یورپ
(اردو ٹائمز) سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے
براعظم یورپ کے مغربی ممالک نے خلائی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں پیش رفت کےلیے
اپنی کوششیں تیز کر دیں ہیں۔ فرانس یورپی یونین کی صدارت سنبھالنے کے بعد
چاند اور مریخ پر بھیجے جانے والے یورپی مشنز کے حوالے سے "انقلابی"
اقدامات کے عمل کر غور کر رہا ہے ان اقدامات میں یورپی خلائی ادارے کی ترجیحات طے
کر نے کی ذمہ داری بیورو کرپشن کی بجائے یورپی اتحاد کے سیاستدانوں کو دینے یسے
فیصلے شامل ہیں۔ یورپی خلائی ادارہ اس وقت اپنے متنازعہ گلپلیو گلوبل نیو یگیشن
سسٹم پر کام کر رہا ہے۔ فران سکا کہنا ہے کہ اگر یورپ نے خلائی تحقیقات کے بارے
میں اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو وہ جاپان ، بھارت اور یچن سے بہت پیچھے رہ جائے گا۔
پیرس اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے برطانیہ کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش میں
مصروف ہے۔ گلپلیو ایک ایسا سسٹم ہے جس کے ذریعے سیارے خلا میں بھیجے جائیں گے اور
یہ دنیا کا سب سے بہترین سیٹلائٹ نیو یگیشن نظام ہوگا۔ سیٹلائٹ نیوگیشن کے ذریعہ
یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ دنیا کے کس حصے میں ہیں اور اگر آپ ایک جگہ سے
دوسری جگہ جانا بھی چاہتے ہیں تو یہ سیٹلائٹس آپ کو راستہ بھی دکھا سکتی ہے۔ اس
ٹیکنالوجی کو طیارے کو لینڈ کرنے جیسے انتہائی پچیدہ کاموں کے لیے بھی استعمال کیا
جا سکے گا۔ اس یورپی نیوی گیشن سسٹم نے امریکی وزارت دفاع کو تشویش میں مبتلا کر
دیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی فریکونئسی امریکی فوجی مقاصد کے لیے
بھیجنے جانے واللے سیارچوں پر اثر انداز ہو گی۔