اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Tue, 22 Apr 2008 07:26:00

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات (حصہ دوئم)

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات کے پس منظر میں حصہ دوئم

 میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ حضرت عیسی کی پیدائش سے پانچ لاکھ سال پہلے جب ہوموسیپینز نے خیموں کا استعمال شروع کیا تو معاشرے میں ایک بہت بڑا انقلاب آگیا۔ لوگ جو اب تک غاروں تک محصور تھے کھلے میدانوں میں جا بسے اور زمین کے دوسرے حصے بھی آباد ہونے لگ گئے۔ پتھر کے اوزاروں، ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑوں، اور ہڈیوں یا پتھروں سے بنائے ہوئے چاقوں چھڑیوں نے زمین پر بسنے والے درندوں کا خوف ختم کر دیا۔ اور لوگ اپنے آپ کو خودمختار سمجھنے لگے۔ آگ کا استعمال ایک ایسی ایجاد تھی جس نے لوگوں کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ تمام تر مخالفتوں اور خدشات کے باوجود ان ایجادات کا استعمال رواج پاتا گیا اور آہستہ آہستہ ان کے بغیر زندہ رہنا ناممکن نظر آنے لگا۔  

ایک اور حقیقت جس کا ہم بڑی آسانی سے تصور کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان ایجادا ت کے استعمال کی وجہ سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر برتری حاصل ہوگئی۔ تو انہی میں سے کچھ لوگون نے اس برتری کی کچھ حدود و قیود مقرر کرنے کی کوشش کی۔ وہ حدود و قیود پہلے اخلاقی قوانین قرار پائے جن کو توڑنا اتنا آسان نہیں تھا ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہی اخلاقی قوانین اس معاشرے کی ثقافت اور تمدن کے محافظ تھے۔ پرانے طور طریقے جو ان ایجادات کے استعمال سے پہلے رائج تھے آہستہ آہستہ ختم ہوگئے۔

   حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے دس ہزار سال پہلے تک دنیا کے بہت سے حصوں میں آنسانی آبادیاں قائم ہو چکی تھیں۔ ہر آبادی نے تھوڑی بہت رد و بدل کے بعد جو زیادہ تر ماحول اور ضروریات پر مبنی تھی، اپنی ایک الگ ثقافت اور ضابطہ حیات مقرر کر لیا تھا۔ اسی دوران کچھ اور ایجادات بھی سامنے آئی ہوں گی لیکن ہم ان کی تاریخی حیثیت سے بے خبر ہیں۔  بہر حال جن ایجادات کی تاریخ ہم تک پہنچ سکی ہے وہ کچھ اس طرح ہیں۔


ایجادات کب ہوئیں کہاں ہوئیں کیا اثرات چھوڑے

مستقل رہا ئش

9 ہزار سال قبل مسیح

 

میسو پوٹامیا

جدید عراق میں قائم ہونے والی یہ رہائشیں پہلے باقاعدہ معاشرے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اکٹھے رہنا کے لیے انسان کو کسی نہ کسی قاعدے قانون کی ضرورت ضرور ہوتی ہے۔

تانبے کا استعمال

9ہزار سال قبل مسیح

 

میسو پوٹامیا

تانبے کے استعمال نے جہاں بہت سی ضروریات کو پوراکیا وہاں طرز زندگی اور عقائد پربھی گہرے نقوش چھوڑے۔ لوگوں کا معاشرتی طرز فکر یکلخت بدل گیا آپ کے تعلقات متاثر ہوئے اور نئی نئی اخلاقیات اور سوچیں جنم لینے لگیں۔

گندم اور زیتون کی کاشت

8 ہزار 5 سوسال قبل مسیح

 

میسو پوٹامیا

اگرچہ لوگوں نے گندم اور زیتون کھانے کی سخت مخالفت کی لیکن خواراک کی قلت کو پورا کرنے کےلیے آخر کار ان کا استعمال رواج پاگیا۔

بھیڑ بکریوں کا گھریلو استعمال میں آنا

8 ہزار 5سو سال قبل مسیح

 

میسو پوٹامیا

لوگ جو ابھی تک گوشت اور پھولوں پر گزارہ کر رہے تھے یا سبزیوں پر بھیڑ بکریوں کے دودھ کا استعمال ان کے طرز زندگی میں انقلاب لے آیا۔ آسانی سے میسر ہونے والے یہ جانور اور ان سے ہاتھ آنے والی غذائی ضرورت بہت سے کمزور لوگوں کی زندگی کا آسرا بن گئی جو شکار کرنے کے قابل نہیں تھے۔

