ایجادات کی مندرجہ بالا فہرست کے اندر موجود حقائق کو محسوس کرنا اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ ہم
بڑی آسانی سے کہہ سکتےہیں کہ موجودہ دور تک چلی آنے والی چھ سات ایجادات کو ظاہر
ہونے میں 26 لاکھ سال لگے وہ ایجادات بھی تقریباََ تمام کی تمام آج متروک ہوچکی ہیں۔ آج ہمیں ان
کا ذکر یا تو کتابوں میں ملتا ہے یا مختلف ملکوں کے عجائب گھرون میں۔ اگر ہم غور کریں تو ہمیں
معلوم ہوگا کہ 26 لاکھ سال میں کتنی ہزار نسلیں ، کتنے کروڑ انسان آئے اور آکر
چلے گئے۔ ان کی بھی کوئی زبان ہوگی ، کوئی ثقافت ہوگی ، کوئی مذہب ہوگا ، لیکن سب
کچھ ختم ہوگیا اور ختم بھی صرف اگلی ایجادات
کی وجہ سے ہوا۔ 28 ہزار سال پہلے شروع
ہونے والی مصوری اس وقت کی مہذب ترین قوم کی علامت ہوگی ۔ پرانی قومیں جو اس اظہار
سے نابلد تھیں وحشی اور بہیمانہ قومیں شمار ہوئی ہوں گییں۔ فنون لطیفہ کےاس
استعمال نے نئی قوم کے رہن سہن کو متاثر کیا ہوگا اور دوسری قوموں نے یا تو ان کی
تقلید کی یا ان کے اس ملحدانہ یا غیر روایتی عمل کو اپنے عقائد اور تمدن پر بہت
بڑی یلغار سمجھا ہوگا ۔ بہرحال جن قوموں نے فنون لطیفہ کا یہ معاشرتی استعمال سیکھ
لیا وہ تو بچ گئیں اور باقی اپنی روایات اور ثقافت کا دفاع کرتے ہوئے ماری گئیں۔ یہی
حال کھانے پکانے کے لی ےچولہے اور تنور کے استعمال پر ہوا ہو گا اور یہی کچھ گنتی
،چراغوں ، کتوں ، ڈھولوں اور کشتیوں کے استعمال
پر ہوا ہوگا۔ تقریباََ 18 ہزار سال پر محیط یہ چند ایجادات اتنی آسانی سے
رواج نہیں پا سکی ہوں گی ۔
آج تاریخ کی کتابوں میں ان ایجادات کا ذکر پڑھتے ہوئے
جو نقطہ ہم بھول جاتے ہیں وہ یہی ہے کہ ان ایجادات کو رواج پانے اور ان کے استعمال
کو عام ہونے میں انہی ثقافتی ، لسانی ، مذہبی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
ہوگا جو موجودہ ایجادات کو رواج پانے اور استعمال میں آنے کی راہ میں کرنا پڑ رہا
ہے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہےکہ ہر ایجاد کو استعمال میں لانے اور پرانے رویوں کو
ترک کرنے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا ہوگا ، اورلوگوں نے نئ ایجادات کو ہنسی
خوشی تسلیم کر لیا ہوگا۔ لیکن میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوا ہوگا۔ دنیا کا کوئی دور ایسا نہین گزرا جس مین انسان
کسی نہ کسی عقیدے ، یقین ، ایمان اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تہذیب ،
تمدن، ثقافت کا حامی نہ رہا ہو۔ تاریخ کے ہر دور میں لوگوں کا رہن سہن ان کے عقائد کے تابع رہا ہے۔ رہن سہن میں تبدیلی عقائد میں تبدیلی ہی شمار
ہوتی رہی ہے ، اور ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ عقائد مین تبدیلی
اتنی آسانی سے نہیں آتی رہی ۔ بیشمار لوگوں کی قربانیاں ، زندگیاں اور نظریات اس
تبدیلی کی بنیادیں بنتے رہے ہیں۔
آپ تصور کریں کہ 26 لاکھھ سال پہلے، جب ہر کوئی صرف پتھروں کے اوزار استعمال کرتا
تھا کیا ان کی کوئی ثقافت اور مذہب نہیں
ہوگا ، اور کیا انہیں اپنی ثقافت اور اپنے مذہب سے جذباتی وابستگی نہیں ہوگی۔ میں
کہتا ہوں یقیناََ ہوگی ۔ یقیناََ پتھروں کے بطور اوزار استعمال کو ثقافت سے نکال
کر مذہبی اہمیت دی گئی ہوگی اور کسی دوسری چیز سے مارنے کا یا تو تصور ہی نہیں
ہوگا اور اگرہو گا بھی تواسے نا پسند کیا جاتا ہوگا۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ان
لوگوں کے ذہن میں مذہب کا تصور کیسا ہوگا ، لیکن ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کسی
نہ کسی مذیب کا تصور ہوگا ضرور۔ اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اپے رہن سہن کے
انداز سے بھی محبت ہوگی اور وہ اس مین تبدیلی کو اچھا شگن شمار نہیں کرتے ہوں گے۔