ایجادت
|
کب ہوئیں
|
کہاں ہوئیں
|
کیا اثرات چھوڑے
|
|
رتھ یا بگی
|
1 ہزار 4 سو سال قبل مسیح
|
مصر
|
|
|
سٹیل
|
1 ہزار 4 سو سال قبل مسیح
|
ہٹی (آج کا ترکی)
|
|
|
برش
|
مصر
|
1 ہزار 4 سو سال قبل مسیح
|
جانوروں اور انسانوں کے بالوں کو
سنوارنےکے لیے استعمال کیا گیا ۔
|
|
دھاتی تلواریں
|
1 ہزار 2 سو سال قبل مسیح
|
مصر
|
تلوار اپنے وقت کی اتنی ہی بڑی ایجاد ثابت
ہوئی جتنی کہ بعد میں بندوق یا مزائل کی ایجاد ثابت ہوئی۔
|
|
جہاز رانی
|
1 ہزار 2 سو سال قبل مسیح
|
فنیشیاء
|
قطبی ستارے کو متفقہ طور پر رہنما تسلیم
کیا گیا
|
|
ڈکشنری
|
1 ہزار سال قبل مسیح
|
چین
|
ڈکشنری جسے 2004 سو سال بعد ڈاکٹر جانسن
نے انگلینڈ میں دوبارہ متعارف کروایا۔ بنیادی طور پر ایک ایسی پرانی ایجاد ہے جو
اپنے وقت کے لوگوں کی علمی اور لسانی جدوجہد کا پتہ دیتی ہے۔
|
|
پتنگ
|
1 ہزار سال قبل مسیح
|
چین
|
|
مندرجہ بالا اعداد و شمار اور طوائف و ضوابط سے یہ
بات واضح ہوتی ہے کہ جوں جوں ایجادات کا استعمال زور پکڑتا گیا انسان مجموعی یا
معاشرتی زندگی کی طرف راغب ہوتا گیا۔ یہی
وہ معاشرتی زندگی تھی جس نے نہ صرف شہروں کے قیام کی اہمیت واضح کی بلکہ بادشاہوں
کی موجودگی کی ضرورت کا بھی احساس دلایا۔ جن لوگوں نے بے غرض ہو کر لوگوں کو ایک
دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی وہ مذہبی یا اخلاقی پیشوا کہلائے اور جن لوگون
نے خود غرض بن کر لوگوں کی قوت اور دولت پر قبضہ جمانے کی کوشش کی وہ سیاست دان
اور بادشاہ کہلائے۔ مذہبی اور اخلاقی پیشواؤں نے لوگوں کو رنگ و نسل سے بالا تر ہو
کر انسانیت کی سطح پر رہنا سکھایا جب کہ سیاست دانوں نے تعصب ، علحیدگی پسندی،
فوقیت اور نسل پرستی کے بیج بوئے۔ ہر مذہبی پیشوا نے لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب
کرنے کے لیے رواداری، برداشت ، صبر ، قناعت ، وغیرہ کے اصول سمجھائے ، جبکہ ہر
سیاست دان نے لوگوں کو ایک دوسرے سے علحیدہ کرنے کے لیے نفرت ، حسد ، انتقام ،
مقابلہ اور برتری کی فضاء قائم کی ۔ اگر
دنیا کے انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سے کوئی نقصان ہوا ہے تو صرف یہ ہوا ہے
کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کا رجوع تسلیم کرنا پڑا ہے۔