ہوسٹن (اردو ٹائمز) سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ انہوں
نے بلیک ہول کے متعلق کئی چھپے ہوئے رازوں کو حاصل کر لیا ہے۔ بلیک ہول وہ تجاذتی
صلاحیت رکھنے والے میدان ہیں جو کائنات سے
روشنی اور ستاروں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ ہوسٹن یونیورسٹی کی طرف سے ایک تحقیقی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائنس دان یہ
معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ کس طرح بلیک ہول روشنی کی رفتار سے ذرات کو ایک
قطار میں باہر پھینکتے ہیں۔۔ اب تک ایجاد ہونے والی ہر قسم کی دور بین کے استعمال
سے پروفیسر مارشر یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو ئے ہیں کہ یہ ذرات کی یہ لڑیاں کہاں
اور کیسے بنتی ہیں۔ ہوسٹن یونیورسٹی کی
ماہرین ٹیم کا کہنا ہے کہ ذرات کی یہ لڑیاں جو روشنی کی ہوتی ہیں بلیک ہول کے سرے
کے قریب واقع مقناطیسی میدان سے نکل رہی ہوتی ہیں اور اسی علاقے میں ذرات کی یہ
لڑیاں تیز رفتار پکڑتی ہیں اور ایک طرف کو مڑ جاتی ہیں۔ اس معلومات کے بعد ہوسٹن
یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلن مارشر اور ان کی ٹیم نے دعوی ظاہر کیا ہے کہ وہ بلیک ہول
کی معلومات کے متعلق اس گہرائی تک پہنچ چکے ہیں جہاں تک پہلے کبھی کوئی سائنس دان
نہیں پہنچ سکا۔