امریکہ
(اردو ٹائمز) امریکی ماہرین فلکیات نے عطارد کی سطح زمین کی طرف بھیجے گئے مسنوعی
سیارے میسنجر سے موصول ہونے والی معلومات اور تصاویر کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات
کہی ہے کہ سورج کے قریب ترین سیارے عطارد کی سطح زمین پر نظر آنے والے گڑھے شہاب
ثاقب کے ٹکرانے کا نتیجہ نہیں بلکہ آتش فشاں کے دہانے ہیں۔ امریکن برانون
یونیورسٹی کے ماہر فلکیات جمیز ہیڈ کی قیادت میں تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے
کہ ہے کہ اس تحقیق سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ نظام شمسی کے اس سب سے چھوٹے
سیرے کی سطح پر نظر آتے گڑھے شہاب ثاقب کےاس کی سطح سے ٹکرانے کا نتیجہ ہیںتاہم
تازہ ترین اعداد و شمار میں یہ نظریہ غلط ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عطارد
سیارے کی سطح پر 3 سے 4 ارب سال پہلے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہوئیں تھیں تا
ہم ان کی وجوہات خارجی نہیں بلکہ داخلی تھیں۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ میسنجر سے بھیجی
جانے والی تصاویر میں ان گڑھوں کے گرد آتش فشاں سے نکلنے والے لاوا کی موجودگی کے
اثار بھی نظر آئے ہیں۔ ان تصاویر سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ عطارد کی سطح کے
55 فیصد حصہ کو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ مسینجر سیارے نے یہ تصاویر روان
سال 15 جنوری کو عطارد سے صرف 200 کلو میٹر کے فاصلہ سے حاصل کی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم
کا کہنا ہے کہ اب اس مصنوعی سیارے میسنجر سے یہ بات بھی پتہ چلانے کی کوشش کی جائے
گی کہ عطارد پر آتش فشاں کا عمل رک جانے کی وجوہات کیا تھیں۔