ناسا (اردو ٹائمز) دوران پرواز ہوائی جہازوں کے
پروں کی شکل میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کی ٹیکنالوجی پر امریکہ کے خلائی تحقیقی
ادارے ناسا نے کام شروع کر دیا ہے۔ناسا کے ایک سینئر آفیسر لائس رچرڈ نے تفصیلات
سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائبر آپٹک کی مدد سے ہوائی جہاز کے پروں کی شکل
میں با وقت ضرورت تبدیلی کے نتیجہ میں جہازوں کے وزن اور اینڈھن پر آنے والے
اخرات میں کمی کے ساتھ ساتھ ہوا کے رخ اور دباؤ سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ
اٹھانا ممکن ہو گا انہوں نے بتایا کہ فائبر آپٹک کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کئی
عشروں تک مسلسل استعمال ہونے کے باوجود خراب نہیں ہوتےاور فائبر آپٹک کی
ٹیکنالوجی کے بغیر پرواز کےلیے استعمال کیے جانے والے طیاروں میں پاٹلٹ آزمائش کے
حالات سے دو چار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیے جانے کی طرف بھی غور کیا جا
رہا ہے۔ لائس رچرڈ نے کہا کہ بغیر پائلٹ پرواز کرنے والے طیارے اخانا میں فائبر
آپٹک انسانی بال کے برابر نصب کیےگئے ہیں جو طیارے کی سطح پر پڑنے والے ہوائی
دباؤ کو فوری طور پر ایک کمپیوٹر اسکرین پر دکھاتے ہیں یہ فائبر آپٹک پروں پر ہوا
کے دباؤ کے مد نظر رکھتے ہوئے ان کی جسامت میں تبدیلی کے لیے استعمال کیے جاتے
ہیں۔