فصلوں والے شہر

8ہزار5سوسال قبل مسیح

 

مشرق وسطی

موجودہ فلسطین میں آباد یہ شہر وہ پہلا ملک تھا جس پر کسی بادشاہ یا حکمران نے باقاعدہ حکومت قائم کی۔ اوراسے زمین کے دوسرے     حصوں سے آنے والے حملہ آوروں سے بچایا۔

ظروف سازی

7ہزار 9سوسال قبل مسیح

 

چین

پتھروں ۔ہڈیوں اور جانوروں کے سینگوں سے بنے ہوئے برتن جو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوراکرنے سے قاصر تھے ایک ایسے حریف کے مدمقابل آئے جس نے بہت جلد انہیں پچھاڑ دیا۔ مٹی کے برتنوں کا استعمال نہ صرف عرضاں تھا بلکہ ساخت اور شکل کے لحاظ سے انتہائی فائدہ مند بھی تھا۔

چاول اور باجرے کی کاشت

7ہزار5سوسال قبل مسیح

 

چین

اگرچہ گندم اور زیتوں کا استعمال چین تک پہنچ چکا تھا لیکن خوراک کی ضروریات اور ان ضرویات کو پرا کرنے میں حائل مشکلات کافی زور پکڑ چکی تھیں۔ چاول اور باجرے کی کاشت نے جہاں ان ضروریات کو پورا کیا وہاں بہت سی مخالفتوں کو بھی جنم دیا جو اگرچہ آہستہ آہستہ ازخود دم توڑ گئیںلیکن ان فصلوں کی کاشت مین ایک بہت بڑی وقتی رکاوٹ ثابت ہوئیں۔

ثور کا گھریلو استعمال

7ہزار5سو قبل مسیح

 

چین

خوراک کی ضروریات کو انقلابی سطح پر پورا کیا گیا اور بے شمارقدریں وجود میں ائیںٓ

  بالکنیوں والی چھتیں

7ہزار5سوسال قبل مسیح

 

مشرق وسطی

رہنے سہنے میں آرائش و زیبائش کا ترقی یافتہ تصور اسی ابتداء کا مرہون کے منت نظر آتا ہے۔

کیلے کی کاشت

7ہزارسال قبل مسیح

نیوگنی

 

گنےکی کاشت

7ہزارسال قبل مسیح

 

نیوگنی

 

تلوں یا بیجوں والے پودوں جَو وغیرہ کی کاشت

7ہزار سال قبل مسیح

 

وادیِِ سندھ

 

بیل گائے وغیرہ کا گھریلواستعمال

7ہزار سال قبل مسیح

 

وادی سندھ

گائے بیل اور دوسرے مویشوں کا استعمال وادی سندھ میں رہنے والے لوگون کی زندگی میں انقلاب لے آیا اور ایک ایسی صنعت کی ابتداء ہوئی جس نے نہ صرف بہت سے لوگوں کو دوسروں پربرتری دلا دی بلکہ ان کے رہن سہن اور میل جول کے طریقوں پر بھی اثر انداز ہوئی۔ یہ مویشی نہ صرف غذائی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے استعمال میں لائے گئے بلکہ انسانی طاقت کو مویشیوں کی طاقت کا ساتھ دے کر بڑھانے میں بھی استعمال ہوئے۔

مرغیوںکاگھریلو استعمال

7ہزار سال قبل مسیح

وادی سندھ

 

 

ہل کا استعمال

7ہزار سال قبل مسیح

 

میسو پوٹامیا

یہ ایک ایسی ایجاد تھی جس نے نہ صرف انسان کو اپنی طاقت بچا کر دوسرے کاموں پر صرف کرنے کاوقت مہیا کیا بلکہ جانوروں کی طاقت کو اپنی مرضی اور ضرورتوں کے مطابق استعمال کرنے کا علم بھی سکھایا۔

کافی

7ہزار سال قبل مسیح

ایتھوپیا

 

کھڈی کا استعمال

مشرق وسطی

6ہزار5سوسال قبل مسیح

 کھڈی کے استعمال سے جسم ڈھانپنے کے لیے من پسند ذریعہ ہاتھ آیا اور لوگوں نے موسموں کے مطابق ہلکے اور بھاری لباس پہننا شروع کر دیے۔ آرائش و زیبائش کا رجحان پیدا ہوا اور کپڑوں سے متعلق کئی دوسرے شعبے وجود میں آگئے۔

گدھے اور بلی کا گھریلو استعمال

6ہزار سال قبل مسیح

مصر

 

انجیل کی کاشت

6ہزار سال قبل مسیح

مصر

 

گودام

6ہزار سال قبل مسیح

وادی سندھ

 

خوراک محفوظ کرنے کا یہ تصورمعاشرتی ،ثقافتی اور مذہبی زندگی میں ایک بہت بڑا انقلاب ثابت ہوا

دھاتوں کو پگھلانے اور نئی شکلوں میں ڈھالنے کا آغاز

6 ہزار سال قبل مسیح

 

مشرق وسطی

 

الکحل (شراب)

5 ہزار4سو قبل مسیح

میسوپوٹامیا

 

یادگار عمارتیں

5 ہزار 3 سو قبل مسیح

میسو پوٹامیا

 

بجری یا پتھر کا استعمال

5 ہزار قبل مسیح

یورپ

بجری کا استعمال رہن سہن اور تعمرات میں ایک انقلابی اقدام ثابت ہوا پکے راستوں کی تعمیر کا تصور عام ہوگیا۔ آنے جانے اورجانوروں کے استعمال میں آسانی آگءی

(سرخ) مرچ کی کاشت

5 ہزار سال قبل مسیح

وسطی امریکہ

 

ترازو

5 ہزار سال قبل مسیح

مصر

لین دین کے انتظام میں اس ایجاد یا تبدیلی سے ایک انقلاب برپا ہو گیا۔

شہری ریاستیں اور قومیں

4 ہزار 5سو سال قبل مسیح

 

میسو پوٹامیا، وادی سندھ، مصر، دریاے زرد

اس وقت تک کا سیاسی عروج جو آج ابتداء محسوس ہوتا ہے۔

آلات موسیقی

4 ہزار 5 سو سال قبل  مسیح

 

یورپ، میسو پوٹامیا

ضروریات زندگی کو پورا کرنے اور بہتر رہن سہن کےبعد تفریحی لوازمات کا رواج اس دور کے جدید انسانوں کا پتہ دیتا تھا۔

دھات کا کام

4 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

مصر

 

پُل

4 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

افریقہ

 

گھوڑوں کا گھریلو استعمال

4 ہزار سال قبل مسیح

یورپ

 

بیل سے کھینچنے والا ہل

4 ہزار سال قبل مسیح

 

میسوپوٹامیا

کاشت کاری میں بیل کے استعمال میں ایک انقلاب برپا کر دیا کاشت کی مقدار دو گنا ہو گئی اور جسمانی قوت کا استعمال آدھا رہ گیا

میک اپ اور خوشبوؤں کا استعمال

4 ہزار سال قبل مسیح

مصر

 

سیب کی کاشت

4 ہزار سال قبل مسیح

مشرق وسطی

 

حساب

4 ہزار سال قبل مسیح

میسوپوٹامیا

 

 


 

ایجادات کی تاریخ پڑھتے ہوئے جن حقائق کو عمومی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ اتنے غیر اہم نہیں ہیں جتنے کہ سمجھے جاتے ہیں۔ مثلا یہ حقیقت کہ ہر ایجاد نے اپنے وقت کی کئی اہم ضروریات کو پورا کیا ہے یا  یہ کہ جب بھی ضروریات پیدا ہوئیں کوئی نہ کوئی ایجاد منظر عام پر آگئی۔ انسانی کوششوں کی قدر و قیمت کے ساتھ ساتھ اگر یہ کہا جائے کہ کوئی مخفی قوت بھی اس ایجاد کو منظر عام پر لانے میں کارفرما رہی ہوگی تو شاید بے جا نہ ہوگا۔ دوسرا یہ کہ ہر ایجاد نے نئی طرز فکر اور نئے طرز زندگی کو پروان چڑھایا ہوگا جس سے نئی معاشرت، نئے عقائد اور نئی سیاست پیدا ہوئی ہوگئی۔ ایک اور حقیقت جو اس سارے عمل میں نظر انداز کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی مصروفیات اور مشاغل اس کے ذہن اور جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نئی سوچوں کو جنم دیتے ہیں۔

 

میرے بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ خوراک اور ہمارے زیر استعمال آنے والی دوسری چیزیں ہماری سوچوں پر اثرانداز ہوتی ہیں اور انہیں نئی سمت دینے یا اسی سمت پر آگے بڑھانے میں اپنا ایک پر اسرار کردار ادا کرتی ہیں۔ گوشت سے سبزیوں اور سبزیوں سے گھریلو جانوروں کے دودھ کے استعمال سے انسانی طرز فکر پوری طرح متاثر ہوئی ہوگی اور نئے رویوں نے جنم لیا ہوگا۔  

انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں فرق اس کے کھانے پینے کی عادات اور اقسام میں فرق پرمنحصر ہوتا ہے۔ ہر چیز کے اپنے خواص اور اپنے نقائص ہوتے ہیں جب وہ ہمارے جسم اور خون کا حصہ بنتی ہے تو اس کے خواص اور نقائص کا ہمارے خون مین شامل ہونا لازمی امر ہے۔  جو سبزیاں اور پھل ہم کھاتے ہیں وہ کہاں اگتے ہیں اور جن جانوروں کا گوشت ہم کھاتے ہیں وہ کیسے رہتے ہیں۔ ہماری طبعیت ، ہمارے مزاج اور ہمارا ذہن ان کے اثرات قبول کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ یہی وہ اثرا ت ہیں جو ہماری سوچوں کو بدل کر ہمارے کرداروں اور ہمارے رویوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔  ہماری ثقافت، اخلاقیات اور رجحانات انہی اثرات کے تابع ہیں۔

مندرجہ بالا ایجادات کی فہرست سے یہ گمان ہوتاہے کہ جیسے زمین کے ایک حصے میں رہنے والی انسانی آبادی دوسرے حصوںمیں رہنے والی آبادیوں سے بے خبر تھی۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا ہزاروں میل کی دوری کے باوجود زمین کے بہت سے حصے آپسی آمدورفت سے ایک دوسرے سےجڑے ہوئے تھے۔  ایک ایجاد کو دوسرے حصے کے لوگوں تک پہنچنے اور وہاں رواج پانے میں سینکڑوں سال لگ جاتے تھے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مستقل 9ہزار سال قبل مسیح میں شروع ہونے والا مستقل رہائشوں کا تصور ڈیڑھ ہزار سال بعد مشرقی وسطی میں بنائی جانی والی بالکنیوں تک پہنچ گیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مشرقی وسطی میں صرف بالکنیاں بنائی جاتی تھیں۔ ظاہر ہے مستقل رہائشوں کا تصور اپنانے ، دیواروں اور چھتوں والے گھروں میں رہنے کے بعد ہی بالکنیاں بھی بنانے کا تصور ذہن میں ابھرا ہوگا۔ اسی طرح اگرچہ گندم اور زیتون کا استعمال 8ہزار پانچ سو سال قبل مسیح میں شروع ہوا اور میسو پوٹامیا میں رواج پا گیا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ نیوگنی میں کیلے یا گنے کی کاشت جو ڈیڑھ ہزار سال بعد عمل میں آئی واحد کاشت تھی۔یقیناََ وہ لوگ گندم اور زیتوں کی کاشت سے واقف تھے لیکن گنا اور کیلا انکی اپنی ایجادات یا دریافتیں تھیں۔ اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ وادی سندھ  مین رہنے والے موہنجو داڑو تہذیب کے لوگ گندم اور زیتون کی کاشت سے بھی آگاہ تھے اور ڈیڑھ ہزار سال بعد چین میں شروع ہونے والی چاول اور باجرے کی کاشت سے بھی آگاہ تھے۔ لیکن جَو اور تلوں وغیرہ کی کاشت ان کی اپنی ایجاد تھی جن سے دوسرے علاقوں کے لوگ ابھی واقف نہیں تھے۔ اگر ان مخلتف علاقوں میں بسنے والے لوگوں کا آپس میں کوئی رابطہ نہ ہوتا تو ہو سکتاہے کہ کچھ علاقوں کے لوگ خیموں اور آگ کے استعمال پر ہی قانع بیٹھے رہتے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ زمین کے جن حصوں کا آپس میں رابطہ نہیں ہوگا وہاں کے رہنے والے دوسرے خطوں میں رہنے والے لوگوں کی نسبت جن کا آپس میں رابطہ تھا زیادہ عرصہ تک صرف خیموں اور آگ کے استعمال تک محدود رہے ہوں گے۔

مندرجہ بالا ایجادات کی فہرست سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جانوروں کو استعمال میں لانا اس دور میں ویسا ہی انقلابی قدم تھا جس طرح آج کے دور میں مواسلاتی لہروں کو استعمال میں لانا۔ اسی طرح بجری کا استعمال یا سیب کی پیداواراتنی ہی بڑی صعنت کا درجہ استعمال کر گئی جس طرح آج ریگستانوں کو زرخیز میدان بنانا اور بجلی کو استعمال میں لانا ثابت ہوا ہے۔  دوسری ایجادات کی بھی یہی صورتحال تھی۔ لوگ ان ایجادات کو اپنے فائدے کےلیے بھی استعمال کرتے تھے اور آپس میں تجارتی پیمانے پر لین دین بھی کرتے تھے۔ ہر ایجاد کچھ نئے پیشوں کو جنم دیتی رہی ہے۔ ہر پیشہ نئی مصروفیات پیداکرتا رہا ہے اور ہر نئی مصروفیات نئے رویے۔ ہر ایجاد کے انسانی ثقافت اور اعتقاد پر منفی یا مثبت اثرات کا مرتب ہونا لازمی رہا ہے۔

          ایجادات کے معاملے میں ہم دو طرح سے غور وفکر کر سکتے ہیں ایک تو یہ کہ انسانی ذہن مجموعی ذہن کی شکل میں ترقی کرتا ہے اور متعلقہ ایجادات منصہ شہود پر نمودار ہوجاتی ہے۔ ان کی حیثیت ان اعمال کی سی ہے جو انسان اپنی عمر کے ساتھ ساتھ انجام دیتا جاتا ہے۔ عمر بڑھنے سے اس عمر سے متعلقہ اعما ل کا ظاہر ہونا لازمی بات ہے۔ وقت کے اثرات ہمارے جسم اور ذہنوں پر تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ تقریباََ ایک جیسے مرتب ہوتے ہیں۔ جس طرح وقت اپنی مقررہ مدتوں پر ہمارے جسم میں محصوص علامتیں پیدا کرتا رہتا ہے اسی طرح ہمارے ذہنوں میں کوئی نہ کوئی نئی تبدیلیاں اور ان تبدیلیوں سے ظاہر ہونے والے اعمال سامنے لاتا رہتا ہے۔ پھر ساری دنیا کے انسان ایک مجموعی دماغ اور جسم کو تشکیل دیتے ہیں ایک ایسا دماغ اور جسم جس میں اصل انسانوں کی حیثیت خلیوں کی سی رہ جاتی ہے۔  

    اس کے علاوہ دوسرا امکان اس بات کا ہے کہ وقت نے اپنے اندر ایجادات چھپا رکھی ہیں۔ جو مدتِ مقررہ پر ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ ہر ایجاد کسی ایسی قدرتی کے اختیار میں ہے جس کے اختیار میں موسموں کا آنا جانا، اور درختوں کا خشک یا سبز ہونا ہے۔ ہرایجاد ایک مخصوص ماحول پیدا کرتی ہے اور اس ماحول میں آنے والے انسان ایک نئی ذہنیت کو جنم دیتے ہیں۔ یہ ذہنیت پیشوں کی شکل اختیار کرتی ہے اور پیشے رویوں کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ رویے رہن سہن اور اعتقادات کو تبدیل کرتے ہیں اور مجموعی جسم یا ذہن میں تبدیلی لاتے ہیں۔ یہ تبدیلی ایک اور ایجاد کو جنم دیتی ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔


ایجادات کب ہوئیں کہاں ہوئیں کیا اثرات چھوڑے

پاپ کارن

3 ہزار 6سو پچاس سال قبل مسیح

شمالی امریکہ (آج کا میکسیکو)

 

پہیہ

3 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

سومیریا (آج کا عراق)

پہیہ اپنے وقت کی اتنی ہی بڑی ایجاد تھی جتنی آج کل ہوائی جہاز یا خلائی جہاز کی ایجاد ہے۔ پہیے نے دنیا کے فاصلوں کو سمیٹ دیا کاروباری زندگی میں انقلابی سہولتیں متعارف کروائیں۔ اور نقل مکانی کو آسان اور سہل بنا دیا۔

لکڑی کا کام

3 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

مصر

 

لکڑی، پتھر کا نعم البدل ثابت ہوئی اور رہن سہن کے طریقوں میں نمایاں تبدیلی لائی۔ لکری کی بدولت بے شمار استعاملات آسان ہوئے اور لوگوں کو نئی صعنتوں میں سوچنے کا موقع ملا۔

