریں تقریبا50
سے 70 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہڈیوں سے ملنے والے انسانی ڈین
این اے سے اگر ہم اس بیماری کی وجوہات کو
سمجھنے میں کامیاب ہو گئے تو مستقبل میں اس بیماری کے مکمل طور پر خاتمے کی راہ
میں ہمواری پیدا ہو جائے گی۔