اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 23 Apr 2008 01:38:00

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات (حصہ سوئم) - صحفہ نمبر 6

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات. . . . حصہ سوئم

           ایجادات کی فہرست کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ تین قسم کے دماغ مصروف عمل رہے ہیں۔ ایک جنہوں نے لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے اور آسانیاں پہنچانےکے لیے کام کیا جیسے سائسندان اور فنون و لطیفہ سے متعلق لوگ ۔ دوسرے وہ جنہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پر امن اور صلح و صفائی سے رہنے کے لیے اخوت ، قربانی اور خدمت کے درس دیے جیسے مذہبی اور اخلاقی پیشوا۔ اور تیسرے وہ جنہوں نے لوگوں کی ضرورتوں اور تکلیفوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا یعنی کاروباری اور سیاسی ذہن کے لوگ ۔

            اگر دنیا میں تعصب کی تاریخ ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو چاہے رنگوں نسل کا تعصب ہو یا  زبان اور ثقافت کا ، جغرافیائی حدود کا تعصب ہو یا قدرتی خوبصورتی کا ہر تعصب کے پیچھے کسی نہ کسی سیاستدان یا کاروباری انسان کو ہاتھ نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ  مذہب و اخلاقیات کا تعصب بھی انہی سیاسی اور کاوباری ذہن کے لوگوں نے قائم کیا ہے۔

مندرجہ بالا ایجادات کی فہرست سے ایک اور بات یہ سامنے آتی ہے کہ ایجادات صرف سائنسی نظریات یا طرز فکر تک محدود نہیں تھیں  بلکہ معاشرت ، ثقافت  اور اعتقادات وغیرہ بھی نئے نظریات یا خیالات سے تبدیل ہوتے رہے ہیں ۔ غور سے دیکھنے پر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان سب سائنسی ،ثقافتی ، اور مذہبی تبدیلیوں کا ایک دوسرے سےگہرا تعلق ہو۔ ہمیں یہ کہنے کا جواز نہیں ملتا کہ معاشرتی تبدیلیاں سائنسی اور مذہبی تبدیلیوں سے  علحیدہ جاری رہی ہیں اسی طرح ہم یہ نہیں کہے سکتے کہ مذہبی تبدیلیاں معاشرتی اور سائنسی تبدیلیوں سے علحیدہ جاری رہی ہیں۔  اگر کہنا پڑتا ہے تو یہی کہ سائنسی تبدیلیاں ہی وہ تبدیلیاں ہیں جو اپنے ہی سلسلے میں چلتی آرہی ہیں اور یہ کہ معاشرتی اور مذہبی تبدیلیاں سائنسی تبدیلیوں اور کی دوسری یا تیسری صورت ہے۔ سائنسی تبدیلیوں کا اگر کسی سے تعلق ہےتو آبادی کے بڑھنے اور ضروریات زندگی کے پورا ہونے یا نہ ہونے سے نظر آتا ہے۔  جس طرح آبادی کا بڑھنا ایک فطری عمل ہے اسی طرح سائنسی ایجادات بھی کسی فطری عمل کے  تحت وجود میں آتی محسوس ہوتی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے اگر یہ خیال کیا جائے کہ دنیا کی تمام آبادی ہوموہیبلیز کی زندگی بسر کر رہی ہے تو یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اتنے زیادہ اانسانوں کی ضروریات کیسے پوری ہو سکتی ہیں۔ ہمیں یہی کہنا پڑتا ہے کہ کوئی ان دیکھی قوت سائنسی ایجادات کی صورت میں  انسانی ضروریات کو پورا کرتی رہی ہے۔  تحقیق اور جستجو انسانی مزاج کا حصہ سہی لیکن ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ لگ بھگ تمام سائنسی ایجادات محض اتفاق سے منظر عام پر آئی ہیں۔ اور یہ کہ بہت سی ایجادات فطرت میں مخفی طور پر موجود تھیں بات صرف یہ ہوئی کہ وقت آنے پر انسان کی کوششوں کے نتیجے میں منظر عام پر آگئیں ۔ چار وناچار ہمیں کسی ایسی قوت کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے جو ان ایجادات کو  منظر عام پر لانے میں کارفرما رہی ہے۔

Previous 1 2 3 4 5 6







(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں


  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier