تیل کی درآمد اور برآمد پر 1973
ء کی پابندیوں کے بعد شمسی توانائی میں خاطر خواہ دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکی حکومت
جسیے تیل کی ممکنہ قلت کا سامنا ہے نے
شمسی توانائی کی ریسرچ پر ایک ملین ڈالر سالانہ کی بجائے 4 سو ملین ڈالر سالانہ خرچ کرنا
شروع کر دیا ہے۔ ویسے یہ خرچ نیوکلئیر ریسرچ پر آنےوالے خرچ سے بہت کم ہے۔ آج ضرورت اس
بات کی ہے کہ شمسی توانائی کی ریسرچ پر زیادہ سے زیادہ ڈالر خرچ کیے جائیں ۔ توانائی کی پرانی اقسام
یعنی کوئلہ ،تیل ، نیوکلیائی توانائی کی نسبت شمسی توانائی ایک ایسی توانائی ہے جو
ختم ہونے کی بجائے دیر تک برقرار رہنے اور تجدید نو حاصل کرنے کے قابل ہے۔ مندرجہ
ذیل مضمون میں ہم شمسی توانائی کے ماضی ، حال اور مستقبل کا مختصر سا جائزہ پیش
کرتے ہیں۔
بالواسطہ شمسی توانائی
بائیو میس:۔ لکڑیوں اور خشک فصلو ں سے حاصل ہونے والے ایندھن
کو بائیو میس ایندھن کہا جاتا ہے ۔ پودے سورچ سے توانائی لیتے ہیں اور فوٹو
سنتھیسس میں استعمال کرتے ہیں ۔ ایک صدی پہلے تو لکڑیاں ہی ایندھن کا سب سے بڑا
ذریعہ تھیں آج اگرچہ توانائی کی دوسری اقسام بھی استعمال میں آچکی ہیں لیکن پھر
بھی بائیو میس توانائی کی سب سے بڑی قسم ہے۔
ہوائی طاقت:۔ سمشی برق کا سب سے سستا ذریعہ ہوائی
طاقت یعنی ونڈ پاور ہے ۔ شمسی توانائی کی وجہ سے مختلف علاقوں کے ہوائی دباؤ میں
ظاہر ہونے والی کمی بیشی ہوائی عوامل ضائع کرتی ہے۔ توانائی کی یہ قسم ٹربائن چلانے میں مدد کرتی ہیں جو بجلی پیدا کرنے
میں کام آتی ہے ۔ شمالی علاقوں کے سنگلاخ پہاڑوں میں چلنے والی ہوا کی اوسط رفتا
ر 21 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے جو بجلی پیدا کرنے کے لیے مثالی حالات ظاہر کرتی ہے ۔
شمسی توانائی پر ہونے والی
موجودہ ریسرچ:۔ آج کل شمسی توانائی پر ہونے والی ریسرچ بھی نیوکلئیر
توانائی پر ہونے والی ریسرچ جیسی ہے۔ دونوں میں زیادہ تر توجہ تکنیکی آپشنز اور آزمائشی فوائد پر ہوتی ہے۔
مثلا پاور ٹاور ہی لے لیں یہ ایک ایسا سسٹم ہے جو شمسی توانائی کو
ایک بڑے پیمانے پر اکٹھا کرتا ہے اور ایسی حرارت میں تبدیل کر دیتا ہے جو بجلی
پیدا کرنے میں کام آتی ہے ۔ اس عمل کے دوران ایک بڑے سے میدان میں عد سے رکھے
جاتے ہیں جو سورج کی روشنی کو ایک مخصوص سمت میں مبذول کر کے حرارت کو اکلوتے برائل
تھرمل سسٹم پر مرکوز کرتے ہیں اس سارے کام کا مقصد دن کے درمیانے حصے کے بوجھ کو پورا
کرنا ہوتا ہے جیسا کہ استعمالات سے ظاہر ہوا ہے۔ بادلوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے
کے لیے ایک ایسے تھرمل سٹوریج کو استعمال کیا جاتا ہے جو تیل سے بھرا ہوا ہو۔ اس
سارے پلانٹ کو لگانے کا خرچ نئے ری ایکٹر سسٹم کو لگانے کے برابر بھی نہیں ہے۔ تاہم
یہ آزمائشی پاور اسٹیشن بجلی پیدا کرنے کے مرکزی طریقے کار پر زور دیتا ہے ۔ شمسی
توانائی ایک بڑا جمہوری قسم کا عمل ہے ۔ توانائی کی دوسری اقسام میں ہم دیکھتے ہیں
کہ ہر توانائی کا کوئی نہ کوئی مرکز ہے لیکن شمسی توانائی کے معاملے میں ہمیں
معلوم ہوتا ہے کہ خود فطرت نے اسے بے مرکز رکھا ہوا ہے۔
کلیکٹر سسٹم :۔ شمسی توانائی کے
اس شعبے میں ان میٹریلز پر ریسرچ کی جاتی ہے جو شمسی توانائی کو اچھی طرح جذب کرنے
کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ ایسے میٹریل کو تلاش کرنے کا مقصد عام طور پر گھریلو تلابوں
کو گرم رکھنا اور سردیوں میں گھر کے اندرونی حصوں کو حرارت اور گرم پانی کی فراہمی
ممکن بنانا ہے۔
شمسی توانائی کے دوسرے استعمالات
میں سے ایک اس کا صعنتی میدانوں میں استعمال ہونے والی بھاپ پیدا کرنا ہے۔ مثال کے
طور پر لوہے سے متعلق صعنتیں ساری توانائی کا 23 فیصد حصہ خرچ کر لیتی ہیں ۔ ذرا
تصور کریں اگر شمسی توانائی کو استعمال میں لایا جائے تو کتنے ارب روپے بچائے جا
سکتے ہیں۔ شمسی توانائی کا ایک اور استعمال کاشت کاری میں استعمال ہونے والے پانی
کے پمپوں کو چلانا ہے ۔
فوٹو وولٹائی سیل :۔ فوٹو وولٹائی سیل
وہ اختراعا ت ہیں جو سورج کی روشنی کو مکینکیل جنریٹروں اور تھرمو ڈائنامیک سائیکلوں سے گزار کر بجلی میں تبدیل کرتی ہیں ۔
فوٹو وولٹائی کا مطلب ہے ایسی روشنی جو بجلی میں تبدیل ہو جائے اس عمل میں سورج کی
روشنی میں شامل فوٹونز سیلی کونز کے آزاد الیکٹرانو کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ یہ
عمل سب سے پہلے اٹھارہویں صدی میں دریافت ہوا تھا ۔ فوٹو وولٹائی سیل جو 1950 میں بیل
لیبز پر تیار ہوئے تھے شروع شروع میں خلائی استعمال میں لائے جانے والے تھے ۔ مثال کے طور ہبل ایک ایسی دوربین ہے جو شمسی
پینلوں کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے ۔