پانی کی گھڑی

3 ہزار 5 سو سال قبل میسح

سومیریا (آج کا عراق)

 

مکئی اور پھلیوں والے پودوں کی کاشت

3 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

وسطی امریکہ

 

تتر کا گھریلو استعمال

3 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

وسطی امریکہ

 

آلو کی کاشت

3 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

جنوبی امریکہ

 

بادبانوں سے چلنے والی کشتیاں

3 ہزار 5 سو سال قبل مسیح

مصر

 

مہروں کا استعمال

3 ہزار 3 سو سال قبل مسیح

سومیریا (آج کا عراق)

 

لکھنے لکھانے کا رواج

3 ہزار  3سو سال قبل مسیح

سومیریا (آج کا عراق)

شروع شروع میں تصویری لکھاءی نے رواج پایا اس کی وجہ اہم معلومات کو رازدرانہ طریقے سے اگلی نسل تک پہنچانا تھا۔ حروف میں لکھنے کا رواج معلومات کو اس وقت کے دوسرے موجودہ لوگوں تک پہنچانا تھا۔

ریشم

3 ہزار2 سو سال قبل مسیح

چین

ملبوسات میں آسائش یا آرائش کی فراہمی طبقاتی نظام اور امراء اور غربا کے امتیاز کی علامت رہی ہے

پاپوش یا جوتے

3 ہزار 2 سو سال قبل میسح

یورپ

ہرن اور ریچھ وغیرہ کی کھالوں کا نیا استعمال جس نے آنے والی صدیوں میں ایک اہم ضرورت اور بہت بڑی صعنت کا درجہ اختیار کرنا تھا ۔

مٹی اور پتھر کے بند

 3 ہزار 2 سو سال قبل مسیح

مشرقی وسطی (آج کا اردن)

 

نکاسی کا نظام

3 ہزار 1 سو سال قبل میسح

وادی سندھ

 

دھوپ گھڑی

3 ہزار سال قبل مسیح

مصر

 

اینٹوں سے بننے والی عمارتیں

3 ہزار سال قبل میسح

مصر اور سومیریا

اینٹ کا استعمال اپنے وقت کا ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ پتھر کا نعم البدل اور آسانی سے بننے والی اینٹ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ایک سستا میٹریل ثابت ہوئی۔

شیشہ

3 ہزار سال قبل میسح

مشرقی وسطی (موجودہ شام اور لبنان)

 

موم بتیاں

3 ہزار سال قبل مسیح

مصر

اندھیرے کو کام میں لانے اور اس کے منفی اثرات سے بچنے میں موم بتی کی ایجاد نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

کانسی کا استعمال

3 ہزار سال قبل میسح

میسوپوٹامیا

زرہ سازی کی صعنت جہاں دشمن سے بچنے میں معاون ثابت ہوئی وہاں دشمن پر زیادہ اعتماد سے وار کرنے میں بھی اس صعنت کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

معیاری اوزاں

3 ہزار سال قبل مسیح

مصر

باہمی لین دین میں یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس میں ایک باقاعدہ معاشرہ کی بنیاد ڈالی۔

کھجور کی کاشت

3 ہزار سال قبل مسیح

افریقہ

 

 

میسوپوٹامیا

3 ہزار سال قبل مسیح

کمہارکا پہیہ

 

کاٹن کی کاشت

3 ہزار سال قبل مسیح

جنوبی امریکہ اور وسطی امریکہ

ظروف سازی کی صعنت میں آنے والے اس انقلاب نے لوگوں کے رہن سہن پرایک نمایاں تبدیلی مرتب کی۔ فنون لطیفہ یا حصہ جمالیات سے متعلق چیزوں کی ایجاد نے معاشرے کو مہذب بنانےمیں اہم کردار ادا کیا۔

کوکا کا استعمال

3ہزار سال قبل مسیح

جنوبی امریکہ

کوکا کے پتے نشہ آور چیزوں کے استعمال کی ابتداء معلوم ہوتے ہیں ۔دوسری چڑی بوٹیوں کا استعمال بعد مین شروع ہوا۔

بٹن کا استعمال

3ہزار سال قبل مسیح

وادی سندھ

ملبوسات کے بنانے میں بٹن کا استعمال ایک انقلابی قدم تھا جو اگرچہ آنے والی صدیوں میں متروک رہا لیکن 1235ء میں جرمنوں نے اسے دوبارہ رواج دیا۔